menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

سفرِ شوق سے سفرِ آخرت تک (2)

30 0
17.03.2026

محمود صاحب کی گفتگو نے مجھے بہت متاثر کیا اور یہ عقدہ کھلا کہ دوسرے راہبر کی کسی ادا سے متاثر ہو کر اُس کا ہو رہنا اور پہلے پہل سیدھی راہ دکھانے والے کی محبت و عقیدت کو بھی دل میں بسائے رکھنا ہی حقیقی راہِ مستقیم ہے۔ اُن کی بات سن کر مجھے یاد آیا امام شافعی ؒ نے امام ابو حنیفہؓ کے مزار پر نماز پڑھی تو رفع یدین نہیں کیا۔ اُن کی اقتدا کرنے والوں نے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟ تو اُنھوں نے جواب دیا کہ مجھے صاحبِ قبر سے حیا آئی کہ انُ کے سامنے اپنی تحقیق پر عمل کروں۔ 

اسلام آباد سے واپسی پر میں سوچتا آیا کہ پروفیسر صاحب کے کام کو مل جل کر آگے بڑھایا جائے۔ مگر کیسے؟ ہم یہ سوچ ہی رہے تھے کہ صابر بٹ صاحب پھالیہ والے جو رنگ ساز ہیں، نے بتایا کہ میں موہڑہ پھڈیال میں واقع ایک مدرسہ میں رنگ کرنے گیا تو مدرسہ کے مہتمم حافظ محمد عالم صاحب کو بے حد شفیق و مہربان پایا، میں جتنے دن وہاں ٹھہرااُنھوں نے میری خاطر مدارات اس طرح کی جس طرح کسی معزز مہمان کی کی جاتی ہے، اس سے بڑھ کر یہ کہ ایک دن حافظ صاحب نے اجتماعی ذکر کرایا تو مجھے لگا کہ مسجد کے درو دیوار اور گنبد بھی متحرک ہو گئے ہیں۔ بٹ صاحب کی گفتگو سے سامعین بے حد متاثر ہوئے لیکن میں یہ سوچ کر متامل رہا کہ بٹ صاحب رنگ ساز ہیں اور اُنھوں نے اپنے بیان کو بھی مرضی کا رنگ دیا ہو گا۔ جب بٹ صاحب نے دیکھا کہ اُن کی باتوں کا مجھ پر اتنا........

© Daily Pakistan (Urdu)