menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

اپنے ہاتھوں پر اپنا ہی لہو

31 0
04.10.2026

ایوانِ صدر میں ہونے والی ایک بڑی بیٹھک جس کی سربراہی صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کر رہے تھے، کے نتیجے میں حکومتی اتحاد اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات شروع ہو چکے ہیں۔ان کا نتیجہ جو بھی نکلے فی الحال تو اہل ِ پاکستان کی بھاری تعداد نے سُکھ کا سانس لیا ہے، ان کے ہاتھ اِس دُعا کے لئے اُٹھے ہوئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فریقین کو ایک دوسرے کی بات سننے،سمجھنے اور آگے بڑھنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ دونوں اپنے اپنے دائرے میں اپنا اپنا کام کرنے پر تیار ہو جائیں۔ پارلیمانی نظام میں اپوزیشن کو محو ِانتظار حکومت(گورنمنٹ اِن ویٹنگ) کہا اور سمجھا جاتا ہے۔دونوں کے درمیان کسی بھی وقت بنچوں کا تبادلہ ہو سکتا ہے۔ عام انتخابات کے بغیر بھی کسی وزیراعظم کو اپنی جماعت، یا (اگر مخلوط حکومت ہو تو) اتحادی جماعتوں کے اعتماد سے محروم ہو کر کرسی ئ اقتدار خالی کرنا پڑ سکتی ہے۔ پارلیمانی جمہوریت کی اماّں جان برطانیہ کو دیکھ لیجیے کہ گذشتہ پانچ سال میں پانچ وزرائے اعظم وہاں دیکھنے کو ملے ہیں۔ بورس جانسن نے تین ماہ ایک سال حکومت کی، لز ٹُرس نے صرف49دن، رشی سونک نے ایک سال اور آٹھ ماہ جبکہ کیئر سٹارمر کا ستارہ دو سال بعد ڈوب گیا،20جولائی سے اینڈی برنہم اقتدار سنبھالے ہوئے ہیں۔ بادشاہت یا آمریت میں حکومت کا ہاتھ سے نکل جانا، تباہی اور بربادی کہلا سکتا ہے  لیکن جمہوریت اور وہ بھی پارلیمانی جمہوریت میں یہ کوئی انوکھی بات نہیں۔وزیراعظم عمران خان نے جب منصب سنبھالا تھا تو تحریک انصاف کو بلاشرکت ِ غیرے قومی اسمبلی میں اکثریت کی حمایت حاصل نہیں تھی،انہیں مخلوط حکومت بنانا........

© Daily Pakistan (Urdu)