سفرِ شوق سے سفرِ آخرت تک (2) |
محمود صاحب کی گفتگو نے مجھے بہت متاثر کیا اور یہ عقدہ کھلا کہ دوسرے راہبر کی کسی ادا سے متاثر ہو کر اُس کا ہو رہنا اور پہلے پہل سیدھی راہ دکھانے والے کی محبت و عقیدت کو بھی دل میں بسائے رکھنا ہی حقیقی راہِ مستقیم ہے۔ اُن کی بات سن کر مجھے یاد آیا امام شافعی ؒ نے امام ابو حنیفہؓ کے مزار پر نماز پڑھی تو رفع یدین نہیں کیا۔ اُن کی اقتدا کرنے والوں نے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟ تو اُنھوں نے جواب دیا کہ مجھے صاحبِ قبر سے حیا آئی کہ انُ کے سامنے اپنی تحقیق پر عمل کروں۔
اسلام آباد سے واپسی پر میں سوچتا آیا کہ پروفیسر صاحب کے کام کو مل جل کر آگے بڑھایا جائے۔ مگر کیسے؟ ہم یہ سوچ ہی رہے تھے کہ صابر بٹ صاحب پھالیہ والے جو رنگ ساز ہیں، نے بتایا کہ میں موہڑہ پھڈیال میں واقع ایک مدرسہ میں رنگ کرنے گیا تو مدرسہ کے مہتمم حافظ محمد عالم صاحب کو بے حد شفیق و مہربان پایا، میں جتنے دن وہاں ٹھہرااُنھوں نے میری خاطر مدارات اس طرح کی جس طرح کسی معزز مہمان کی کی جاتی ہے، اس سے بڑھ کر یہ کہ ایک دن حافظ صاحب نے اجتماعی ذکر کرایا تو مجھے لگا کہ مسجد کے درو دیوار اور گنبد بھی متحرک ہو گئے ہیں۔ بٹ صاحب کی گفتگو سے سامعین بے حد متاثر ہوئے لیکن میں یہ سوچ کر متامل رہا کہ بٹ صاحب رنگ ساز ہیں اور اُنھوں نے اپنے بیان کو بھی مرضی کا رنگ دیا ہو گا۔ جب بٹ صاحب نے دیکھا کہ اُن کی باتوں کا مجھ پر اتنا اثر نہیں ہوا جتنا دوسروں پر ہوا ہے اور یہ نہ ہو کہ میں دوسروں کو بھی بدظن کر دوں تو اُنھوں نے کہا، سر آپ ایک بار مل تو لیں، آخر ملنے میں ہرج ہی کیا ہے دیگر دوستوں نے بھی جو مجھے متذبذب دیکھ کر خوش نہ تھے اس بات کی تائید کی کہ ہمیں حافظ صاحب سے ضرور ملنا چاہیے، پروگرام کی منظوری پروفیسر صاحب سے لے لی گئی تو حافظ صاحب کو بھی مطلع کر دیا تاکہ وہ اُ س روز مدرسہ ہی میں رہیں کہیں اور نہ چلے جائیں۔ مقررہ تاریخ اور وقت پر ہم مدرسہ پہنچ گئے حافظ صاحب موجود تھے، ہمارا پر تپاک استقبال کیا اور ایک بکرا مدرسہ کے وسیع لان میں ذبح کر کے ہمارے کھانے کا انتظام کیا مگر جس مقصد کے لئے ہم گئے تھے اُس پر کوئی بات نہ کی البتہ ایک نئی تاریخ دے کر ہمیں دوبارہ آنے کو کہا اور تسلی دی کہ اب کی بار آؤ گے تو ہم کھڑی شریف پیراشاہ غازی جائیں گے اور راستے میں دیگر بزرگوں سے بھی اخذِ فیض کریں گے۔ امیر ِ قافلہ پروفیسر صاحب نے بمعہ ساتھیوں کے دوبارہ آنے کی ہامی بھر لی پھر اپنی اور ہماری طرف سے اُن کی مہمان نوازی اور خوئے ِ دل نوازی کا شکریہ ادا کیااور واپس لوٹ آئے۔ مقررہ تاریخ کو دوبارہ مدرسہ پہنچے تو حافظ صاحب کو منتظر پایا، گاڑی میں اُنھیں ساتھ لیا اور اُن کی راہ نمائی میں کھڑی شریف کی طرف روانہ ہوئے، راستے میں دو تین زیارتوں پر سلام و فاتحہ کے بعد آگے بڑھ گئے تاآنکہ وہ زیارت دیکھنا نصیب ہوئی جس نے پروفیسر صاحب سمیت ہم سب کو بہت متاثر کیا۔ یہاں حضرت داؤد شاہ حقانیؒ مدفون ہیں، اُن کی قبر تو سادہ سی ہے،مگر اُس کے سرہانے پانچ انچ قطر کا ایک پتھر رکھا ہے، اس کے نیچے چار انچ قطر کا سوراخ صاحبِ قبر تک جاتا ہے۔ قبر کی خاص بات یہ ہے کہ پتھر ہٹائیں تو سوراخ سے بھینی بھینی خوشبو آتی ہے جو اتنی مسحور کن ہے کہ دنیا کی کوئی اور خوشبو شاید ہی اُس کا مقابلہ کر پائے کچھ لوگوں کو گمان گزرا کہ قبر میں کوئی ایسی چیز رکھ دی گئی ہے جس سے یہ خوشبو آتی ہے، ایسے لوگوں کے شکوک و شبہات کو مد نظر رکھتے ہوئے علم الارضیات والوں نے مختلف ٹیمیں بھیج کر خوب چھان پھٹک کی مگر کوئی ایسی شے نہ ملی جو اس خوشبو کا ماخذ ہو، اس لئے اُنھیں اعتراف کرنا پڑا کہ خوشبو کا منبہ قبر میں مدفون ہستی کے سوا کچھ اور نہیں۔ ہم میں سے ہر کوئی چاہتا تھا کہ یہاں کچھ دیر اور ٹھہرا جائے، پروفیسر صاحب تو مسلسل سوراخ سے چپکے ہوئے تھے اور اس پتھر کی قسمت پر رشک کر رہے تھے جو ہمہ وقت خوشبو میں بسا رہتا ہے۔ دل ہی دل میں غالب کا یہ شعر گنگنا رہے ہوں گے کہ
دائم پڑا ہوا تیرے در پر نہیں ہوں میں
خاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں ہوں میں
جسد ِ خاکی سے آنے والی روح پرور خوشبو کو دل و جاں میں بسائے ہم پیراشاہ غازیؒ کے قدموں میں کھڑی شریف جا پہنچے۔ یہ مزار آزاد کشمیر کے ضلع میر پور سے آٹھ کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔مزار پر پہنچ کر حافظ صاحب تو مرقد سے تھوڑے فاصلے پر پیرا شاہ کی طرف دھیان لگا کر بیٹھ گئے اور ہمیں اشارہ کیا کہ تمھیں جس انداز میں سلام و دعا کرنی ہے کر لو، اس ہدایت پر عمل کرتے ہوئے ہم نے ایصالِ ثواب کے لئے سورہ فاتحہ و اخلاص پڑھ کر دعا کی اور باہر آگئے۔ پیراشاہ کے مریدین میں ایک نام میاں محمد بخش ؒ کا بھی ہے جنہوں نے سیف الملوک جیسی شہرہ آفاق کتاب لکھی۔ یہ منظوم داستان ساڑھے نو ہزار اشعار پر مشتمل ہے اور اُس کا ہر شعر حکمت و دانائی کا مخزن ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ مولانا روم کو قونیہ میں جو مرتبہ و مقام ملا، ویسا ہی میاں محمد بخشؒ کو کشمیر میں حاصل ہوا اور وہ رومی کشمیر کہلائے۔
کھڑی شریف سے واپسی کے کئی دن بعد تک ہم سب گم صم رہے۔ پروفیسر صاحب کوتو چپ سی لگ گئی تھی، ذرا سنبھلے تو ہمیں قہوہ پر بلایا اور ایک قد آدم تسبیح کی زیارت کرائی۔ میں نے کہا اس ایک تسبیح کو دانہ دانہ کر کے پڑھنے میں تو بہت وقت لگتا ہو گا۔ میرے سوال کو احمقانہ خیال کرتے ہوئے اُنھوں نے فرمایا،۔یہ تسبیح دانہ دانہ کر کے پڑھنے کی نہیں ہوتی بلکہ کئی کئی دانوں کو بیک وقت چلایا جاتا ہے اور اسی طور وہ کیفیت طاری ہوتی ہے جو کیف و مستی کے ذیل میں آتی ہے اور جو بندے کو رب سے ملاتی ہے پھر وہ کھڑے ہوئے، تسبیح کو پکڑا اور دائیں ہاتھ سے چار چار، پانچ پانچ اور چھ چھ دانے اس تیزی سے کھسکانا شروع کئے کہ پسینہ پسینہ ہو گئے۔ جاری ہے۔