menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

عرب ممالک کا گھوڑا

17 0
15.03.2026

رواں ہفتے کے آغاز میں امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے ایک کمانڈران چیف کی طرح عرب خلیجی ریاستوں کو ایک درپردہ دھمکی جاری کرتے ہوئے ان پر زور دیا تھا کہ وہ ایران پر حملہ کریں،اُن کا کہنا تھا کہ اگر ایران کے ہمسایہ خلیجی ریاستوں نے ایسا نہ کیا تو اس کے ”نتائج“ کا سامنا کرنا پڑے گا، دوسری جانب خلیج تعاون کونسل کی ریاستیں جانتی ہیں کہ انتہائی جارحانہ اور اشتعال انگیز ایرانی اقدامات کے باوجود اِس دوڑ میں ان کا کوئی گھوڑا نہیں دوڑ رہا ،  وہ اِس جنگ سے باہر رہنا چاہتے ہیں اور وہ ایسا کرنے میں حق بجانب ہیں۔

ایسا لگتا ہے کہ امریکہ غیر ذمہ دارانہ ذمہ داریوں کو خلیجی ریاستوں پر منتقلی کی حکمت عملی کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کے اتحادی ایران کے خلاف جنگ کا خمیازہ برداشت کریں جب کہ اسے کم سے کم اخراجات اٹھانا پڑیں۔ امریکہ خلیجی ریاستوں کو اپنی  پسند کی جنگ میں دھکیلنے کی کوشش کر رہا ہے جس پر جی سی سی کی ریاستیں متفق نہیں تھیں اور حملے سے قبل ان سے مشاورت بھی نہیں کی گئی تھی۔

خلیجی ریاستوں کو جنگ کی آگ میں لپیٹنے کیلئے واشنگٹن مختلف طریقے اپنا رہا ہے۔ ٹرمپ جھوٹے اعلان کرتے رہتے ہیں کہ عرب ریاستیں لڑائی میں شامل ہو رہی ہیں،ٹرمپ انتظامیہ ایران پر زمین سے داغے جانیوالے میزائلوں کی گمراہ کن فوٹیج نشر کرتی رہی ہے تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ یہ عرب ممالک سے فائر کیے گئے ہیں۔ اِسکے علاوہ اسرائیل فالس فلیگ بھی لہراتا رہا ہے، اس نے مبینہ طور پر دعویٰ کیا تھا کہ متحدہ عرب امارات نے ایران میں ڈی سیلینیشن پلانٹ پر حملہ کیا ہے جس الزام کی ابوظہبی نے فوری طور پر تردید کی ہے۔ 

امریکہ نے ہمیشہ ایران اور عرب خلیجی ریاستوں کے درمیان دشمنی کا فائدہ اٹھایا ہے اور یہاں تک کہ اسے ہوا دی ہے۔ 1979ء کے انقلاب سے پہلے خلیج کے سبھی ممالک امریکہ کے اتحادی تھے۔ شاہ آف ایران کی حکومت کا تختہ اُلٹے جانے کے بعد اور اس کی جگہ امریکہ مخالف حکومت نے لے لی،ایران طویل عرصے سے اپنے عرب پڑوسیوں کے ساتھ پابندیوں کے خاتمے کے لئے واشنگٹن کے ساتھ بات چیت  کی کوشش کر رہا ہے جبکہ خلیجی ریاستوں نے خود کو  خطرات سے بچانے کے لئے امریکی فوجی طاقت اور اثر و رسوخ کا استعمال کیاہے۔

خلیجی ریاستوں پر جاری ایرانی حملے کسی بھی طرح اخلاقی یا قانونی طور پر جائز نہیں، یہ ریاستیں قابل فہم طور پر غصے میں ہیں تاہم یہ وہ لمحہ ہے جہاں عملیت پسندی کو غرور سے بالاتر ہونا چاہئے۔جنگ کا خاتمہ خلیج کے بہترین مفاد میں ہے۔

اِس بات کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے کہ پڑوسی کے ساتھ جنگ ایک دور بیٹھے ہوئے ملک کے ساتھ جنگ سے مختلف ہوتی ہے، امریکہ چاہے تو جنگ آج ختم ہو جائے گی جبکہ ایران امریکہ سے لڑنے کے لئے دنیا کے دوسرے کونے میں نہیں جائے گا، تاہم،پڑوسی کے ساتھ جنگ کہیں زیادہ پیچیدہ اور اس پر قابو پانا زیادہ مشکل ہے۔ ہمیں ایران عراق جنگ کو یاد رکھنا چاہیے، یہ تین ہفتے چلنا تھی لیکن یہ آٹھ سال تک جاری رہی، اگر خلیجی ریاستیں جنگ کی طرف جاتی ہیں  تو انہیں امریکہ سے زیادہ سے زیادہ حمایت کی ضرورت ہو گی خاص طور پر اگر یہ ایک طویل تنازع ہے۔ امریکہ کا ایک مقصد یہ بھی ہو گا کہ خلیجی ریاستیں روس اور چین سے دور رہیں، خاص طور پر جب دونوں ممالک نے امریکہ اسرائیل حملے کی مذمت کرتے ہوئے ایران کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے نئے سپریم لیڈر کے لئے اپنی ”غیر متزلزل حمایت“ کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ ایران کے ”قابل اعتماد پارٹنر“ رہیں گے۔ 

سب سے اہم مسئلہ قانونی حیثیت کا ہے، یہ امریکہ میں ایک بہت ہی غیر مقبول جنگ ہے، لوگ اسے ایپسٹائن فائلوں سے جوڑ رہے ہیں، اسے ”ایپک فیوری“ کے بجائے ”آپریشن ایپسٹین فیوری“ کا نام دے رہے ہیں اور اسرائیل کو  اِس جنگ میں دھکیلنے کا الزام لگا رہے ہیں، اس لئے ٹرمپ انتظامیہ کو قربانی کے بکرے کی ضرورت ہے، وہ اسرائیل کے امیج کو کسی صورت خراب نہیں کرنا چاہتا۔

گراہم نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں تنہا لڑنے کے لئے نہیں جائے گا،یقینا، وہ جنوبی کیرولینا میں اپنے لوگوں کو اسرائیل کے لئے جنگ میں جانے کے لئے نہیں کہہ سکتا، اگر GCC ریاستیں اس میں شامل ہوتی ہیں تو وہ کہہ سکتا ہے کہ امریکہ خلیج میں اپنے مفادات کا تحفظ کرنے جا رہا ہے  اور اگر خلیجی ممالک کہتے ہیں کہ یہ جنگ غیر ضروری ہے، تو گراہم جیسے لوگوں کو اس فوجی مہم کے لئے کوئی ٹھوس دلیل فراہم کرنے میں دشواری ہوگی۔ عربوں کی شمولیت سے انہیں قانونی حیثیت مل سکتی ہے۔ 

جب خلیجی ریاستیں یہ دیکھتی ہیں تو انہیں احساس ہوتا ہے کہ امریکہ کا عظیم منصوبہ انہیں قربانی کا بکرا بنانا ہے  لہٰذا   وہ اپنی غیر جانبدار پوزیشن پر جم گئے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ ایران پر حملہ کرنے کی قیمت صرف دفاعی پوزیشن لینے سے کہیں زیادہ ہوگی، قطر کے سابق وزیراعظم شیخ حمد بن جاسم الثانی نے ٹویٹ کیا کہ خلیجی ممالک کو اس لڑائی میں شامل نہیں ہونا چاہئے،انہوں نے جی سی سی کی ریاستوں کو امریکہ اور بینجمن نیتن یاہو کی طرف سے ان کے لئے بنائے گئے جال سے خبردار کیا،  ان دونوں کو احساس نہیں ہے یا شاید پرواہ نہیں ہے کہ وہ ایک عالمی بحران کی طرف بڑھ رہے ہیں اور وہ سب کو اپنے ساتھ کھینچ رہے ہیں، اس لئے یہ جنگ پوری دنیا کی خاطر ختم ہونی چاہئے۔

اس صورت حال میں پاکستان کی تذویراتی حیثیت بہت بڑھ گئی ہے اور ہماری سول اور ملٹری قیادت جس ہوشمندی کا مظاہرہ کر رہی ہے، قابل ستائش ہے۔ 


© Daily Pakistan (Urdu)