We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

اخباری صنعت کا مستقبل

5 0 0
08.01.2019

پاکستانی اخباری صنعت ایک بار پھر سخت حالات سے نبر د آزما ہے۔ یوں تو سارے ہی ذرائع ابلاغ اخبارات، ٹی وی چینل اور ایف ایم اسٹیشن سخت معاشی پریشانی سے دوچار ہیں ۔ ایسی صورت حال پیدا کر دی گئی ہے کہ اخبارات کو اپنا وجود بچانا مشکل ہو گیا ہے۔ چھوٹے کم آمدنی والے اخبارات تو سسک سسک کر دم توڑ رہے ہیں۔ بڑے اخبارات نے اپنا سٹاف کم کر دیا ہے، اپنے پریس بند کردئے ہیں، اخبارات کی تقسیم محدود کردی ہے۔

قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، مزید اقدامات کئے جارہے ہیں، تاکہ اخبار کو زندہ رکھا جاسکے۔ اخبارات کسی زمانے میں مشن ضرور ہوا کرتے تھے، لیکن اب تو اس لحاظ سے کاروبار ہے کہ اخبار تیار کرنے، بنانے والے کام کرنے والے لوگوں کو تن خواہیں بھی ادا کرنا ہوتی ہیں۔ اگر اخبارات کے پبلشر ہی تنہا اخبار نکال رہے ہوتے تو شائد انہیں اس طرح شور کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی، لیکن ایک ایک اخبار میں کام کرنے والی افرادی قوت کو ہر ماہ تن خواہوں کی ادائیگی کرنا تو لازم ہوتا ہے۔

ایسے حالات میں دنیا بھر میں حکومتیں اخبارات کی مدد کرتی ہیں، لیکن پاکستان میں گنگا الٹی بہہ رہی ہے۔ بلکہ دانستہ بہائی جا رہی ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کو اخبار کا مستقبل ہی سیاہ نظر آرہا ہے۔ انہوں نے ٹی وی چینلوں کی بڑھتی ہوئی تعداد یا پھر سرکاری اشتہارات کی رقم کے پیش نظر یہ نتیجہ اخذ کر لیا ہوگا کہ اخبارات کا مستقل سیاہ ہے۔

ٹی وی چینلوں کی وجہ سے اخبارات کی اشاعت میں کمی ضرور ہوئی ہے، لیکن یہ رجحان ہمیشہ کے لئے نہیں ہے۔ پاکستانی اخبارات موجودہ حالات سے بھی کہیں زیادہ سخت حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے نہ صرف زندہ رہے ہیں ، بلکہ ترقی بھی کی ہے۔ دنیا بھر میں کہیں بھی اخبارات کا مستقبل سیاہ نہیں رہا ہے۔

پاکستان میں دنیا سے ہٹ کر ایسا کیوں کر ممکن ہوگا۔ جرمنی کے کراچی میں متعین قونصل جنرل نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے ’’ دنیا کے دولت مند شخص بل گیٹس نے بھی 2001 میں دعوی کیا تھا کہ اخبارات کی قدر عنقریب ختم ہوجائے گی، لیکن اب تک ان کا دعویٰ دھرے کا دھرا رہ گیا ہے ‘‘........

© Daily Pakistan (Urdu)