We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

کالم نگار ی کی ساتویں سالگرہ

2 0 0
28.04.2019

منتخبہ کالموں کے مجموعے کی امکانی اشاعت کے پیشِ نظر ’خوش کلامی‘ کی ساتویں سالگرہ کو قریب تر لانے کے لئے مَیں اُن ابتدائی تحریروں کو بھی، بزبان فیض، اپنے دفترِ جنوں میں شمار کر رہا ہوں جو ایک ایسے نئے روزنامہ کے لئے قلم سے نکلیں جس کے ایڈیٹر کے ساتھ ذاتی محبت کا رشتہ آج بھی مضبوط ہے۔ فرق یہ ہے کہ شعوری کوشش کے باوجود اُن کے اِس ارشاد کی حسبِ منشا تکمیل نہ ہو سکی تھی کہ مجھے تہذیبی موضوعات کی بجائے سیاست پہ لکھنا چاہیے۔

اپنی موجودہ مجلسِ ادارت سے میرا کوئی اختلاف نہیں، البتہ اتنا مطالبہ ضرور ہے کہ قارئین کی سہولت کی خاطر لمبے فقروں کو چھوٹا کر دینے کے لیے مجھے یہ اجازت دی جائے کہ کسی کسی وقت ’لیکن‘ اور ’چنانچہ‘ سے نیا جملہ شروع کر سکوں۔ قدیم ویدوں میں ’اشلوک‘ کی اوسط لمبائی بیس بائیس الفاظ بتائی جاتی تھی۔ بہر حال، سنی سنائی بات ہے، میں نے گِن کر نہیں دیکھا۔

آج کل ہر روز کوئی نہ کوئی ’یوم‘ منانے کا جو رواج چل پڑا ہے، اسی بنا پر میرا دل اس تاریخی موقعے پر اپنا ہی انٹرویو کرنے کو چاہے تو اِس پہ حیرت نہیں ہونی چاہئیے۔ چند سال پہلے کسی شخص کو گولی مارے جانے کی بریکنگ نیوز نشر ہوتے ہی ایک چینل کے مستعد رپورٹر نے مرحوم کی اہلیہ سے پوچھا تھا کہ ”بیوہ ہونے پر آپ کیا محسوس کر رہی ہیں؟“ اسی طرح مَیں بھی خود سے یہ سکہ بند جرمن سوال کر سکتا ہوں کہ شاہد ملک، تمہاری ’خوش کلامی‘ پہ پڑھنے والوں کے تاثرات کیا ہیں یا نشریاتی صحافت سے طویل وابستگی کے بعد آخر تمہیں ’کالم نویسی‘ کا اشتعال کیوں آ گیا تھا۔ مجھے صرف سوال نمبر دو ’وارا‘ کھاتا ہے، کیونکہ پہلے سوال کے جواب میں اپنی ’ریٹنگ‘ پڑھانے کے لئے اگر میں نے گراف کو ذرا کھسکا دیا تو اِس کا سوؤ موٹو نوٹس لے لیا جائے گا اور پھر معاملہ نیب کے پاس ہو گا۔

کہتے ہیں کہ کوئی اچھا کام کرنے کا اشارہ جہاں سے بھی ملے اس کا اعتراف کھل کر کرنا چاہئیے۔ سچ یہ ہے کہ ماضی میں کالم نویسی کی ترغیب اول اول بی بی سی کے نامہ نگارِ اسلام آباد اوئین بینٹ جونز سے ملی تھی۔ ہاں، اگر ’بچپن سے شوق تھا‘ جیسے اسلوب کا سہارا لوں تو اردو کی دوسری کتاب کی کہانیاں، ’پاپڑاں والی خانقا ہ‘ کے مفتی حبیب کا مترنم وعظ، اور ر یڈیو پا کستان پر نعتوں، قوالیوں کے گراموفون ریکارڈ زبان و بیان میں میری دل چسپی کے عوامل ٹھہریں گے۔

مگر اِس میں اُن لسانی تضادات کو بھی دخل ہے جن کی لہر اسکول میں میڈیم کی تبدیلی سے پھوٹی، پھر گھر میں پنجابی اور محلے میں اردو کا فرق، اور آگے چل کر برطانوی سفارتخانے کی ملازمت سے نشریاتی صحافت تک اُن دھاروں کا بتدریج شعور جو مرالہ کے........

© Daily Pakistan (Urdu)