We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

عید اور بینک کارڈ کا بحران

2 0 0
09.06.2019

راولپنڈی سے لاہور جاتے ہوئے تاخیر کا شکار ٹرین جب وزیر آباد گزر جانے پہ رفتار تیز کر لے تو پرانے فیشن کے مسافر ضرور کہتے ہیں کہ ”گڈی اپنی لیٹ کڈ رہی اے“۔

لیٹ نکالنے کا مطلب ہے کہ شروع میں سُست رفتاری کے سبب جو وقت ضائع ہوا اب اسپیڈ بڑھا کر اُس کا حساب برابر کر دیا جائے۔ ماہِ رمضان گزر جانے پر ابکے یہ احساس ہوا کہ لیٹ نکالنے کا استعارہ صرف مسافر گاڑیوں تک محدود نہیں بلکہ روزوں کا مہینہ بھوک پیاس کی آزمائش سے دوچار رہنے والے انسان بھی خوراک کے معاملے میں عید الفطر پہ لیٹ نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اکثر حالتوں میں یہ کوشش شعوری نوعیت کی نہیں ہوتی، نہ اِس میں عمر، صنف یا سماجی طبقے کی کوئی قید ہے۔ بس پرہیز گاری کی تیس روزہ ٹریننگ ختم ہوئی اور سب کچھ ایک ہی دن میں ہڑپ کر جانے کی جبلت غالب آ گئی۔

پنجاب کی سماجی تاریخ پہ گہرائی میں جا کر غور کرنے والے دانشور اگر چاہیں تو اِس طرزِ عمل کا تعلق پیٹ سے زیادہ نظروں کی بھوک سے جوڑ سکتے ہیں، جس کا اطلاق خوراک کے علاوہ ہمارے کئی اور رویوں پہ بھی ہوتا ہے۔ خیر، سوال پیٹ کا ہو یا نظروں کی بھوک کا، ذرا سا ماضی میں جائیں تو ہماری نفسیات میں بہت کچھ رمضان کے مہینے سے نہیں، محرومیوں کے طویل تسلسل سے جڑا ہوا ملے گا۔ اِس میں کم زرعی پیداوار سے جنم لینے والی محرومیاں بھی شامل ہیں۔ نوعمری میں سیالکوٹ کی تحصیل ڈسکہ کے ایک خیری میری زمیندار نے، جو میرے دادا کے ہم عمر ہوں گے، میری اِس غلط فہمی کا ازالہ کیا کہ پنجاب کے ’چاہی اضلاع‘ میں نہری نظام سے پہلے بھی آبپاشی آسان تھی۔ ”بیٹا، ہمارے کنووں میں پانی نہیں تھا۔ انگریز کے آنے پر نہریں کھودی گئیں اور پانی کی سطح اوپر آئی“۔

اِس مکالمے کا مفہوم کئی سال بعد اُس وقت سمجھ میں آیا جب لاہور کی ایم ایم عالم روڈ کے ایک فوڈ آؤٹ لیٹ پر عین افطار کے ٹائم پہ نئی اپر مڈل کلاس کی بے تابیاں دیکھ کر مَیں ’غذائی دہشت گردی‘ کی ترکیب وضع کرنے پہ مجبور ہوا تھا۔ اِس پہ باصلاحیت صحافی اور ٹی وی پروڈیوسر ذیشان صدیق بہت محظوظ ہوئے جو مسعود حسن مرحوم کے زیرِ نگرانی پبلسز پاکستان نام........

© Daily Pakistan (Urdu)