We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

مسائل امیروں والے ، وسائل غریبوں والے

6 0 51
14.04.2019

امیر اور غریب کی تفریق تو ہر معاشرے میں ہوا کرتی ہے ۔ پر اِن دونوں کے بیچ ایک تیسرا طبقہ بھی ہے یعنی مجھ سمیت وہ سب لوگ جن کے وسائل غریبانہ مگر مسائل امیرانہ ہوتے ہیں ۔ جیسے چائے کی میز پہ اگر صرف سادہ کیک اور بسکٹ رکھے ہیں تو ساتھ کوارٹر پلیٹ ضرور ہو نی چاہئیے ۔ اسی طرح روٹی توڑنے کے لئے اگرچہ ہاتھ ہی برتے جائیں گے ، لیکن از رہِ احتیاط چھری کانٹا بھی رکھ دیا جائے تاکہ لقمہ پھسلنے کی صورت میں افسری کی دہشت کے زور پر اُسے قابو میں لایا جا سکے ۔

کھانے پینے کی دونوں مثالیں ہیں تو بامعنی ، لیکن جس گمبھیر صورت حال کی طرف آپ کی توجہ دلانے کا ارادہ کر رہا ہوں ، یہ اُس کا احاطہ نہیں کرتیں ۔ تو مسئلہ ہے کیا ؟ صرف یہ خواہش کہ اچھے بچوں کی طرح مجھے بھی ٹیکس دہندہ کے طور پہ نان فائلر کی جگہ فائلر کا درجہ حاصل ہو جائے ۔ اِس میں دقت ہونی تو نہیں چاہئیے مگر ہو رہی ہے ۔ اور یہی کالم کا موضوع ہے ۔

آپ سوچیں گے کہ ہو نہ ہو ، یہ شخص ماضی میں بہت بڑا ٹیکس چور رہا ہو گا ، اِسی لئے تو قانون کی گرفت سے بچنے کے لئے اِس کے دماغ میں فائلر بننے کا خیال عین اُس وقت آیا جب ٹیکس میں عام معافی یا ایمنسٹی کی نئی نئی اسکیمیں حکومت کے زیرِ غور ہیں ۔

پھر یہ بھی ممکن ہے کہ پچھلی حکومتوں کے سرکردہ رہنماؤں کی طرح اِس کی آمدنی کے اصل ذرائع بیرونِ ملک ہوں ، جو ابھی تک ظاہر نہیں ہوئے ۔ یہاں میرا پہلو دبتا ہے ، اِس لئے کہ بی بی سی کی طویل ملازمت چھوٹنے کے کئی برس گزر جانے پر اب برطانوی حکومت نے مرزا غالب کی طرح اِس کالم نویس کی پنشن بھی جاری کردی ہے ۔

چنانچہ اُس کی دوہری شہریت سے واقف کئی قریبی دوست سائل کی قومیتی وفاداری کے بارے میں سوالات اٹھا رہے ہیں ۔ دو ایک نے تو کھُلے بندوں اُس کے منہ پر یہ تک کہہ دیا ہے کہ ٹھیک ہے سر ، جاسوس کبھی ریٹائر نہیں ہوتا ۔

جاسوس ریٹائر ہوتا ہے یا نہیں ، یہ سوال اہم سہی لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کوئی آدمی پیدا ہوتے ہی جاسوس نہیں بن جاتا ۔ ایک زمانہ تھا جب غریبانہ وسائل اور امیرانہ مسائل رکھنے والے اِسی شخص نے حکومتِ پنجاب کی سیدھی سیدھی ملازمت کی اور خود ہی ڈرائنگ ڈسبرسنگ افسر ہونے کی حیثیت سے ہر مہینے تنخواہ اور سرکاری کٹوتیوں کا حساب لگا کر بِل پہ دستخط بھی کرتا رہا ۔

اِس سارے عمل میں انکم ٹیکس کی ادائیگی پہ شاید ہی کبھی کوئی تنازعہ اٹھا ہو ۔ ایک بار البتہ یہ ہوا کہ تنخواہ کے چیک میں ٹائپ کی غلطی رہ گئی جسے بینک نے نظر انداز کر دیا ۔

اسی طرح ایک مرتبہ اکاؤنٹنٹ جنرل کے عملے نے یہ کہہ کر بِل واپس بھیج دیا تھا کہ آپ جس آسامی پہ کام کر رہے ہیں ، ثابت کریں کہ وہ مستقل ہے ، عارضی نہیں ۔........

© Daily Pakistan (Urdu)