2026ء کا دفاعی روڈ میپ اور ریاستی آہنی عزم

نئے سال کا آغاز محض کیلنڈر کی تبدیلی نہیں ہوتا بلکہ یہ زندہ قوموں کے لئے اپنی ترجیحات کی نوک پلک سنوارنے کا لمحہ بھی ہوتا ہے۔نئے سال کے آغاز پر ہر ریاستی بیانیہ محض الفاظ نہیں بلکہ آنے والے مہینوں کی سمت ایک اشارہ ہوتا ہے۔6 جنوری 2026ء کو ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کی رواں سال کی پہلی پریس کانفرنس بھی محض ایک رسمی بریفنگ نہیں تھی بلکہ یہ پاکستان کے داخلی سلامتی کے منظرنامے،سیاست اور خطے کے بدلتے حالات پر عسکری ادارے کے زاویہئ نگاہ کی ایک جامع تصویر تھی۔اسی تناظر میں یہ پریس کانفرنس ایک ایسی کلیدی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے جس نے پاکستان کے داخلی و خارجی محاذ پر ایک نئی ”آہنی لکیر“ کھینچ دی ہے۔اس کانفرنس میں اعدادوشمار بھی تھے جبکہ بالواسط اور بلاواسطہ پیغامات بھی تھے، جنہیں سمجھنے کے لئے ماضی اور حال کو ایک ساتھ پڑھنا ضروری ہے۔دوسری طرف یہ بریفنگ محض اعداد و شمار کا گورکھ دھندا ہی نہیں تھی،بلکہ ریاست ِ پاکستان کی جانب سے اس ”سٹرٹیجک جارحیت“ کا اعلان تھا جو اب دفاعی حصار سے باہر نکل کر دشمنوں کا تعاقب کرنے کا عزم رکھتی ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے گفتگو کا آغاز ایک واضح نکتے سے کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی ایک ادارے کی نہیں بلکہ پوری قوم کی ہے۔اس اہم بریفنگ کا سب سے نمایاں پہلو دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کی وہ ہولناک حقیقت تھی جو اعدادوشمار کی صورت میں سامنے آئی۔اعدادوشمار کی تفصیل نے اس کانفرنس کی اہمیت اور مقصد کو اور........

© Daily Pakistan (Urdu)