Aik Aur Shahadat: Sanehe Se Jure Talkh Haqaiq

ایک اور شہادت: سانحے سے جڑے تلخ حقائق

شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریسؒ کی المناک اور ظالمانہ شہادت نے پورے ملک کو غم و اندوہ میں ڈبو دیا ہے۔ یہ محض ایک فرد کا قتل نہیں، بلکہ علم، اعتدال اور دینی بصیرت کے ایک روشن چراغ کو بجھا دینے کے مترادف ہے۔ مولانا ادریسؒ اپنے عہد کے ممتاز اور بلند پایہ عالم دین تھے۔ بیک وقت ملک کی دو بڑی دینی درسگاہوں جامعہ نعمانیہ اتمانزئی اور جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک میں دورہ حدیث کے شیخ الحدیث کی ذمہ داری نبھانا ان کا ایک نادر امتیاز تھا۔ ہزاروں طلبہ کو حدیثِ نبوی ﷺ کی تعلیم دینا، مسلسل علمی مصروفیات میں مشغول رہنا اور عوامی سطح پر اصلاحی بیانات کے ذریعے رہنمائی کرنا ان کی زندگی کا معمول تھا۔

اس عظیم شخصیت کی شہادت پر محض افسوس کا اظہار کافی نہیں، بلکہ اس سانحے سے جڑے تمام پہلوؤں پر سنجیدہ غور و فکر بھی ناگزیر ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس ملک میں برسوں سے جید علمائے کرام نشانہ بنتے آ رہے ہیں، مگر نہ ان کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکا اور نہ ہی بیشتر کیسز میں........

© Daily Urdu (Blogs)