سفر ِ شوق سے سفرِ آخرت تک
پسینہ آنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی جو ہمیں بعد میں پتہ چلی کہ وہ انجائنا پکٹورس کے مریض تھے مگر اپنے مرض کی طرف کم ہی توجہ دیتے۔ غوثیہ چوک میں ہومیوڈاکٹر قاضی منیر صاحب کا کلینک تھا، اکثر انہی سے دوا لیتے۔ ایک دن میں نے دیکھ کہ وہ کلینک سے نکلے اور سست روی سے چلتے ٹاہلی موہری چوک کی طرف آ رہے ہیں۔ میں کسی کام سے چوک میں کھڑا تھا،وہ تھوڑا چل کر اکڑوں بیٹھ گئے پھر کچھ ہی دیر بعد اُٹھ کھڑے ہوئے، میں نے پاس جا کر حال احوال پوچھاتو کہنے لگے،’تھوڑی تھکن محسوس ہو رہی تھی اس لئے بیٹھ گیا مگر رات تسبیح چلاتے ہوئے جو پسینہ اُن کے چہرے پر اتر آیا تھا، ویسے ہی پسینہ سے وہ اس وقت بھی بھیگے ہوئے تھے۔پروفیسر صاحب کو اس حالت میں دیکھ کر افسوس ہوا،میں نے اُنھیں گھر جا کر آرام کرنے اور بحالیِ صحت تک ہر طرح کی سرگرمیوں سے کنارہ کش ہونے کا مشورہ دیا پھر خیال آیا کہ آرام کے ساتھ اگر کوئی نفع بخش کام بھی انھیں سونپ دیا جائے تو زیادہ امکان ہے کہ وہ خود کو گھر تک محدود رکھیں گے، اچانک مجھے یاد آیا کہ ہمارے ایک ملنے والے تاج صاحب اپنے بیٹے کے لئے جو میٹرک میں تھا بہت فکر مند تھے۔بچہ انگلش میں کمزور تھا اور دو اڑھائی ماہ بعد اُس کا فائنل امتحان ہونے والا........
