علما و جہلاکے مشغلے اور سید مودودیؒ!
جب ہم گیارہ سال کے ہوئے تو خیال آیا کہ اسکول میں پڑھائی کے بعد کوئی ایسا مشغلہ ہونا چاہیے جس سے دل بہلاوے کا کام لیا جاسکے مگر اُس وقت بچے جو کھیل کھیلتے اُن میں سے کوئی ہمارے مزاج کے مطابق نہ تھا۔ نہ گلی ڈنڈا، نہ پٹھو گرم، نہ کبڈی، نہ فٹ بال، نہ والی بال نہ کرکٹ۔جو کھیل گھر میں رہ کر کھیلے جا سکتے تھے اُن میں تاش اور لڈو عام تھے لیکن تاش کھیلنے کا کام چونکہ جواری بھی کرتے تھے اس لئے عزت دار اس سے دور رہتے اور کھیلتے بھی تو چوری چھپے بڑوں کی نظروں سے بچ کر، شرفا کے بچے تو اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے مگر آپ کو یہ سُن کر حیرت ہو گی کہ اہلِ تعبیر کے نزدیک خواب میں تاش کھیلنا مصیبت کے دور ہونے اور پتے دیکھنا دولت مندی کی علامت ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جواری اپنا زیادہ وقت سونے میں گزارتے ہیں مگر ہم بچوں کا سونا جاگنا اپنی مرضی سے نہیں بلکہ قاعدے قانون کے تحت تھا، اس لئے تاش کے پتے ہمیں کوئی فائدہ نہ دے سکے، لے دے کے لڈو کا کھیل ایسا تھا جو بڑے اور بچے بلا خوف و خطر کھیل سکتے تھے، اس میں چار کھلاڑی کبھی خوش قسمتی سے اور کبھی ہوشیاری سے چار گوٹیوں کو سب سے پہلے اُن کے گھر تک پہنچا کر کامیاب ہو جاتے، چار چوکٹوں کے دوسری جانب سانپ اور سیڑھی کا کھیل تھا۔........
