We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

نئے سفر کے لئے نئی روشنی

2 0 0
26.05.2019

سرکاری طور پہ سینئر سٹیزن بن جانے کے باوجود مَیں آج تک اپنے آپ کو اُن بڈھوں میں شمار نہیں کرتا جنہیں موجودہ زمانے کی کوئی چیز اچھی نہیں لگتی۔ چائے کا کپ پیش کر و تو کہیں گے ”نہیں میاں، دنیا بدل گئی، اب وہ چائے نہیں رہی“۔ اخبار پڑھنے کو دو، ارشا د ہوگا ”پتا نہیں سُرخیوں کو کیا ہو گیا ہے، لفظ پہ لفظ چڑھا ہوا ہے“۔ یہاں تک کہ دوستوں کی خوشنودی کے لئے ڈھونڈ ڈھانڈ کر ایک پرانی انگریزی فلم دیکھنے کو لے آیا اور اپنے ہی ہم عصروں سے سُننا پڑا کہ یار، کالج کے زمانے میں جو بلیک اینڈ وائٹ ورشن دیکھا اُس کا جواب نہیں تھا۔ اِن میں بہت سے لوگ اُس حکیم الامت کے ماننے والے بھی ہیں جن کا فیصلہ تھا کہ ’ٹھہرتا نہیں کاروانِ وجود‘۔ گرد وپیش کے ’بزرگوں‘ کا وارفتگی کی حد تک ماضی سے یہ رشتہ میری سمجھ میں کیوں نہیں آتا؟ اِس کی وجوہات ہیں تو سہی، مگر ذرا عجیب و غریب۔

پہلی وجہ کا تعلق اُن خاتون سے ہے جو بجائے خود اب ماضی کا حصہ بن چکی ہیں۔ مراد ہیں میری دادی جنہیں مَیں نے اپنی طالب علمی کے دَور میں اپنی طرف سے خوش کرنے کے لیے ایک دِن یوں ہی کہہ دیا ”بی جی، پرانا زمانہ واپس آ جائے تو کتنا مزا آئے۔ کہتے ہیں لوگ بہت اچھے ہوتے تھے“۔ ”بالکل غلط گل اے“۔ بی جی نے، جن کے منہ سے کسی نے کبھی سخت لفظ نہ سنا، یہ بات قدرے ڈانٹنے کے انداز میں کہی تھی۔ مَیں نے پوچھا ”کیوں؟“۔ جواب ملا ”پرانا زمانہ بہت بُرا تھا۔ پاکی پلیدی کا کوئی پتا نہیں تھا۔ آج کل بہت صفائی ستھرائی ہے۔ پہلی عورتوں کو تو ہم نے دیکھا کہ اِدھر بچے کا گند صاٖ ف کیا ہے، اُدھر دوبارہ آٹا گوندھنا شروع کر دیا۔ غربت اتنی کہ بڑے بوڑھے کہتے لڑکی کو اُس گھر میں بیاہو جہاں لوگ زیادہ ہوں۔ اُن کی بچی کھچی روٹی سے بے چاری کا پیٹ بھر جائے گا“۔

ہمارے مُلک میں خود تنقیدی عام نہ ہونے کے باعث یہ ہو سکتا ہے کہ آپ میرے اِس اولین سبق کو نئے پاکستان کے خلاف کسی سازش کا شاخسانہ سمجھ لیں۔ اگر نہیں تو دادی مرحومہ پہ غربت، سماجی حالات سے لاعلمی یا حد سے بڑھی........

© Daily Pakistan (Urdu)