We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

بولنے کی آزادی اور ہماری سلامتی

2 0 56
17.02.2019

مَیں اپنے ایڈورٹائزنگ والے دوست سجاد انور منصوری کے پاس محض ایک پیشہ ورانہ مشورے کے لئے گیا تھا، لیکن کام سے فارغ ہوتے ہی انہوں نے ایک ذاتی بات چھیڑ کر مجھے کنفیوژن میں ڈال دیا ۔ کہنے لگے ’’آپ نے برطانیہ سے بال بچوں کے ساتھ پاکستان واپس آ کر بڑی غلطی کی تھی اور اب رابعہ کے سلسلے میں آپ پھر وہی غلطی دُہرا رہے ہیں ‘‘ ۔

عرض کیا کہ میری واپسی تو برسوں پہلے بیگم صاحبہ سے کئے ہوئے اِس پیشگی وعدے کی تکمیل تھی کہ کچھ ہو جائے ہم بیرونی دنیا میں مستقل طور پہ آباد نہیں ہو ں گے ۔

رہا رابعہ کا معاملہ تو میرے بچے میری ملکیت نہیں ہیں ، چنانچہ ڈاکٹریٹ کر کے شادی کے لئے وطن آ کر پڑھانے کی خواہش بیٹی کی اپنی ترجیح ہے‘‘ ۔ جواب ملا ’’ اگر آپ لاہور کی بجائے لندن میں ہوتے تو سوشل میڈیا پہ اپنی رائے کا اظہار تو کھُل کے کر لیتے ۔ دیکھیں نا رضی کے ساتھ کیا ہوا ہے‘‘۔

یہ سُنتے ہی مجھے ماضی میں روزنامہ ’بزنس ریکارڈر‘ کا لاہور بیورو یاد آنے لگا ۔ اِس لئے کہ یہاں ہر روز حسیب حیدر ، الماس خان ، سعید بلوچ اور تنویر شہزاد کا رضوان الرحمان رضی کے ساتھ زیادہ سے زیادہ خبریں فائل کرنے کا مقابلہ ختم ہوتے ہی یہ نوجوان رپورٹر ثقلین امام اور میری معیت میں جلیبی اور سموسوں پہ ٹوٹ پڑتے ۔

پوٹھواری تلفظ کے مطابق ، ہر دو آئٹم کے لئے ’جلیب‘ اور ’سموس‘ کی اصطلاحوں کے کاپی رائٹس اِسی کالم نویس کے نام ہیں ، لیکن اِن تلفظات کی مقبولیت رضوان الرحمان رضی کے قہقہوں کی رہینِ منت رہی ۔ یہ بھی یاد ہے کہ ایک دن نہایت مستعد کورٹ رپورٹر کے طور پر رضی نے ہائی کورٹ کے ایک جج کو کھُلی عدالت میں ایک غیر عدالتی بات کہتے ہوئے سنا جو اخبار کی زینت بن گئی ۔ اگلے روز جج صاحب رپورٹر پہ گرجے ’’مَیں نے یہ کب کہا تھا؟‘‘ رپورٹر نے انکساری سے کہا ’’تو پھر مَیں نے کہا ہو گا‘‘۔

چونکہ مَیں بھی مذکورہ رپورٹر جیسا ہی جوڈیشل مائنڈ سیٹ رکھتا ہوں ، سو یہ اعتراف کرتا چلوں کہ ٹویٹر پر اُن کے........

© Daily Pakistan (Urdu)