ایران پر امریکی حملے کی قیمت؟
دنیا ایک بڑی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے۔ نیویارک میں ہونے والی سفارتی کوشش ناکام ہو چکی ہے اور اب صدر ٹرمپ نے ایک اہم فیصلہ کرنا ہے۔ ایران کے ساتھ جنگ۔ بمباری کب اور کیسے کرنی ہے؟ مذاکرات کے دروازے بند ہوئے، مگر بند ہونے والے دروازوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
امریکی ذرا ئع دعویٰ کر رہے ہیں کہ امریکی وزیرخارجہ مارکوروبیو نے ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کی سربراہی میں نیویارک آ نے والے وفد سے امریکہ چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایرانی مشن کا کہنا ہے کہ ایرانی وفد کی روانگی پہلے سے طے تھی۔ مگر امریکی ذرائع سے اس خبر کا ریلیز ہونا امریکی غصے کا اظہار ہے۔قطر اس وقت بھی امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوشش کر رہا ہے۔ عمان بھی سفارتی عمل میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ پاکستان نے بھی اپنی سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ لیکن بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ دونوں ملک ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کرتے۔ ایران چاہتا ہے کہ اقتصادی اور بحری دباؤ کم کیا جائے۔ پابندیوں میں ریلیف ملے اور اس کی سلامتی سے متعلق ضمانتیں موجود ہوں۔ دوسری طرف امریکہ ایٹمی پروگرام اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے سخت شرائط چاہتا ہے۔ ٹرمپ کا لہجہ سخت ہو رہا ہے۔ وہ ایران کو تباہ کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ رائٹر کی تازہ رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام تیاری کر رہے ہیں کہ اگر امریکہ نے دوبارہ بڑے حملے کئے تو اس مرتبہ ایران کا جواب پہلے سے سخت اور وسیع ہو گا۔ وہ جنگ کا جغرافیہ تبدیل کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔
تاریخ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ تاریخ سے ہم یہ سیکھتے ہیں کہ تاریخ سے ہم کچھ نہیں سیکھتے۔ جنگ کے متعلق تاریخ عجب سبق دیتی ہے۔ کبھی کبھی کوئی ملک جنگ........
