مشاعرے کا عروج یا شاعری کا زوال
کالم کا عنوان پڑھ کے آپ سوچیں گے یہ کیا بات ہوئی، اگر مشاعرے کا عروج ہے تو شاعری کا زوال کیسے ہو سکتا ہے۔ تو صاحبو! یہ اسی طرح کا معاملہ ہے جو برسوں پہلے اسٹیج ڈرامے کے ساتھ ہوا۔ شو کی ٹکٹ بلیک میں بھی نہیں ملتی تھی اور کھڑکی توڑ رش کی وجہ سے ہر طرف شوروغل تھا کہ دیکھو اسٹیج ڈرامے کا عروج اسے کہتے ہیں۔یعنی وہ غافل زوال کو عروج سمجھ رہے تھے۔ فحش ڈانسوں، ذومعنی مکالموں،عریاں لباس اور رشتوں کا تقدس پامال کرتی جگتیں اُس ڈرامے کے اجزائے ترکیبی تھے۔ ان میں کوئی کہانی ہوتی تھی نہ منظرنامہ، پردہ ہٹتے ہی تماشائیوں کی طرف سے ڈانس ڈانس کے نعرے شروع ہو جاتے۔ پھر جلد ہی وہ وقت آ گیا جب مصنوعی عروج کا یہ غبارہ پھٹ گیا، پابندیاں لگیں تو تھیٹر ویران ہو گئے۔فنکاروں کے فاقے اور رقاصاؤں کی آہیں باقی رہ گئیں، اس دن کے بعد سے اسٹیج ڈرامہ آج تک پھر اپنے پیروں پر نہیں کھڑا ہو سکا۔آج بھی وہ فحش ڈانسوں کی بنیاد پر ہی چلتا ہے اور آئے روز یہ خبریں آتی ہیں کہ فلاں تھیٹر سیل کر دیا گیا یا فلاں رقاصہ پر پابندی لگا دی گئی تو اسے کہتے ہیں اسٹیج ڈرامے کا زوال،اب آج کل ہم مشاعرے کا عروج دیکھ رہے ہیں جس میں شاعری کا زوال نوشتہء دیوار نظر آ رہا ہے۔ اب زوال پذیر اور گھٹیاشاعری کے حامی بھی وہی کام کررہے ہیں جو اسٹیج ڈراموں میں نرگس اور خوشبو کے ڈانسوں پر واہ واہ کرتے تھے ان کا استدلال ہے کہ نوجوان شاعروں کو اگر مقبولیت مل رہی ہے تو........
