menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

ریڈ زون میں نئے انداز کا مہذب احتجاج

22 0
04.10.2026

یادش بخیر! علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ڈاکٹر یاسین مظہر صدیقی مرحوم ہر سال پاکستان آتے تو ہو نہیں سکتا تھا کہ جسٹس غزالی مرحوم کی قیادت میں ہم 10، 12 افراد بعد نماز عشاء تا صبح کاذب ان کے ساتھ شب بیداری نہ کریں۔ تخلیقی صلاحیت کی بات چل نکلی تو بولے کہ ان کے وہاں ایک طالب علم نے فیس معافی کی درخواست دی جو منظور نہ ہوئی۔اس نے مکرر کوشش کی لیکن فیس معاف نہ ہوئی۔ فیس، مثلاً آج کے حساب سے، ایک لاکھ روپیہ تھی۔ وہ اور اس کے چند ساتھی چندہ کر کے آخری دن چھٹی کے وقت چونیاں اٹھنیاں اور ریزگاری کی بوریاں بھر لائے اور بولے ”یہ رہی  فیس، رسید دے دیجئے“ بھلے وقت تھے، معاشرتی رکھ رکھاؤ باقی تھا۔ اتنی ریزگاری گننے کو دو دن بھی کم تھے۔ حکام سے پوچھا گیا کہ کیا کیا جائے۔ وقت ہی نہیں لوگ بھی بھلے مانس تھے۔ وائس چانسلر نے سائل کی تخلیقی متانت سنی، قہقہہ لگایا اور فیس معاف کر دی۔

ضیاء  الحق کا مارشل لا تھا، کون سا اظہار رائے اور کیسی آزادی؟ اخبار خریدو تو کبھی اداریے کی جگہ خالی تو کبھی تین کالمی خبر غائب۔ آج کے لوگوں کو سینسر یا سینسر بورڈ کا کیا علم؟ لیکن تخلیقیت کا داعیہ ہو تو اسالیب اظہار تو بدل جاتے ہیں، اظہار نہیں مرتا۔ اس عالم میں افسانے نے ایک نیا چولا بعنوان علامتی افسانہ اوڑھ لیا،  وہ افسانہ جسے سب نہیں لیکن اس کے مخاطبین اور عوام نہ سمجھ کر بھی سب سمجھ جاتے ہیں۔ رہی شاعری تو وہ اظہار........

© Daily Pakistan (Urdu)