Rangers Ki Shahadat, Afridi Ki Rehlat Aur Dil Kharash Qatal
رینجرز کی شہادت، آفریدی کی رحلت اور دلخراش قتل
اس بار کراچی کے سفر میں اندوہناک واقعات سننے کو ملے۔ رینجرز کے جوانوں کی شہادت، کراچی کے تاجر اور پھر ننھی پری کا بہیمانہ قتل، اس پر اگر نوحہ گر لکھتا کہ ایسے دلخراش واقعات پہ قلم آرائی میرے لیے ممکن نہیں۔ پھر خوش گفتار و منکسر المزاج سنیٹر تاج محمد آفریدی کی ٹریفک حادثہ میں رحلت!
کوئٹہ کی سیر کو جانے والے کراچی کے تاجر علی مرتضی اور اپنے آبائی علاقے کی راہ پر سنیٹر تاج محمد آفریدی کو کیا معلوم تھا کہ وہ اپنے سفر آخرت پر ہیں، بلوچستان اب سیر و سیاحت کی جا نہیں رہا کہ کسی لمحے سفاک و بے رحم لوگوں کے ہاتھوں نامعلوم سمت سے آنے والی گولی کسی علی مرتضی کی جان لینے کو کافی۔ سوال یہ کہ آج تک ہر صوبائی حکومت اور اپوزیشن بلوچستان کی محرومی کا رونا ہی روتی رہی مگر حکومتوں اور صوبائی اداروں نے دستیاب وسائل کے ہوتے ہوئے رونے کے سوا اور کیا کیا؟
ہر سال بجٹ میں خصوصی اعلانات، مشرف دور میں بلوچستان کے لیے کیے گئے اقدامات و مآ بعد کی حکومتوں کی ترجیحات میں عوام کدھر؟ جبکہ گزشتہ کئی سالوں سے عسکری قیادت بھی بلوچ عوام کی تعلیم پر خصوصی توجہ دے رہی ہے مگر عجب کہ اب تک کے اقدامات و اعلات کے اثرات 45 لاکھ والے صوبے کے عوام تک کیوں نہیں پہنچ پا رہے؟
کیوں ہر حکومت، ہر قیادت قومی وسائل وڈیروں، سرداروں اور طاقتوروں کے حوالے کرکے بری الذمہ ہو جاتی ہے؟
اور کیوں آج بھی صوبائی حکومت اور ریاستی مشینری سرداروں اور وڈیروں کے رحم و کرم پر؟ اس........
