Mussafah, Aziat Aur Social Media Ka Katehra

مصافحہ، اذیت اور سوشل میڈیا کا کٹہرا

مولانا طارق جمیل صاحب سے پہلی بار مصافحہ 2003ء میں کیا تھا۔ ان سے عقیدت تھی اور ان کے بیانات سننے کا بے حد شوق تھا۔ اُس زمانے میں مولانا فیصل آباد کی جامع مسجد عائشہ میں جمعہ پڑھاتے تھے۔ وہاں ہزاروں کا مجمع ہوتا اور لوگ صبح سویرے ہی بیان سننے کے لیے مسجد پہنچ جاتے۔ ہم نے اُس دور میں کئی بار مولانا کے پیچھے نمازِ جمعہ ادا کی۔ اکثر دیکھا کہ نماز جمعہ کے بعد لوگ مصافحہ کے لیے بے تاب ہو کر آگے بڑھتے۔ بدانتظامی سے بچنے کے لیے انتظامیہ یہ ترتیب بناتی کہ مولانا منبر کے قریب کھڑے ہو جاتے اور لوگ قطار بنا کر ان سے ملتے۔ اُس وقت کئی بار دل میں خیال آتا کہ یہ مولانا کی ہمت ہے کہ وہ ہزاروں افراد سے مصافحہ کرنے کے لیے تقریباً ایک گھنٹہ مسلسل کھڑے رہتے ہیں۔

​اُسی دور میں مختلف مقامات پر ان کے بیانات سننے کا موقع ملا، جہاں یہی منظر ہوتا۔ بیان ختم ہوتے ہی سینکڑوں افراد مصافحہ کے لیے لپکتے اور مولانا کو مروتاً سب سے ملنا پڑتا۔ چونکہ ہم جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد میں زیرِ تعلیم تھے، اس لیے وہاں جید علماء، مشائخ اور علمی شخصیات کی آمد و رفت رہتی تھی۔ آئے دن کوئی نہ کوئی بزرگ جامعہ تشریف لاتے اور طلبہ سے خطاب کرتے۔ بیان کے بعد سینکڑوں طلبہ........

© Daily Urdu (Blogs)