We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

فیس بُک کا دس سالہ چیلنج

5 0 41
20.01.2019

رواں صدی کی اصطلاح برتوں تو آج کل سوشل میڈیا پہ زور پکڑنے والا ’ دس سالہ چیلنج‘ سب سے مقبول ٹرینڈ قرار پائے گا ۔ جسے دیکھو ’فیس بُک‘ پر اپنا د س برس پرانا فوٹو اور اُس کے ساتھ ایک نوِیں نکور سیلفی آویزاں کر کے رائے عامہ سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے انتظار میں ہے۔ بعض تصویروں میں وضع قطع کا اختلاف نمایاں ہے ، کسی جگہ ادنی متوسط طبقے والی شکل پہ خوشحالی کا تازہ میک اپ سج گیا ہے ، کہیں کہیں فِٹ نس کے لیول میں اتنا نمایاں فرق ہے جیسے موٹاپا ختم کرنے کی دوا کے اشتہار میں لکھا ہو ’’استعمال سے پہلے ، استعمال کے بعد‘‘۔ اگر سوشل میڈیا پہ انسانی شکلوں کا تقابلی جائزہ اُس طرح نہ بھی لیں جیسے کوہاٹ میں آئی ایس ایس بی والے فوجی کمیشن کے امیدواروں کو ٹھونک بجا کر دیکھتے ہیں تو بھی فیس بُک کے اکثر فرینڈز یہ کہتے ہوئے محسوس ہوں گے کہ :

مَیں اپنے آپ کو بھی بہت اجنبی لگا

دو ، چار سال پہلے کی تصویر دیکھ کر

’دس سالہ چیلنج‘ کو پڑھ کر پہلا خیال یہ آیا کہ ہم میں سے کتنے لوگ اپنے ظاہری خدو خال کو کتنی اہمیت دیتے ہیں اور اگر دیتے ہیں تو کیا عمر کے ہر حصے میں اِس رجحان کی شدت یکساں رہتی ہے ؟ ایک اور سوال سماجی طبقے اور دیہی و شہری آبادی کا ہے اور یہ بھی کہ آپ کی اپنی ’صنفِ سخن‘ ہے کیا ؟ ایک بنیادی نوعیت کا نکتہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسری کے دِنوں میں ہمارے انگلش ڈپارٹمنٹ کی چیئرپرسن مسز شمیم عباس نے سُجھایا تھا ۔ کہنے لگیں ’’ہم کسی مخصوص امیج کے مطابق زندگی کیوں گزارنا چاہتے ہیں؟‘‘ یہ گفتگو اِس لئے چھڑی کہ سگریٹ نوشی کے دوران مَیں نے ایک روز انہیں ’کنگ ایڈورڈ‘ سگار پیش کردیا تھا ۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ عورتیں تو سگار نہیں پیتیں اور ہنستے ہوئے میرے منہ سے نکلا کہ مسز عباس ، آپ بھی محض فنی طور پہ عورت ہیں۔

ڈاکٹر شمیم عباس اب دنیا میں نہیں اور اُن کے پیچھے پیچھے چلنے والے لوگ اُسی مسافت کے مراحل طے کررہے ہیں، جہاں فیض احمد فیض کے الفاظ میں کسی بھی چہرے کے ٹھہرے ہوئے مانوس نقوش ’’دیکھتے دیکھتے یک لخت بدل جاتے ہیں‘‘ ۔ پھر یہ بحثیں شروع ہو جاتی ہیں کہ کِس کِس کا استقبال پروفیسر خواجہ محمد زکریا اور ڈاکٹر خورشید رضوی کی طرح گریس فُل ادھیڑ عمری نے کیا اور کون میری طرح دھوپ میں بال سفید کرکے بوڑھا تو دکھائی دینے........

© Daily Pakistan (Urdu)