We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

بیٹی کے بیاہ پہ خصوصی کالم

4 0 90
31.03.2019

آج کے موضوع پہ کالم لکھنے کا ارادہ کر کے مَیں خود کو ایک غیر معمولی صورتحال سے دوچار کر رہا ہوں ۔ بنیادی رِسک تو قارئین کی طرف سے خود پسندی کا امکانی الزام ہے ۔ پھر یہ بھی کہ گرد و پیش میں کئی سنجیدہ مسائل کے ہوتے ہو ئے تم اپنے بال بچوں کی کہانیاں سنانے پہ کیوں مصر ہو ۔ یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا سکتا ہے کہ شادی کی تقریب میں شاید کوئی واقعہ خلافِ توقع ہو گیا ۔

یعنی بارات کی آمد پہ دولہا کے لئے جو ہار ہزار احتیاط سے سنبھال کر رکھا تھا وہ عین وقت پہ ڈبے سے غائب پایا گیا یا دلہن کے باپ نے دمِ رخصت کیمرے کے سامنے زور کی چھینک مار دی اور وڈیو خراب ہو گئی یا پھر باراتی اتنی تعداد میں امڈ آئے کہ کھانا کم پڑ گیا ۔ خدا کی قسم ایسی کوئی بات نہیں ۔ سبھی کچھ معمول کے مطابق ہوا ۔ اور یہی مسئلہ بن گیا ہے کیونکہ یہ پینڈو اردو میڈیم کالم نویس نئے زمانے میں شادی بیاہ کے معمولات سے پوری طرح آ گاہ ہی نہیں تھا ۔

ایک خوش قسمتی یہ ہوئی کہ رشتہ طے کرنے کے مرحلے پر بیٹی کو اجنبی مرد و خواتین کے سامنے ٹرالی پھدکانے کی خفت نہیں اٹھانی پڑی ۔

وجہ یہ کہ دونوں خاندانوں میں باہمی جان پہچان کا تسلسل محض ’’دو ، چار برس کی بات نہیں‘‘ ۔ وگرنہ اُس کے دل پہ کیا گزرتی ، یہ اندازہ لگانا اس لئے مشکل نہیں کہ اولاد سے ملکیتی تعلق جوڑے بغیر بھی مجھے رابعہ ملک اب تک اپنا ہی نسوانی ایڈیشن محسوس ہوتی رہی ہیں ۔

ذہنی قربت یہاں تک کہ غیر ملکی یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کا مقالہ والدین سے منسوب کرنے کے باوجود محترمہ نے اساتذہ ، ہم مکتب دوستوں اور فنی عملے کے لئے شکر گزاری کا تحریری اظہار تو کیا مگر ماں باپ کو یہ کہہ کر جھنڈی کرا دی کہ جب یہ دونوں میرے ہر فیصلے کی بھرپور تائید کرنے پہ تُلے ہوئے ہیں تو اِن کا رسمی شکریہ ادا کرکے اِس باہمی اعتماد کی قدر و قیمت کو کم کیوں کیا جائے ۔

مَیں افسروں کی سالانہ رپورٹ کی طرح رابعہ ملک کی اے سی آر لکھنے کا ارادہ نہیں رکھتا ۔ لکھوں بھی تو اُن کی ’پین پکچر‘ یا قلمی خاکے سے انصاف کر نا آسان نہیں ۔ ہاں ، اِس پہ حیرت ضرور تھی کہ ایک پڑھی لکھی لڑکی کی ارینجڈ........

© Daily Pakistan (Urdu)