menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

دورِ ایوبی میں زخم زخم سرکاری عید؟

11 0
previous day

1967ء کی بات ہے رمضان المباک کا مہینہ تھا،ابھی تین چار روزے باقی تھے اور عیدالفطر جمعتہ المبارک والے روز آتی نظر آ رہی تھی، عام خیال یہی تھا کہ اس دفعہ تیس روزے ہوں گے اس وقت ملک کے پہلے فیلڈ مارشل ایوب خان سربرآرائے مملکت تھے۔ ایوانِ اقتدار میں ہونے والی سرگوشیاں عوامی حلقوں تک بھی پہنچ گئیں کہ ایوب خان کے چاپلوس وزیروں، مشیروں اور حاشیہ برداروں نے اپنے آقا کی خوشنودیئ طبع کی خاطر ان کے کان بھرنا شروع کر دیئے ہیں جمعتہ المبارک کو عیدالفطر کا آنا ”ظل الٰہی“ کے اقتدار کے لئے نیک شگون نہیں۔ ایوب خان نے ہوسِ اقتدار کی تشنگی بجھانے کے لئے بعض ایسے گندم نما جو فروش انسانوں کو لالچ اور طمع کے جال میں اپنا حمایتی بنا رکھا تھا،جو بظاہر اس کی کنونشن مسلم لیگ میں شامل تو نہ تھے مگر ایوب خان سے دانہ پانی ملنے کے باعث سیاسی اور عوامی رہنماؤں کے خلاف بیان بازی میں مصروف رہتے تھے۔ان میں دین کے حوالے سے ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر پروگراموں میں شامل ہونے والے بھی بہت تھے یہ پوری کھیپ اس معاملے میں ہم آواز تھی کہ عیدالفطر کسی صورت جمعہ کے روز نہیں ہونی چاہئے۔ ”حضور“ یہ آپ کے اقتدار کے لئے بدشگونی کا باعث ہو گی، بس پھرکیا تھا پوری سرکاری مشینری حرکت میں آ گئی اور اُن کی طرف سے گویا چاند ایک یوم قبل ہی طلوع کرنے کے ”انتظامات“ ہونے لگے۔ مگر قدرت کاملہ کو اپنے کاموں میں کسی کو دخل اندازی گوارا نہ تھی۔ 29واں روزہ ختم ہونے کے بعد رات گیارہ بجے تک ملک کے کسی بھی علاقے میں چاند نظر نہ آیا اس وقت پاکستان خیبر سے چاٹگام پھیلا ہوا تھا،مگر ٹھیک11بجے رات پاکستان ٹیلیویژن اور ریڈیو کی خبروں میں مقامات کا........

© Daily Pakistan (Urdu)