We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

ڈنڈا کسی مسئلے کا حل نہیں

4 0 0
05.05.2019

آج کے کالم کا سرنامہ پچھلے ہفتے کی ایک خبر ہے، جس کی سرخی توجہ کا مرکز بن گئی: ’لڑکیوں کے بال کاٹ دینے پر استاد معطل‘۔ چنیوٹ کی ڈیٹ لائن سے شائع ہونے والی اِس دو کالمی خبر کے مطابق، احمد آباد نامی قصبے میں معطلی کے حکم کے علاوہ گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول میں دو استانیوں کے خلاف اِس بنا پہ ایف آئی آر درج کی گئی ہے کہ انہوں نے پانچویں جماعت کی چھ طالبات کے بال زبردستی کاٹ دیے۔

لڑکیوں کا قصور یہ تھا کہ وہ گھر سے سبق یاد کر کے نہیں آئیں۔ ضلع چنیوٹ کے ڈپٹی کمشنر نے واقعہ کی انکوائری کے لئے ایک خاتون افسر کو متعین کیا ہے اور محکمہء تعلیم کے ضلعی ایگزیکٹو آفسیر نے سکولوں کے سربراہان کو ہدایت کی ہے کہ سرکاری اور نجی اداروں میں طلبہ و طالبات کو جسمانی سزا دینے سے گریز کیا جائے، تو کیا سکول انتظامیہ عام حالات میں جسمانی سزا دینے کی مجاز ہوتی ہے؟

اِس سوال سے جس قانونی بحث کا دروازہ کھلے گا، مجھے پاکستانی شہری کی حیثیت سے اُس میں دلچسپی ہے۔ ساتھ ہی پیشہء تدریس کے رکن طور پر یہ جاننے کی خواہش بھی ہے کہ طلبہ و طالبات کی خاطر استاد کو کِس حد تک سختی سے کام لینا چاہیے۔

جناح اسلامیہ کالج سیالکوٹ میں ہمارے انگریزی کے اُستاد اور جانے پہچانے دانشور پروفیسر زمرد ملک نے ایک مرتبہ سخت گیری کے حق میں کہا تھا کہ سیگمنڈ فرائیڈ جیسا آزاد خیال ماہرِ نفسیات بھی بچوں کی تربیت میں باپ کے ’زوردار وجود‘ کی افادیت کا قائل ہے۔

خوشگوار پہلو یہ ہے کہ خود زمرد ملک کو طالبعلموں کے ساتھ کبھی برائے نام سختی سے بھی کام نہ لینا پڑا۔ ایک روز تو انہوں نے یہ تلقین بھی کر دی تھی کہ اگر کوئی استاد آپ کو زبردستی کلاس سے باہر نکالنا چاہے تو ضرور پوچھیں کہ آپ کس قانون کی رو سے ایسا کر رہے ہیں۔ استاد لاجواب ہو جائے گا۔

ہم نے بچپن میں بڑوں سے سُن رکھا تھا کہ ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر کو بعض صورتوں میں طالب علم کو دس بید مارنے کی اجازت ہوتی ہے۔ تازہ خبر پڑھ کر مذکورہ ضابطے کا سراغ لگانے کی بہت کوشش کی، مگر صرف........

© Daily Pakistan (Urdu)