سردیاں ہوتی تھیں ہمارے زمانے میں!
کچھ اندازہ نہیں کہ اِس کالم پر میری اُس اسلام آبادی بھانجی کا رد عمل کیا ہو گا جس نے برسوں پہلے دوسری جماعت کی کتاب میں موٹر کار کی تصویر دیکھ کر اچانک پوچھ لیا تھا ”ماما، جب آپ لوگ چھوٹے تھے تو نانا ابو کے پاس کون سی گاڑی تھی؟“ جواب ملا کہ کوئی گاڑی نہیں تھی۔ اس پر بچی نے دھاڑیں مار مار کر جو رونا شروع کیا تو خدا کی پناہ۔ ”ہائے ماما کے ابو غریب تھے، اُن کے پاس کار نہیں تھی۔“ ذرائع کا کہنا ہے کہ صدمے پر قابو پانے کے لیے پہلے تو غیر ملکی کیڈبری چاکلیٹ کا ایک بڑا ٹکڑا سسکیوں کی نذر کیا گیا۔ پھر ماں نے حیرت زدہ لڑکی کے آنسو پونچھتے ہوئے سمجھایا کہ کاروں واروں کے موج میلے کے ماحول کو چند سال ہوئے ہیں، ورنہ پاکستان بننے سے پہلے ہمارے آبائی شہر میں بیرسٹر سی۔ رائے اور سپورٹس فیکٹری والے گنڈا سنگھ اوبیرائے کے سوا کسی کے پاس گاڑی تھی ہی نہیں۔
عملی فائدے کی بنیاد پر اگر پیدل چلنے، سائیکل کے پیڈل گھمانے یا چنگچی دوڑانے سے اِس کا مقابلہ کریں تو کار بہر حال ایک تیز رفتار سواری ہے۔ اس کی بدولت بس اور ویگن اسٹاپوں کی بے یقینی، رکشہ ڈرائیوروں سے پر تشدد مکالمات اور ریلوے اسٹیشن پر کبھی ختم نہ ہونے والے انتظار کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ مزید پوچھیں تو کار کی سیٹوں پر ایک دوسرے کے قریب قریب بیٹھ کر سفر کرنا، جا بجا بے مقصد گاڑی رکوا لینا اور غیر ضروری طور کھانا پینا اہل خانہ کے درمیان جسمانی اور نفسیاتی ہم آہنگی میں بھی اضافہ کرتا ہے۔ پھر ایک بہت بڑا سماجی فیکٹر ہے ٹوہر ٹاہر جو رشتہ داروں، قریبی دوستوں بلکہ راہ چلتے اجنبیوں کی نظر میں کار سوار کا درجہ بلند کر دیتی ہے۔ اِس سے آگے ماڈل اور میک کا سوال........
