علماء و جہلا کے مشغلے اور سید مودودیؒ
رہائی کے بعد مولانا مودودیؒ نے اپنی تگ و دو اسی شد و مد سے جاری رکھی اور حکومتی سختیوں اور مخالفین کے بغض و عناد کا مقابلہ کرتے ہوئے آگے بڑھتے رہے۔ 1965 میں ایوب خان نے صدارتی انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا۔اُس کے مقابلے میں متحدہ اپوزیشن نے بہت سوچ بچار کے بعد محترمہ فاطمہ جناح کو اپنا امیدوار نامزد کیا۔ ایوب خان صدارتی انتخاب کے لئے نا اہل تھا۔ آرمی ایکٹ بھی صدر ایوب کو صدارتی انتخاب کی اجازت نہیں دیتا تھا،ایسے میں ایک پرانے نوٹیفیکشن کا سہارا لیا گیا، جو نا قابلِ عمل اور نا قابلِ قبول تھا مگر اُس وقت کے نامور قانون دان شیخ منظور قادر نے دباؤاستعمال کرتے ہوئے ایوب خان کے کاغذات ِ نامزدگی منظور کرا لئے، اس کے ساتھ یہ کوشش بھی کی گئی کہ فاطمہ جناح کا نام ووٹر لسٹ سے ہی نکال دیا جائے۔ ریٹرننگ افسر نے بھی پورا زور لگایا۔ مگر محترمہ کے وکیل میاں منظر بشیر نے ایسا نہ ہونے دیا۔اس وقت کے علماء کرام کو جنہیں حکومتی سرپرستی حاصل تھی، ایوب خان کے غیر قانونی اور غیر اخلاقی اقدامات میں تو کوئی قباحت دکھائی نہ دی مگر ایک عورت کے سربراہِ مملکت بننے میں وہ خطرہ نظر آ گیا جو دین ِ اسلام کی عمارت کو منہدم کر سکتا تھا۔ عورت کی حکمرانی کی مخالفت کر کے یہ علماء جہاں ایوب خان کی الیکشن مہم چلا رہے تھے وہاں مودودی صاحب کو بے دین ثابت کرنے اور اسلامی معاشرے میں اُن کے تشخص کو مجروح کرنے میں بھی ہمہ تن مشغول تھے، اس کے ردِعمل میں مولانا مودودیؒ نے اس رائے کا اظہار کیا کہ ایسی........
