Mazahmat Ki Daldal Mein Phansta Hathi |
مزاحمت کی دلدل میں پھنستا ہاتھی
موجودہ دنیا اور اقوام عالم سے تعلقات جذبات کے متقاضی ہیں اور نہ نعروں کے محتاج، مفادات دیکھ کر حکمت عملی ترتیب دی جاتی ہے اور دوستوں اور طاقتوروں کے درمیان توازن قائم رکھنا ہی کامیابی کی ضمانت۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان پہلی بار اپنی تاریخ کے مشکل ترین سفارتی محاذ پر نبرد آزما ہے کہ ایک طرف سعودیہ سے دفاعی معائدے کے تقاضے ہیں تو دوسری طرف امت مسلمہ کا حیا اور عوامی جذبات، بدمست ہاتھی سے عزت اور معیشت بھی بچانی ہے تو اسرائیلی، بھارتی اور افغانستان کی ریشہ دوانیاں بھی ناکام بنانی ہیں۔
یہ کام اس وقت مزید مشکل ہو جاتا ہے کہ جب ملک کے اندر کے کچھ ناعاقبت اندیش سفارتی پل صراط سے پاکستان کو گرانے کے لیے سوشل میڈیا کے محاذ پر سرگرم ہوں صد شکر کہ فیلڈ مارشل کہ جو اس وقت چومکھی لڑائی میں مصروف اور خارجہ محاذ بھی سنبھالے ہوئے ہیں سعودی عرب کو باوجود دباو کے ایران کے خلاف فضائی و زمینی حدود کے استعمال سے روکے ہوئے ہیں اور ایرانی حملوں کے جواب سے بھی، سید عاصم منیر اگر ایران اور سعودی عرب کو آمنے سامنے آنے سے روکنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یقین جانئیے کہ ایٹمی طاقت کے بعد شاید یہ پاکستان کی سب سے بڑی کامیابی کہ 30 لاکھ سے زائد پاکستانی سعودی عرب میں اور یہاں سے آنے والا زر مبادلہ دم توڑتی معیشت کی سانسیں بحال رکھے ہوئے........