علما ء و جہلا کے مشغلے اور سید مودودیؒ
یہی سوالات جوہر کہیں بحث و تکرار کا موضوع بنے ہوئے تھے اور بھائی کو بھائی سے جدا کر رہے تھے جب مولانا مودودیؒ سے پوچھے گئے تو اُنھوں نے برجستہ جواب دیا کہ یہ سوالات نہ ہی تو قبر میں پوچھے جائیں گے اور نہ حشر میں۔ اس لئے ان کا جواب جاننے کی بجائے ہمیں ان سوالات کی تیاری کرنا چاہیے جو پوچھے جائیں گے۔ مزید فرمایا کہ نادان ہے وہ طالبِ علم جو ان سوالوں کی تو تیاری نہ کرے جو پوچھے جائیں گے اور اُن سوالوں میں وقت اور انرجی ضائع کرتا پھرے جو نہیں پوچھے جائیں گے۔
ہمیں مولانا کا جواب اس قدر پسند آیا کہ آئندہ ہر پیش آمدہ مسئلے میں اُن کی رہنمائی کے منتظر رہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے دور ِ ایوبی کے آخری دنوں میں جب ذوالفقارعلی بھٹو نے اسلامی سوشلزم کا نعرہ لگایا تو دانش و بینش رکھنے والے بھی سوچ میں پڑ گئے کہ اس کا کیا مطلب ہے۔ ان دنوں مولانا بغرض علاج ملک سے باہر تھے،اس لئے اسلامی ذہن رکھنے والے حتی کہ جماعت ِ اسلامی کے اکابرین بھی حیران تھے کہ بھٹو صاحب نے جو شوشہ چھوڑا ہے اُس سے کس طرح نمٹا جائے۔ ایسے میں مولانا واپس آئے تو اُنھوں نے یہ معاملہ اتنی آسانی سے حل کر دیا کہ سب حیران رہ گئے۔ آپ نے فرمایا ’جو شخص اسلامی سوشلزم کا نعرہ لگا رہا ہے وہ یا تو اسلام کو نہیں جانتا یا سوشلزم سے ناواقف ہے۔یا پھر دونوں سے بے بہرہ ہے۔‘
گورنر ہاؤس کے بڑے مہمان خانے میں مولانا مودودی بیٹھے ہوئے ہیں، اُن کے سامنے پاکستان کے........
