کیپٹن اعظم اقبال شہید سے وابستہ یادیں
کیپٹن اعظم اقبال شہید(تمغہ بسالت) کی ولادت سے پہلے ان کی والدہ شمیم اختر صاحبہ نے خواب دیکھا کہ آسمان سے ٹوٹا ہوا تارا ان کی جھولی میں آگرا ہے جس سے وہ بہت خوش ہیں۔اس خواب کے چند دن بعد ہی خدائے بزرگ و برتر نے ایک خوبرو بیٹا انہیں عطاء کیا۔ والدین نے اس بچے کا نام اعظم اقبال رکھا۔یہ بیٹا اس لئے بھی پورے خاندان کے لیے خوش قسمت اور انمول تصور کیا گیا کہ شیخ اقبال کے گھر اس سے پہلے تین بیٹیاں موجود تھیں۔اولاد نرینہ کی کمی شدت سے محسوس کی جارہی تھی۔بہرکیف اعظم اقبال 13اگست 1972ء کو اندرون یکی گیٹ کوچہ ہیرا لال لاہور میں پیدا ہوئے۔ان کا بچپن لاہور کی اونچی نیچی گلیوں میں ہی گزرا۔1988ء میں کیتھڈرل ہائی سکول سے میٹرک کا امتحان پاس کرنے بعد انہوں نے بی کام کا امتحان بھی نمایا ں پوزیشن سے پاس کر لیا۔اس کے بعد والدکی مخالفت کے باوجود وہ فوج میں بھرتی ہوگئے۔اعظم اقبال پاک فوج کی اکیڈیمی کاکول سے ابتدائی ٹریننگ مکمل کرنے کے بعد 1995ء میں پاس آوٹ ہوئے۔جب بیٹا ماں کی آنکھوں سے اوجھل ہوا تو بیٹے کی جدائی کا احساس شدت اختیار کرگیا۔اعظم اقبال پاک فوج کے ان جوانوں میں شریک تھے جو وادی کارگل کے بلند ترین مقام ”گلتری“کی دشوار گزار 26 ہزار فٹ کی بلند ترین چوٹیوں پر دشمن سے نبرد آزما ہونے کے لئے نکل پڑے تھے،ان کی ذمہ داری میں بھارتی فوج کی خالی پوسٹوں تک پہنچنے کے لئے راستے بنانا تھا۔ان بلند ترین چوٹیوں پر پاک فوج کے جوانوں کے لئے مضبوط پناہ گاہیں، مورچے اور بیس کیمپ بنانے کی ذمہ داری بھی انہی کے سپرد تھی۔ایک ماہ سے زائد عرصہ تک میجر اسد اور کیپٹن اعظم اقبال اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ سیاچن کی بلند ترین چوٹیوں پر بھی دشمن کی یلغار کا بے جگری سے مقابلہ کرتے رہے۔وادی کارگل کی بھارتی چوکیوں پر قبضہ کرنے والے یہ اولین لوگ تھے جنہوں نے ناممکن کو ممکن کردکھایا۔اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران میجر اسد دشمن کی گولہ باری سے زخمی ہوگئے تو کیپٹن اعظم اقبال انہیں اپنے کندھوں پر اٹھا کر بیس کیمپ کی جانب چل رہے تھے کہ بھارتی توپوں کی گولہ باری شروع ہوگئی اور اس کے ساتھ بھاری بھرکم برفانی تودے بھی گرنے لگے۔ان برفانی تودوں کی زد میں آکر میجر اسد اور کیپٹن اعظم اقبال نے جام شہادت نوش کیا۔اس لمحے ان برفانی چوٹیوں پر موسم نقطہ انجماد سے 60 ڈگری منفی تھا۔ایک طرف بیٹے کی شہادت تو دوسری جانب ان کی والدہ کی آنکھوں سے خودبخود آنسو بہنے لگے۔25 فروری کی رات انہوں نے جاگ کر گزاری۔ انہیں بار بار احساس ہورہا تھا کہ ان کا اکلوتا بیٹا اعظم گھر کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔بیٹے کے لئے اپنا سکھ چین قربان کرنے والی ماں بیماری کی حالت میں آہستہ آہستہ چلتی ہوئی دروازہ تک جاتیں اور دروازہ کھول کر دیکھتیں تو دور دور تک کوئی دکھائی نہ دیتا۔یوں 25 اور 26 فروری کی رات اپنے بیٹے کیپٹن اعظم کے لئے بے قراری حد سے زیادہ بڑھ گئی۔دن میں بھی بیٹے اعظم کی یاد میں پریشان رہیں۔26 فروری 1999ء کے اخبار میں شیخ اقبال یہ خبر پڑھ چکے تھے کہ وادی کارگل کے گلتری محاذ کے قریب برفانی تودے کی زد میں آ کر پاک فوج کے 11افسر اور جوان شہید ہوگئے ہیں۔انہی لمحات میں فون کی گھنٹی بجی۔جب شیخ اقبال نے ریسور اٹھایا تو جی ایچ کیو سے میجر شاہد بول رہے تھے۔ انہوں نے خبر دی کہ آپ کا بیٹا گلتری کے مقام پر برفانی تودے کی زد میں آکر شہید ہوگیا ہے۔اناللہ و انا الیہ راجعون۔ 27 فروری کی رات ایک بجے کیپٹن اعظم اقبال کی میت سبز ہلالی پرچم میں لپٹی ہوئی یکی گیٹ کے کوچہ ہیرا لال میں اپنے والدین کے گھر پہنچی۔رات کے اس پہر بھی شہید کے والدین سمیت تمام عزیز و اقارب جاگ رہے تھے۔ قصہ مختصرنماز جنازہ میں کور کمانڈر لاہور سمیت فوج کے اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے اور کیپٹن اعظم اقبال شہید کو لاہور کینٹ کے شہید قبرستان میں پورے فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کردیا گیا۔شہادت کے بعد تدفین کے رات ہی گھر کے ڈرائنگ روم میں مہمان لیٹے ہوئے باتیں کر رہے تھے کہ اچانک روشنی کی ایک لکیر نے سب کی توجہ اپنی جانب مرکوز کرلی۔روشنی کی لکیر اس جگہ سے نمودار ہوئی جہاں شہید اعظم کی ٹوپی، چھڑی اور میڈلز رکھے ہوئے تھے۔ وہاں موجود تمام افراد نے دیکھا کہ روشنی کی لکیر ان کے اوپر سے گزر کر بالائی کمرے کی سیڑھیوں کی جانب گئی اور نظروں سے اوجھل ہو گئی،جہاں کیپٹن اعظم سویا کرتے تھے۔ شہادت کے دس ماہ بعد کیپٹن اعظم شہید کے والدین عمرے کی ادائیگی کے لئے ارض مقدس گئے۔والد اور والدہ خانہ کعبہ کے برآمدے میں بیٹھ کر تسبیح کر رہے تھے کہ طواف کرنے والوں میں کیپٹن اعظم شہید بھی ماں کو دکھائی دیئے۔ماں نے اپنے شوہر شیخ اقبال کو اشارہ کر کے بتایا وہ دیکھو میرا اعظم طواف کررہا ہے۔اسے بلا کر لاؤ۔ اسے کہو ماں تمہارا شدت سے انتظار کررہی ہے۔کیپٹن اعظم شہید زندگی میں جو خوشبو استعمال کرتے تھے،اس خوشبو کی مہک کا احساس اکثر ان کے گھر میں جا بجا محسوس کیا جاتا تھا۔شہید کی والدہ نے مجھے ایک انٹرویو میں بتایا کہ میں ایک رات سوئی ہوئی خواب کی حالت میں خود کو گھپ اندھیرے میں گھرا محسوس کر رہی تھی۔اندھیرا اتنا گہرا تھا کہ ہاتھ کو ہاتھ سجائی نہیں دے رہا تھا۔میں سخت پریشان تھی کہ میں یہاں سے کیسے نکلوں گی۔پریشانی کے اس عالم یکدم سارے ماحول میں اُجالا ہو جاتا ہے۔سفید گھوڑے پر سوار ایک نورانی چہرے والا نوجوان ان کو آتا دکھائی دیا جس نے خوبصورت لباس زیب تن کر رکھا تھا۔اس کے سینے سے خون قطروں کی شکل میں نکل رہا تھا اور سر پر بادشاہوں والا تاج تھا۔اچانک میرے قریب آ کر رک گیا میں یہ دیکھ کر بہت خوش ہوئی کہ نورانی صورت والا نوجوان میرا ہی شہید بیٹا کیپٹن اعظم ہے۔اس نے مجھے اپنے ساتھ سفید گھوڑے پر بٹھایا اور گھر کے سامنے چھوڑ کر جب جانے لگا تو ماں نے کہا بیٹا گھر کے اندر آجاؤ۔شہید بیٹے نے اتنا جواب دیا کہ امی جان گھر کے اندر آنے کی مجھے اجازت نہیں ہے اور روانہ ہو گیا۔
