menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

لفظوں کے زہریلے تیر

12 0
04.06.2026

قومیں صرف سرحدوں سے محفوظ نہیں رہتیں، اْن کے نظریات، ادارے اور محافظ بھی اْن کی بقا کی ضمانت ہوتے ہیں۔جب کوئی دشمن کسی ملک کو کمزور کرنا چاہتا ہے تو وہ سب سے پہلے اْس کے دفاعی اداروں پر حملہ کرتا ہے۔کبھی بارود سے، کبھی سازش سے اور کبھی الفاظ کے زہریلے تیروں سے۔ پاکستان برسوں سے اسی خاموش جنگ کا سامنا کر رہا ہے جہاں ایک طرف وطن کے سپاہی سرحدوں پر اپنی جانیں قربان کرتے ہیں تو دوسری طرف کچھ عناصر ہر وقت افواجِ پاکستان کے خلاف زہر اگلنے میں مصروف رہتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جنہیں شہید کے لہو کی حرمت محسوس نہیں ہوتی،اْنہیں اْس ماں کے آنسو دکھائی نہیں دیتے جس نے اپنے جوان بیٹے کو وطن پر قربان کیا،اْن کے نزدیک ہر قربانی مشکوک اور ہر کامیابی متنازع ہوتی ہے۔وہ سوشل میڈیا کے اندھیروں میں بیٹھ کر ایسے بیانیے تراشتے ہیں جن کا مقصد قوم اور اْس کے محافظوں کے درمیان بداعتمادی پیدا کرنا ہوتا ہے،ان کو معلوم نہیں کہ افواجِ پاکستان ایک عسکری ادارے سے بڑھ کر اس دھرتی کی سلامتی کی علامت ہے۔یہی وہ جوان ہیں جنہوں نے 1965ء  کی جنگ میں دشمن کے غرور کو خاک میں ملایا۔یہی سپوت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سینوں پر گولیاں کھا کر امن کی شمع روشن کرتے رہے۔شمالی وزیرستان کے پہاڑ ہوں یا بلوچستان کی سنگلاخ وادیاں، ملک کے چپے چپے پر انہی........

© Daily Pakistan (Urdu)