menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

تبادلے،ماموں اورپنجاب کے ٹاپ سیکرٹریز

11 0
previous day

ماموں بنانا ایک مشہور اردو محاورہ ہے جس کا مطلب کسی کو دھوکہ دینا یا بے وقوف بنانا ہے،اس محاورے کے مطابق جب کوئی شخص کسی دوسرے کو اپنی باتوں میں الجھا کر یا چالاکی سے کوئی فائدہ اٹھاتا ہے اور سامنے والے کو پتہ بھی نہیں چلتا، تب عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ ”اس نے اسے ماموں بنا دیا، اس محاورے کے پیچھے ایک دلچسپ کہانی ہے کہ پرانے زمانے میں دہلی کا ایک بادشاہ اپنے نااہل اور نالائق درباریوں کو وزارت،مشاورت یا دوسرے اہم عہدے دینے کے بجائے مذاق میں ماموں کہہ دیا کرتا تھا، درباری خوش ہوتے کہ بادشاہ انہیں اپنا رشتہ دار بتاتا ہے، لیکن درحقیقت وہ ان کی نالائقی کا مذاق اڑا رہا ہوتا تھا، تب سے یہ محاورہ بے وقوف بنانے کے معنوں میں رائج ہو گیا۔ راولپنڈی انتظامیہ میں ہفتہ قبل ہونے والے تبادلوں کے متعلق ابھی تک قیاس آرائیاں جاری ہیں،پس پردہ کہانی سنانے کے لئے ہر کوئی دوسرے کو ماموں بنا رہا ہے،بعض حلقے انہیں معمول کے انتظامی فیصلے کہ کر پوچھنے والوں کو ماموں بنا رہے ہیں تو بعض ان تبادلوں کے پیچھے اعلیٰ سطح پر کی گئی حکمت عملی کا بیان دے رہے ہیں،یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ چند ایسے افسر، جنہیں بااثر اور پسندیدہ تصور کیا جاتا تھا، ان کی تبدیلی میں بھی انہی کے سرپرست حلقوں نے کردار ادا کیا تاکہ انتظامی ڈھانچے میں نئی ترتیب قائم کی جا سکے، تا ہم ان تبادلوں کے بعد بیوروکریسی میں دو واضح پیغامات سامنے آئے ہیں، پہلا یہ کہ انتظامی فیصلوں میں سیاسی مداخلت کم سے کم رکھی جا رہی ہے، دوسرا یہ کہ صوبے کے اعلیٰ ترین انتظامی افسر کے فیصلوں اور قائم کیے گئے میرٹ کو بنیادی حیثیت دی جا رہی ہے، یہ ایک مثبت پیش رفت ہے، کیونکہ ایک مضبوط اور غیرجانبدار سول سروس ہی بہتر طرز حکمرانی کی ضمانت........

© Daily Pakistan (Urdu)