Daur e Jadeed Ke Ghunde |
کمزور ممالک کو جارحیت کا نشانہ بنانا اب تو امریکہ کا مشغلہ اور دنیا اس کے ہتھیاروں کی تجربہ گاہ بن چکی ہے۔ امریکہ نے اپنے اسلحہ کے عملی استعمال کے لیے اسرائیل کو تیار کیا ہوا ہے جبکہ تجربہ گاہ ٹکڑوں میں بٹی مسلم ریاستیں۔ ایک طرف جدید ٹیکنالوجی کا رعب تو دوسری طرف اپنے اسلحہ کی انڈسٹری کا فروغ کہ جس سے امریکی صدور اپنی انتخابی مہمات میں خاطر خواہ حصہ پاتے ہیں۔
امریکہ کو اب اقوام متحدہ کی اجازت کے تکلف کی عادت بھی بھولتی جا رہی پے اور جدید دور میں دور قدیم کے ضوابط پر اسے کوئی عار یا شرم نہیں کہ درپردہ نام نہاد مہذب مغرب انسانیت کشی اور بالخصوص مسلمانوں کے خلاف قتل و غارت گری میں اس کا ہم نوا ہے۔ مگر وینزویلا کے بعد گرین لینڈ اور ایران پر نظریں دنیا کے ہر خطہ کے قدرتی ذخائر پر قبضہ کی خواہش نے یورپ کو سراسیمہ کر رکھا ہے اور وہ طاقتور ممالک کے آس پاس اور تجدید تعلقات کرتے دکھائے دیتے نظر آتے ہیں۔
کس نے سوچا تھا کہ کینیڈا اور برطانیہ جیسے ممالک چین کے پاس دہائی لے کر جائیں گے۔ مگر امریکی صدر ٹرمپ کے عزائم نے سب کچھ بدل دیا ہے۔ تیسری دنیا کے ممالک کے برعکس امریکی انتخابات میں دھن، دھونس اور دھاندلی خوب مگر انداز قدرے مہذب اور منظم۔
دنیا کو جنگوں میں الجھائے رکھنا یا کم از کم ہمہ وقت جنگ کے بادل بنائے رکھنا امریکی پالیسی بھی اور ضرورت بھی کہ اس کی دفاعی انڈسٹری کی بقا کا راز اسی میں اور یہ امریکی دفاعی طاقت کا دبدبہ بھی اور........