We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

بی بی سی کا وقار چلا گیا

8 0 76
17.03.2019

’’الفاظ کی تخلیق و ترتیب شاعر اور ادیب کا پیشہ ہے ، لیکن زندگی میں بعض مواقع ایسے بھی آتے ہیں جب یہ قدرتِ کلام جواب دے جاتی ہے ۔۔ ۔ آج عجزِ بیان کا ایسا ہی مرحلہ مجھے درپیش ہے‘‘ ۔

یہ ہیں فیض احمد فیض کی اُس تاریخی تقریر کے ابتدائی جملے جو انہوں نے ماسکو میں لینن امن انعام کی تقریب کے موقع پر اردو زبان میں کی ۔ مَیں فیض احمد فیض ہوں نہ اُن جیسی اظہار کی دسترس کا مالک ۔

پر کیا کروں کہ بی بی سی اردو کے وقار احمد کی رحلت مجھے ایک ایسی کیفیت سے دوچار کر گئی جہاں رہ رہ کر ایک ہی خیال آتا ہے کہ ’’وہی ہر روز کے مضموں میں لکنت خالی جگہوں کی‘‘ ۔ بدھ کی شام اِس سانحے پر میرے تاثرات نشر کرنے کے لیے شفیع نقی جامعی نے لندن سے کال کی تو مَیں بخار میں مبتلا تھا ، سو چند لمحوں کے لیے میری آزمائش ٹل گئی ، لیکن رات بھیگنے کی دیر تھی کہ

وہ در کھلا میرے غم کدے کا

وہ آ گئے میرے ملنے والے

وہ آگئی شام ، اپنی راہوں میں

فرشِ افسردگی بچھانے

ای میل اور سوشل میڈیا کے توسط سے اول نمبر پہ سید راشد اشرف آئے اور آتے ہی کہنے لگے : ’’مدھم مدھم لہجے میں دنیا دکھانے والا جادو گر‘‘ ۔ اتنا کہا اور پھر دوبارہ گویا ہوئے ’’ذرا دیر کو آنکھ بند کرکے اُس دنیا میں چلے جائیے جس میں نہ فیس بک ہے نہ ٹیلی وژن کے سینکڑوں چینل ۔ ٹیلی فون اٹھا کر باہر کے ملکوں سے بات کرنے کی سہولتیں بھی نہیں ۔

تو ہے کیا؟ بس یہ کہ آپ کا قومی ریڈیو سٹیشن ہے اور باہر کے کچھ ریڈیو سٹیشن ہیں (جو) شارٹ ویو پہ دنیا کے حالات بتانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ کراچی میں ، لاہور میں ، پشاور میں ، کوئٹہ میں پان والوں کی دکانوں کے سامنے لوگوں کے ہجوم ہیں ۔ ۔ ۔ یہ ہجوم سیربین سننے کے لئے جمع ہوا ہے ، بی بی سی اردو سروس کے شام آٹھ بجے والے حالات حاضرہ کے پروگرام سیربین کو سننے کے لئے ، جس کو پیش کرنے والے کا نام ہے وقار احمد ‘‘ ۔

سید راشد اشرف نے اتنا کہا اور پھر ’’گویا دبستاں کھُل گیا ‘‘ ۔ میرے بی بی سی کے بڑوں میں رضا علی عابدی ، آصف جیلانی اور علی احمد آئے ، ہم عصروں میں شفیع جامعی ، للت موہن جوشی اور انور سین رائے تھے ، نو عمر ساتھیوں میں عباس ناصر ، حارث خلیق اور ثقلین امام پرسہ دینے والوں میں شامل تھے ۔ ہمدمِ دیرینہ عبید صدیقی نے البتہ چند لفظوں میں دل کی بات کہہ دی :’’ ریڈیو کے سامعین جن لوگوں کو پابندی اور تواتر سے سنتے ہیں اُن کی آواز کی مدد سے اُن کا ایک خاکہ ذہن میں بنا لیتے ہیں ، جو کبھی کبھی اُن کے خاکے سے ملتا جلتا نکلتا ہے اور کبھی یکسر مختلف ۔

مَیں نے بھی لندن جانے سے پہلے وقار بھائی کا جو خاکہ ذہن میں........

© Daily Pakistan (Urdu)