menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

معاشرتی تفاوت کا حل!

9 0
previous day

فلاحی ریاست میں ترجیح عوام ہوتے ہیں، مگر بدقسمتی سے ہم فلاحی ریاست نہیں بن سکے۔ حکومتوں کی ترجیحات میں عوامی فلاح و بہبود کی بجائے اشرافیہ اور برسر اقتدار طبقے کی مراعات ہیں جن کے لئے وسائل ہی نہیں سڑکوں اورترقیاتی منصوبوں کا رخ بھی موڑ دیا جاتا ہے۔لاہور قدیمی اور تاریخی شہر ہے۔جس کی سڑکوں اور دیواروں سے تقسیم برصغیر سے پہلے مغلیہ دور حکومت، رنجیت سنگھ اور برطانوی سامراج کے نقوش نظر آتے ہیں۔ والڈ سٹی یعنی اندرون شہرکے اندر پرانے گھر، عالیشان حویلیاں اور بوسیدہ عمارتیں بھی ہیں۔ یہاں کے رہنے والے اپنی ضرورت کے مطابق ان عمارتوں میں تبدیلیاں اور تزئین و آرائش کرتے رہتے ہیں،لیکن اندرون شہر سے باہر جب لاہور نے اپنی وسعت، خوبصورتی اور جدیدیت کو اپنایا تو صاحب وسائل لوگوں نے یہاں گھر بنانا شروع کیے۔ تقسیم برصغیر سے بھی پہلے ماڈل ٹاؤن تشکیل پایا،جہاں خوبصورت، منظم اور بڑے گھروں کی تعمیرات کا آغاز ہوا۔ اس کے بعد سمن آباد،علامہ اقبال ٹاؤن،گارڈن ٹاؤن، گلبرگ،مسلم ٹاؤن، ڈیفنس اور دیگر کئی خوبصورت رہائشی سکیمیں بنتی گئیں، جن کی بغل میں چھوٹی اور غریب بستیاں پہلے سے موجود تھیں یا بعد میں بنیں۔ جن میں سے ایک میں چند دن پہلے کاہنہ کے علاقے میں تقریباًتین مرلے کے گھر میں اپنا پیٹ پالنے کے لئے ایک خاتون ٹیچر کے ٹیوشن سینٹر میں حادثہ پیش آیا۔ اس استانی کا شوہر فروٹ کی ریڑھی لگا کر اپنی گزر اوقات کرتا ہے،جبکہ وہ ٹیوشن پڑھا کر اس کا ساتھ دیتی ہے۔ مون سون سے پہلے حفظ ما تقدم کے تحت گھر کی چھتوں کو مضبوط کرنے کی غرض سے کہ کہیں بارش کا پانی ٹپک نہ........

© Daily Pakistan (Urdu)