menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

مہنگائی پتھروں کے حصار میں؟

16 0
16.03.2026

خدا معلوم ایوانِ اقتدار کی بعض بااختیار کرسیوں پر براجمان ایسے کون سے فیصلہ ساز قدرے سخت دِل کے مالک چہرے ہیں جو شایدملک کے پُرامن اور قدرے ہنستے بستے معاشرے میں امن و سکون کی ہلکی پھلکی لہروں کو تادیر گوارا نہیں کر سکتے اور بے جا اختیارات کے ہتھکنڈوں کو بروئے کار لا کر معاشرتی امن و سکون میں بے سکونی اور بے چینی پیدا کرنے کے احکامات و اقدامات اٹھاتے ہوئے خوشی سے خوابِ خرگوش کے مزے لیتے ہیں جبکہ ان کی ایسی حرکات یا کارروائی سے تاریخ میں یکم کو ملک کے کروڑوں عوام کی نیندیں حرام ہو جاتی ہیں اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ ان کا سکون غارت ہو جاتا ہے کہنے کو تو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہمارے ہاں معمول کی بات ہے اور ایسے ہر اقدام پر بااختیار کرسی نشینوں کے فیصلوں پر دم بخود ہو کر رہ جاتے ہیں وجہ صاف ظاہر ہے کہ کبھی بھی ان کے احتجاج کے چند الفاظ پر فیصلہ سازوں کے دل نہیں پسیجتے،اب کے بھوک و افلاس سے بے سکون عوام کو مزید مہنگائی اور زندگی کو کٹھن سے کٹھن صورتحال سے دوچار کرنے والے فیصلہ سازوں کو اس امر کا قطعاً احساس نہیں ہو گا کہ پٹرول کی قیمت میں آٹھ اور ڈیزل کی قیمت میں پانچ روپے فی لیٹر اضافہ سے لوگوں کی بے سکون زندگی کو مزید کیسے کیسے دُکھ دہ حالات کا سامنا کرنا ہو گا جبکہ اشیائے خوردو نوش کی ریکارڈ مہنگائی  میں ان کے بال بچوں کی خاطر دو وقت کی روٹی کا حصول بھی ناممکن بن کر رہ گیا ہے ابھی اسی اقدام پر کروڑوں عوام ایسے فیصلہ سازوں کے بارے میں خدا تعالیٰ سے دست بددعا تھے کہ بجلی کی قیمت میں ایک روپیہ 63 پیسہ فی یونٹ اضافے کا فیصلہ عوام پر آسمانی بجلی بن کر گرا جس نے ان کے دل کے  امن و سکون کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیا اور ستم بالائے ستم بات یہ ہے کہ بجلی مہنگی کرنے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا جس کے مطابق بجلی جنوری کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں مہنگی کی گئی اور ایسے عوام کش اقدامات سے مفلسی اور قلاشی کی اتھاہ گہرائیوں میں سسکتے ہوئے عوام سے مارچ کے بلوں میں اضافی رقم وصول ہو گی۔یہ فیصلہ نیشنل الیکٹرک ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کیا ہے۔ ملک کے بے سکون عوام کو کربناک صورتحال سے دوچار کرتے ہوئے یہ بھی فیصلہ صادر کیا گیا ہے کہ فیز تھری میٹروں کے صارفین کے لئے فکسڈ چارجز نافذ کر دیئے گئے ہیں جو کم سے کم1687روپے ہوں گے۔آٹھ کلو واٹ پر2700، 9کلو واٹ لوڈ پر 3037۔ دس کلو واٹ لوڈ پر3375،گیارہ کلو واٹ لوڈ پر 3712 اور بارہ کلو واٹ لوڈ پر4050، 13کلو واٹ لوڈ پر 4725 اور14کلو واٹ لوڈ پر5062 روپے فکسڈ چارجز ہوں گے۔

ملک کے سادہ دل عوام یہ سوال اٹھانے میں حق بجانب ہیں کہ یہ نیپرا یا نیشنل الیکٹرک ریگولیٹری اتھارٹی کن صاحبانِ ذی وقار شخصیات کا مرقع ہے کہ جن کے فرائض صرف اور صرف دکھوں میں مبتلا عوام کی زندگیوں میں غموں کا اضافہ کرنے کے سوا  اورکوئی کام نہیں۔ ان کے کسی  ذی ہوش رکن کو اس حقیقت سے لاعلمی ہے کہ نیپرا نے جس چیز کی قیمتوں میں آئے دن مہنگائی کر کے ضرورت مندوں کو خرید کی دسترس سے باہر رکھنے کا فرض ادا کرنے کا بوجھ اُٹھا رکھا ہے اس حوالے سے ایسا فرض انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز نے بھی اٹھا رکھا ہے جن کے خلاف احتجاج کی صدا بلند کرتے ہوئے کروڑوں غریب اور فاقہ کش عوام تھک کر نڈھال ہو چکے ہیں۔درحقیت نیپرا کے ادارے سے بھی یقینا کہیں طاقتور عناصر نے ان اربابِ اقتدار و اختیار سے بجلی فروخت کرنے کے معاہدے میں برسوں قبل یہ طے کر چکے ہیں کہ وہ معاہدہ کے تحت جتنی بجلی حکومت کو مہیا کرنے کے پابند ہوں گے اگر وہ سالانہ اتنی مقدار میں بجلی مہیا نہ بھی کر سکیں تو پھر بھی حکومت کو ہر ماہ کروڑوں روپے ڈالروں کی صورت میں انہیں ادا کرنے ہوں گے یقینا ملک کے مفلس اور غربت سے دوچار کروڑوں عوام کے لئے یہ بات ناقابل سمجھ ہے۔ اب تو یہ بات بھی طشت ازبام ہو چکی ہے کہ آئی پی پیز کے مالکان میں اربابِ حکومت کے کچھ اعزہ و اقربہ سمیت ”منظورِ نظر“ بھی شامل ہیں۔ ایسے میں نیپرا تو کیا کوئی سا ادارہ بھی ابھی تک”آئی پی پیز“ کے مالکان کی طرف گہری نظر نہیں ڈال سکا۔ باقی جہاں تک صاحبانِ اقتدار کا تعلق ہے ان کی طرف سے ایسے بیانات تواتر سے آتے رہتے اور یہ سلسلے جاری رہے گا کہ عوام کو مہنگائی کے ہر شعبے میں ریلیف دینا ان کی اولین ترجیح ہے ایسے ناگفتہ حالات میں وفاقی حکومت سے ہٹ کر صوبائی حکومتیں اپنے طور پر ضروریاتِ زندگی کی قیمتوں کو اعتدال پر رکھنے کی اپنی سی سعی کر رہی ہیں مگر اس حقیقت سے انکار کوئی عقل سے بے بہرہ ہی کر سکتا ہے کہ پٹرولیم کی قیمتوں میں نئے اضافے (55روپے فی لیٹر) اضافے سے اشیاء خورد و نوش کی قیمتیں آمدو رفٹ کے کرایوں میں اضافے سے بری طرح متاثر ہوں گی جبکہ بجلی کی مہنگائی تو عوام کی چیخیں نکال دے گی۔ حقائق اس طرح ہوں تو ایسے میں ملک کے بے بس مفلس انسانوں کے لئے اس خواب کا شرمندہ تعبیر ہونا قدرے مشکل نظر آتا ہے کہ مجموعی طور پر صوبائی حکومت کی کوششیں بار آور  ہوں گی۔گرانی کے راستے بعض اداروں کے کم فہم عناصر نے اپنے بعض عاقبت نااندیش فیصلوں سے جو بھاری بھر کم پتھروں کی رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں انہیں کوئی دل گردے والے ہی ہٹا سکیں گے ایسے ہی پتھروں کا حصار مہنگائی کو تحفظ دے رہا ہے۔


© Daily Pakistan (Urdu)