لاہور میں وردی بھی متنازع، شہری بھی غیر محفوظ
جب کسی معاشرے میں قانون کے محافظ ہی الزامات کی زد میں آنا شروع ہو جائیں تو عوام کے دلوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھنا فطری ہو جاتا ہے۔ پولیس کی وردی ریاستی طاقت اور عوامی اعتماد کی علامت سمجھی جاتی ہے، مگر جب اسی وردی میں ملبوس افسران کبھی فراڈ کے مقدمات میں گرفتار ہوں اور کبھی سنگین جرائم کی خبروں میں نظر آئیں تو یہ صورتحال صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں رہتی بلکہ پورے ادارے کی ساکھ کو متاثر کرتی ہے۔ لاہور میں ایک حاضر سروس ڈی ایس پی کی کروڑوں روپے کے فراڈ کیس میں گرفتاری اور شہر کے پوش علا قے میں کروڑوں روپے کی ڈکیتی کی حالیہ واردات ایسے سوالات کو جنم دے رہی ہے جن کا جواب اب محض بیانات سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے دینا ہوگا۔پنجاب پولیس کے ڈی ایس پی اظہر نوید کو فراڈ کے ایک مقدمے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ الزام ہے کہ انہوں نے ایک شہری حسام خان سے لگثری گاڑیوں کی خرید و فروخت کے نام پر تین کروڑ چالیس لاکھ روپے کی خطیر رقم ہتھیا لی۔ اس حوالے سے تھانہ ڈیفنس بی میں مقدمہ درج کیا گیا ہے جس میں ڈی ایس پی کے بیٹے محمد نائل اظہر خان کو بھی نامزد کیا گیا ہے جو تاحال مفرور بتایا جاتا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 406 یعنی امانت میں خیانت کے تحت درج کیا گیا ہے۔متاثرہ خاندان کا مو ¿قف اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہے۔ ان کے مطابق ڈی ایس پی اظہر نوید نے نہ صرف رقم ہتھیائی بلکہ اپنی سرکاری حیثیت اور وردی کے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے انہیں سنگین مقدمات میں پھنسانے کی دھمکیاں بھی دیں۔ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ معاملہ صرف مالی فراڈ کا نہیں بلکہ طاقت کے ناجائز استعمال اور ادارہ جاتی بدنامی کا بھی ہے۔یہ واقعہ اس لیے بھی زیادہ تشویشناک ہے کہ اس سے کچھ عرصہ قبل بھی ایک حاضر سروس ڈی ایس پی اپنی بیوی اور بیٹی کے قتل کے مقدمے میں گرفتار ہو چکا ہے۔ جب قانون نافذ کرنے والے ادارے کے افسران خود سنگین جرائم میں ملوث نظر آئیں تو عوام کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ آخر وہ کس پر اعتماد کریں۔یہ صورتحال پولیس فورس کے اندر موجود ہزاروں ایماندار افسران اور اہلکاروں کے لیے بھی تکلیف دہ ہے جو دن رات اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر عوام کی حفاظت کرتے ہیں۔ چند افسران کی بدعنوانی اور جرائم پورے ادارے کے مورال کو متاثر کرتے ہیں اور عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔اصل سوال یہ ہے کہ کیا پولیس کے اندر احتساب کا نظام واقعی مو ¿ثر ہے؟ اگر ایک حاضر سروس ڈی ایس پی کروڑوں روپے کے فراڈ جیسے معاملے میں ملوث ہو سکتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ کہیں نہ کہیں نگرانی اور احتساب کے نظام میں کمزوریاں موجود ہیں۔ محض مقدمہ درج کر دینا کافی نہیں ہوگا، بلکہ ایسے افسران کو فوری طور پر معطل اور بعد ازاں ثابت ہونے پر برطرف کرنا ضروری ہے تاکہ یہ واضح پیغام جائے کہ وردی کسی کو قانون سے بالاتر نہیں بناتی۔وزیر اعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب اور سی سی پی او لاہور کے لیے یہ معاملہ ایک امتحان کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر اس کیس میں شفاف اور سخت کارروائی ہوتی ہے تو یہ نہ صرف متاثرہ خاندان کے لیے انصاف ہوگا بلکہ پولیس کے وقار کی بحالی کی طرف بھی ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ بصورت دیگر ایسے واقعات عوام کے ذہنوں میں یہ تاثر مزید مضبوط کریں گے کہ طاقتور لوگ قانون کی گرفت سے بچ نکلتے ہیں۔وردی کی عزت صرف قانون نافذ کرنے سے نہیں بلکہ کردار کی مضبوطی سے قائم رہتی ہے۔ اگر پولیس کے اندر موجود کالی بھیڑوں کا بروقت احتساب نہ کیا گیا تو یہ چند لوگ پورے ادارے کے وقار کو مجروح کرتے رہیں گے۔اسی دوران لاہور میں جرائم کی صورتحال بھی تشویشناک نظر آ رہی ہے۔دوروز قبل شہر کے پوش علاقے ڈیفنس میں ایک بڑی ڈکیتی کی واردات سامنے آئی جس میں چار مسلح ڈاکو سحری کے وقت ایک گھر سے اہل خانہ کو یرغمال بنا کر 19 کروڑ روپے سے زائد مالیت کا سونا، نقدی اور قیمتی سامان لوٹ کر فرار ہو گئے۔یہ واقعہ صرف ایک ڈکیتی نہیں بلکہ شہر میں بڑھتے ہوئے جرائم اور پولیس کی کارکردگی پر سوال ہے۔ لاہور جیسے بڑے شہر میں اگر مسلح گروہ اس قدر منصوبہ بندی کے ساتھ کروڑوں روپے کی واردات کر کے بآسانی فرار ہو جائیں تو اس سے شہریوں کے تحفظ کا احساس شدید متاثر ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شہر میں کئی جرائم پیشہ گینگ متحرک ہیں اور عام شہری عدم تحفظ کا شکار نظر آتے ہیں۔ایسے حالات میں پولیس کی اصل ذمہ داری صرف مقدمات درج کرنا نہیں بلکہ جرائم کی روک تھام اور عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ جب ایک طرف پولیس کے اپنے افسران پر الزامات لگ رہے ہوں اور دوسری طرف شہر میں بڑی بڑی وارداتیں ہو رہی ہوں تو یہ صورتحال یقیناً تشویشناک ہے۔ اگر پولیس قیادت نے اندرونی احتساب کو مضبوط نہ کیا اور جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف مو ¿ثر کارروائی نہ کی تو عوام کا اعتماد مزید کمزور ہو سکتا ہے۔
