Kal Se Parhunga, Talib Ilm Ki Lazawal Kahani |
"کل سے پڑھوں گا"، طالب علم کی لازوال کہانی
پاکستان میں اگر کسی جملے کو قومی نعرہ قرار دے دیا جائے تو شاید وہ ہوگا: "کل سے پڑھوں گا"۔ یہ وہ تاریخی جملہ ہے جو ہر طالب علم اپنی زندگی میں ہزاروں بار بولتا ہے، مگر وہ "کل" آخرکار کبھی نہیں آتا۔ وقت بدل جاتا ہے، کلاسیں بدل جاتی ہیں، کتابیں بدل جاتی ہیں، لیکن طالب علم کا یہ عزم کبھی نہیں بدلتا۔
طالب علمی کا آغاز بڑے جذبے سے ہوتا ہے۔ نئے بستے، نئی کاپیاں، رنگ برنگے ہائی لائٹر اور دل میں بڑے بڑے خواب۔ ہر طالب علم سال کے شروع میں یہی سوچتا ہے کہ اس بار وہ روزانہ پڑھے گا، وقت ضائع نہیں کرے گا اور کلاس کا سب سے ذہین طالب علم بنے گا۔ مگر یہ جذبہ عموماً پہلے ہفتے تک ہی زندہ رہتا ہے۔ اس کے بعد موبائل فون، دوستوں کی محفلیں، کرکٹ میچ، ریلز اور نیند اپنی اصل طاقت دکھانا شروع کر دیتے ہیں۔
جب بھی پڑھنے کا وقت آتا ہے، انسان کو اچانک دنیا کے سارے ضروری کام یاد آنے لگتے ہیں۔ کبھی کمرہ صاف کرنا ضروری ہو جاتا ہے، کبھی الماری ترتیب دینا یاد آ جاتا........