پانچ ہزار روپے والے افطار بوفے خوشحالی کی علامت ہیں؟
ایسے کئی لوگ مل جاتے ہیں جو یہ ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتے کہ پاکستان میں غربت ہے وہ ایسی ایسی مثالیں ڈھونڈ کے لائیں گے جنہیں بظاہر جھٹلانا بھی مشکل ہو گا، کل ہمارے واک گروپ میں یہی بحث چل نکلی۔ ڈاکٹر ذوالفقار علی رانا نے بتایا چند دوست افطاری کے لئے دو تین ہوٹلوں میں گئے، بوفے کا ریٹ پانچ ہزار سے اوپر تھا،مگر پہلے پارکنگ کی جگہ ملی اور نہ بعد میں ریسٹورنٹ کے اندرکوئی میز خالی تھی، اب افطاری کا وقت ایسا ہوتا ہے کہ اسے موخر بھی نہیں کیا جا سکتا،اس لئے ہم ایک سے دوسری جگہ جاتے رہے لیکن جگہ نہ ملنی تھی نہ ملی، سو ایک عام سے ہوٹل میں بیٹھ کے افطار کرنا پڑی،اس پر کچھ دوستوں نے کہا کیا اِس ملک میں غربت ہے؟ کیا غریب ملک میں پانچ سے دس ہزار روپے فی کس بوفے والے ہوٹلوں میں اتنا رش ہوتا ہے؟ پھر ان بوفہ پارٹیوں میں سو سے زائد ڈشیں ہوتی ہیں ایسا تو شاید راجہ اِندر کے دور میں نہیں ہوتا ہو گا کہ ایک آدمی کے لئے سو ڈشیں رکھی جائیں، بادشاہوں کے دستر خوان بھی پانچ سے دس ڈشوں کے بعد ختم ہو جاتے ہوں گے تو ایسے اسراف اور ایسی عیاشی کرنے والی مخلوق کے ہوتے، کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ ملک غریب ہے۔ شیخ خالد جو ایک باریش شخصیت ہیں یہ نکتہ بھی لے آئے کہ جس ملک میں لوگوں نے سوکھی روٹی اور پیاز سے روزہ کھولنا ہو، کیا اس ملک میں سو ڈشوں سے افطاری کرنے والے بخشے جائیں گے، کیا اُن پر اسراف کی حد لاگو نہیں ہو گیا؟اب ایسی باتیں ہو رہی تھیں کہ ایک دوست نے گاڑیوں کا ذکر چھیڑ دیا، اُس نے کہا اب گاڑیاں کروڑ سے نیچے کوئی لیتا ہی نہیں اور حال یہ ہے کہ کروڑ ڈیڑھ کروڑ کی گاڑی بھی بک کرانا پڑتی ہے، سب کی ڈلیوری ڈیڑھ دو ماہ بعد ہوتی ہے، کہ آرڈر اتنے زیادہ ہیں کمپنیاں پورے ہی نہیں کر پا رہیں اس لئے یہ پروپیگنڈہ اب بند ہونا چاہئے کہ پاکستان ایک غریب اور پسماندہ ملک ہے،ایک اور ساتھی نے یہ درفنطنی چھوڑی کہ جس ملک میں افسروں کے پاس اچھی بھلی گاڑیوں کے ہوتے حکومت اُن کے لئے کروڑوں روپے کی نئی گاڑیاں خریدے کیا اُس ملک کے خزانے میں پیسوں کی کوئی کمی ہے۔اربوں روپے کے جہاز لینے ہوں یا عوامی نمائندوں کو اربوں روپے کے فنڈز دینے ہوں، خزانہ کبھی انکار نہیں کرتا،اِس کا مطلب ہے وہ ہر وقت بھرا رہتا ہے۔ باقی عام آدمی کے لئے کچھ دینے میں شاید اس لئے ہاتھ کھینچ لیا جاتا ہے کہ لوگ کاہل اور نکمے نہ ہو جائیں، انہیں مشکل میں رکھا جائے تاکہ محنت،مشقت کر کے وہ ملک کا پہیہ چلاتے رہیں۔میں حیران رہ گیا کہ ان سب کی رائے پاکستان کی خوشحالی کے حق میں ہے یہ سب پڑھے لکھے باشعور اور کھاتے پیتے افراد ہیں،کیا ان کی رائے مان لی جائے؟ کیا واقعی پاکستان میں غربت نہیں،کیا خوشحالی کے جو ثبوت ہوٹلوں کے باہر گاڑیاں دیکھ کر، اُن میں جگہ نہ پا کر اور پوش کالونیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث ملتے ہیں، وہ واقعی درست ہیں؟ کیا حکومت بجلی، پٹرول، ٹیکس اور جرمانوں کے ضمن میں جو بوجھ بڑھاتی جاتی ہے، وہ اسی وجہ سے ہے؟ یعنی یہ قوم خوشحال ہے اس نے ملک کو غریب رکھا ہوا ہے۔
پھر مجھے لیہ میں رہنے والے سینئر صحافی ایم آر ملک کی باتیں یاد آئیں وہ ایک دن میرے پاس آئے،اُن کے لہجے میں ظالمانہ نظام، عدم مساوات اور غربت کے حوالے سے تلخی تو ہمیشہ رہتی ہے تاہم اُس دن وہ کچھ زیادہ ہی بھرے ہوئے تھے،انہوں نے ملتان کے کچھ علاقوں کی ترقی دیکھی تھی،کہنے لگے ملتان بڑی ترقی کر رہا ہے۔اب تو سڑکوں پر گاڑیاں گنی نہیں جاتیں، بڑے بڑے مالز، ہاؤسنگ سوسائٹیاں، ڈی ایچ اے اور شاپنگ سنٹرز بن گئے ہیں،میں سمجھ گیا اب ان کا دوسرا جملہ کسی اور طرف سے آئے گا۔ کہنے لگے کیا ملتان کی اِس ترقی کو بنیاد بنا کر آپ کہہ سکتے ہیں کہ جنوبی پنجاب ترقی کر گیا ہے، کیا یہاں جو خوشحالی کے مظاہر نظر آتے ہیں اُن کی وجہ سے یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان امیر ہو گیا ہے؟ ملتان کی آبادی تو لاکھوں میں ہو گی،یہ پاکستان تو25کروڑ افراد کا ملک ہے۔ چار پانچ فیصد کی خوشحالی ملک کی خوشحالی کیسے بن سکتی ہے۔آپ ملتان کی حدود سے ذرا باہر نکلیں تو آپ کو چاروں طرف غربت ہی نظر آئے گی،ملتان میں اگر پانچ ہزار روپے کے بوفے افطار کے لئے جگہ نہیں ملتی تو آپ کو ایسے ہزاروں گھرانے ملیں گے جہاں پورے گھرانے کے پاس افطاری کے لئے پانچ سو روپے بھی نہیں ہوتے۔ ہمیشہ سرمایہ دارانہ اور وڈیرانہ نظام پر تنقید کرنے والے ایم آر ملک نے کہا یہ چند بڑے شہروں کی چکا چوند دیکھ کر خوشحالی کے دعوے نہ کریں،یہ چھوٹے چھوٹے جزیرے ہیں جبکہ ان کے اردگرد غربت کا ایک بہت بڑا صحرا ہے۔ بات تو صحیح ہے بلکہ سامنے کی حقیقت ہے،بدقسمتی سے ہم خوشحالی تو کیا ایک اچھی مناسب زندگی گزارنے کا دائرہ بھی چند شہروں سے آگے نہیں بڑھا سکے۔سارے منصوبے، سارا بجٹ، سارے وسائل انہی کے لئے رکھتے ہیں۔ کراچی مسائل کا قبرستان بنتا جا رہا ہے، کل ایک صاحب نے پوسٹ لگائی لاہور میں رہنے والا جب کراچی جاتا ہے تو اُس کے انفراسٹرکچر کی حالت دیکھ کر دِل غمزدہ ہو جاتا ہے۔ ملک کے سب سے بڑے شہر کی جو درگت بنائی گئی ہے اُس کی وجہ سے وہاں جا کر ترقی کی بجائے غربت کا احساس ہوتا ہے ہمارا المیہ یہ ہے کہ بڑے شہروں کے اندر بھی یکساں سہولتیں نہیں دے سکے۔ ایک طرف پوش علاقے تو دوسری طرف غربت کی بستیاں،ہماری منصوبہ بندی اور خوشحالی کے دعوؤں کا منہ چڑا رہی ہوتی ہیں۔
میرے نزدیک پاکستان طبقاتی اونچ نیچ کی بدترین مثال ہے،اس طرح تو معاشرے نہیں بنتے،اس سے تو نفرتیں جنم لیتی ہیں،کل کچھ سرائیکی قوم پرست دانشور اور رہنما یہ سوال پوچھ رہے تھے یہ موٹرویز کے منصوبے صرف اپر پنجاب تک کیوں محدود رکھے گئے،جنوبی پنجاب میں دور دراز شہروں کی سہولت کے لئے اسے یہاں تک کیوں نہیں بڑھایا گیا۔ڈیرہ غازیخان ڈویژن اس سے مکمل طور پر محروم کیوں رکھا گیا،اُن کے شکوے بجا ہیں،منصوبہ بندی میں بھی یہاں خلاء رہ جاتے ہیں،یہ موٹروے کوئٹہ کی طرف بھی نہیں گئی اور اندرون سندھ کے شہر بھی اس سے مستفید نہیں ہوئے۔خیر یہ تو ایک پہلو ہے،اصل میں غربت ایک بہت بڑا جال ہے،جن ممالک نے اسے توڑا ہے اُن کی مثال سامنے رکھنا پڑے گی، چین، سنگاپور، ملائیشیا، انڈونیشیاء کیسے دیکھتے ہی دیکھتے آگے نکل گئے، وہاں صرف ایک فارمولے کو بنیاد بنایا گیا یکساں ترقی کا فارمولا، صنعتی ترقی ہو یا شہری سہولتوں کے حوالے سے ترقی، اُسے چند شہروں یا علاقوں تک محدود نہیں رکھا گیا۔ ایسے کیسے خوشحالی آ سکتی ہے کہ ڈیرہ غازیخان میں صنعتیں نہ ہوں، روز گار نہ ملے اور روز گار کمانے کے لئے لوگوں کو بڑے شہروں یا بیرون ملک جانا پڑے۔ہر سال اربوں روپے کے امدادی پیکیج دے کر لوگوں کو چند دِنوں کے لئے روٹی تو دی جا سکتی ہے مستقل خوشحالی نہیں، پاکستان اُس وقت غربت سے نکلے گا جب خوشحالی کو بھی چند بڑے شہروں سے نکال کر ملک کے طول و عرض میں پھیلانے کی منصوبہ بندی کی جائے گی۔گر یہ نہیں تو بابا، پھر سب کہانیاں ہیں۔
