تاریخ کا دھارا بدلنے کا وقت |
مسلسل بدلتے حالات میں پاکستان اب تک جس سمجھ بوجھ سے چل رہا ہے، اس نے نہ صرف پاکستان کو ایران، اسرائیل و امریکہ جنگ کے منفی اثرات سے بڑی حد تک محفوظ رکھا ہوا ہے بلکہ اس کی اہمیت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ کل بیناگوئندی جب بالآخر امریکہ جانے کے لئے دبئی پہنچیں اور وہاں ان کا چند گھنٹوں کے لئے قیام تھا تو انہوں نے دبئی کے حالات جاننے کی کوشش کی انہوں نے مجھے وہاں کے مناظر واٹس اپ کئے اور فون پر بتایا کہ دبئی کی رونقیں ماند پڑ چکی ہیں، کوئی ویرانی سی ویرانی ہے، ایک خوف ہے جس کی وجہ سے لوگ باہر نہیں نکل رہے کہنے لگیں مجھے تو لاہور بہت یاد آیا، جہاں زندگی اور عید کی رونقیں عروج پر تھیں۔ یہ پاکستان پر اللہ کا بہت کرم ہے کہ وہ بالکل محفوظ اور پرامن ہے جو لوگ بہت جذباتی ہیں اور یہ چاہتے ہیں پاکستان کسی نہ کسی طرح اس جنگ میں اِدھر یا اُدھر سے کود پڑے، وہ عقل سے محروم ہیں صورت حال اتنی سادہ نہیں کہ بلا سوچے سمجھے کوئی قدم اٹھا لیا جائے گا۔ اس وقت پاکستان ایک ایسے ملک کے طور پر اپنی پہچان بنا چکا ہے، جو تقریباً سب فریقوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔ گذشتہ دنوں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی سعودی عرب کے شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات ہوئی وہ اس لئے بڑی اہمیت کی حامل تھی کہ دنیا کو بتا دیا جائے حرمین شریفین اسلام کی مشترکہ اساس ہے اس کی طرف کسی کو میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرائت نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستان نے امریکہ سے اچھے تعلقات ہونے کے باوجود موجودہ حالات میں اپنی غیر جانبداری اور اعتدال کے تاثرکو برقرار رکھا ہے، امریکہ کو اڈے دیئے اور نہ ہی اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی کسی فریق کو اجازت دی، البتہ جہاں کسی سے زیادہ ہوئی اس کے لئے آواز ضرور اٹھائی۔ ایران پر امریکہ و اسرائیل کے حملوں کی مذمت کی اور دوسری طرف ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر کئے جانے والے حملوں پر بھی مذمت بیانات جاری کئے یہ شاید پاکستان کے سخت ردعمل کا ہی نتیجہ تھا کہ ایران نے خلیجی ممالک پر حملے روک دیئے اور یہ وضاحتی بیان بھی جاری کیا کہ اس نے شہری آبادی کو نہیں ان ممالک میں قائم امریکی اڈوں کو نشانہ بنایاپھریہ تک کہا کہ اگر ان ممالک میں قائم اڈوں سے ایران پر حملے نہیں ہوتے تو ایران حملے نہیں کرے گا، بہتر تو یہی ہوتا کہ ایران سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، عمان اور بحرین پر جوابی حملے کرنے کی بجائے ان ملکوں کو ایک وارننگ دیتا کہ اپنی حدود سے حملے نہ ہونے دیں، وگرنہ جواب میں وہاں موجود اڈوں کو ہدف بنایا جائے گا، تاہم اب تک کی صورت حال بتا رہی ہے کہ پاکستان نے برادر اسلامی ممالک سے اپنے غیر جانبدارانہ تعلق کو برقرار رکھا ہے، گویا پاکستان اس وقت بھی ایک ایسا ملک ہے جو اس ساری صورت حال میں موثر کردار ادا کرنے کی پوزیشن رکھتا ہے۔
سب سے اچھی بات یہ ہے کہ امریکہ پاکستان سے ایسی کوئی فرمائش نہیں کر رہا،جو موجودہ حالات میں اس کے لئے مشکلات کا باعث بنے، پوری قوم کو یاد ہے کہ جب امریکہ نے افغانستان کو اپنی جارحیت کا ہدف بنایا تھا تو کولن پاول نے ایک ٹیلی فون کال پر جنرل پرویز مشرف سے پوچھا تھا، پاکستان ہمارے ساتھ ہے یانہیں، ساتھ نہیں ہے تو پھر تورا بورا بننے کے لئے تیار ہو جائے، اس کال کے جواب میں امریکہ کو پاکستان میں اڈے دیے دیئے گئے تھے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم افغان جنگ کی فرنٹ لائن پرآ گئے دہشت گردی ہمیں بھگتنا پڑی اور جانی ومالی نقصان بھی اٹھانا پڑا، اس بار امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ جیسے من مانے فیصلے کرنے والے صدر کی حکومت ہے جو ساتھ نہ دینے والے ممالک کو چاہے وہ یورپی ہوں یا مشرق وسطیٰ کے،سخت نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں مگر پاکستان سے انہوں نے کسی ایسے ڈومور کا تقاضا نہیں کیا جو ہمیں مشکل میں ڈال دے۔ اس وقت یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان ایک تکون کے کنارے پر کھڑا ہے، ایک طرف امریکہ،دوسری طرف خلیج کے دوست ممالک اور تیسری طرف برادر اسلامی ملک ایران ہے،جب انسان تکون میں ہو تو اس کے لئے توازن قائم رکھنا مشکل ہو جاتا ہے، مگر پاکستان نے اپنا توازن برقرار رکھا ہوا ہے اس کے رابطے ہر فریق سے جاری ہیں، گویا وہ اب ایک ایسا ملک ہے جو اس گھمبیر صورت حال میں مفاہمت کی کوئی راہ نکال سکتا ہے اس وقت اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کا بھی کوئی کردار نہیں رہا کہ وہاں بھی ایک گہری تفریق موجود ہے، چین اور روس بھی اپنی بعض مجبوریوں اور پالیسیوں کی وجہ سے بیانات کے سوا کوئی کردا رادا کرنے سے قاصر ہیں تاہم پاکستانی قیادت کی ڈونلڈ ٹرمپ تک بھی رسائی ہے، ایرانی قیادت تک بھی۔ دوسری طرف سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور دیگر خلیجی ممالک بھی پاکستان کی بات سننے کو تیار ہیں۔ جنگ کا دورانیہ بڑھنے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں اس کے حوالے سے تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے، دنیا میں آزادانہ سفر کی راہ مسدود ہو چکی ہے، ایئر لائنز کا بزنس تباہ ہو رہا ہے، آبنائے ہرمز بند ہونے سے تجارت رک گئی ہے، اشیاء کی قلت واقع ہو رہی ہیں، ایٹمی جنگ کے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔ دونوں طرف ایک اَنا کی جنگ ہے۔ یہ سمجھ لیا گیا ہے، جو فریق بھی جنگ بندی پہلے قبول کرے گا، وہ دنی امیں اپنا مقام کھو دے گا، امریکہ اور ایران کی طرف سے مشروط جنگ بندی کی آوازیں آ رہی ہیں لیکن کوئی ایسانہیں کہ جو درمیان میں آئے اور دونوں فریقوں سے کہے اپنی اپنی شرائط نرم کرکے کسی قابل قبول معاہدے پر پہنچیں۔ مجھے لگتا ہے بالآخر یہ کردار پاکستان ہی کو ادا کرنا پڑے گا،کیونکہ اس وقت کی صورت حال میں پاکستان ہی ایک ایسا ملک ہے جو تکون کے مرکز پر کھڑا ہے۔
اس وقت اہم ترین ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان ایک طرف اپنی یہ غیر جانبدارانہ حیثیت برقرار رکھے اور دوسری طرف ملک کے اندر اس حوالے سے مثالی یکجہتی موجود ہو۔ شیعہ سنی کی تفریق سے بات بہت آگے جاچکی ہے، اب ایک طرف اسلام کی برتری کا سوال ہے اور دوسری طرف خطے کی سلامتی کا، کوئی مانے یا نہ مانے اس وقت بھی یہود و نصاریٰ کی سب سے بڑی سازش اور خواہش یہی ہے کہ کسی طرح ایران اور خلیجی ممالک آپس میں لڑ پڑیں۔ بات پھیلتے پھیلتے اس پورے خطے کی تباہی کا باعث بنے تاکہ اسرائیل کو مشرق وسطیٰ کا بلاشرکت غیرے طاقت ور ملک بنایا جا سکے۔ اس امریکی و یہودی ایجنڈے کو سمجھنا ضروری ہے۔ خود ایرانی قیادت کو بھی کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے اس بنیادی نکتے پر نظر رکھنی چاہیے۔ یہ وہ وقت ہے جب اسلامی ملکوں کا اتحاد انہیں اس خطے کی دوبارہ بڑی طاقت بھی بنا سکتا ہے اور اگر صیہونی ایجنڈے کی لہر میں بہہ گئے تو ان کا حال ایسے ممالک جیسا ہو سکتا ہے جن پر امریکہ و اسرائیل کی غلامی کا طوق موجود ہوگا۔ تاریخ کے اس موڑپر اسلامی ممالک کا اتحاد تاریخ کا دھارابدل سکتا ہے۔