menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

۔۔۔ روزِ ابر و شبِ ماہتاب میں

15 0
15.03.2026

کہتے ہیں کہ روزے میں برائی سے اجتناب کا رویہ تمباکو سے جان چھڑانے کا سب سے موثر نسخہ ہے،  پر اِس کا کیا علاج کہ ہر کہنہ مشق تمباکو نوش کو زندگی کے اولین سگریٹ کا کیف آسانی سے نہیں بھولتا۔ خوب یاد ہے کہ اُس دن مجھ سمیت بی اے فائنل کے کچھ ’دانشور ٹائپ‘ لڑکے اسٹوڈنٹس یونین کے دفتر میں بھیگے ہوئے موسم کا مزہ لے رہے تھے۔پھر ایک ہم جماعت نے ’پاکستان کا مطلب کیا؟‘ کے خالق اور ہمارے سیالکوٹی ہم وطن اصغر سودائی کی یہ یک کیفیتی غزل چھیڑ دی۔ پچپن سال گزر نے پر بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ اُس گھڑی گرج چمک کے ساتھ سگریٹ کا نیلگوں ذائقہ کسی ویزے پاسپورٹ کے بغیر اس شعری واردات کی حدود میں کیسے داخل ہو گیا تھا: 

باغ میں، راغ میں ابر ہنستا رہا، مینہ برستا رہا

دلکشا دھوپ کو دل ترستا رہا، مینہ برستا رہا

بدلیاں راگ ملہار گاتی رہیں، گھِر کے آتی رہیں 

مَیں کرن راگنی کو ترستا رہا، مینہ برستا رہا 

’کون‘، ’کب‘ اور ’کہاں‘ کے ساتھ ’کب‘، ’کیوں‘ اور ’کیسے‘ کا جواب دوں تو تمباکو کی مشق سخن تو اُسی گھر میں ہوئی جہاں فخر سے کہہ سکیں کہ ’حقوں‘ کے سائے میں ہم پل کر جواں ہوئے ہیں‘۔ سچ یہ ہے کہ اُس کھُلے ڈلے ماحول میں میرے والد کو چھوڑ کر دُود کشی کے بغیر کسی عاقل بالغ شہری کا تصور محال تھا۔ خاندانی دیو مالا کے مطابق شہر والے گھر میں بجلی کی تنصیب پر ابتدا میں برقی قمقمے سے ’ٹاکی‘ جلا کر حقہ گڑگڑانے کی ناکام کوشش بھی ہوئی۔ اِس پر گاؤں سے آئی مہمان خاتون نے پہلے تو کہا ’لَکھ دی لعنت تہاڈے فیشناں تے‘۔ پھر جھلا کر ایک ایسا تاریخی جملہ بولا جسے رمضان شریف میں دہرایا نہیں جاسکتا۔ بس،اُن کی زبان سے برقی رو کے خلاف ایک پنجابی محاورہ نکلا جس میں ’دادے کی داڑھی‘ کا ذکر آتا ہے۔

مطلب یہ کہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان سے بہت پہلے حقہ نوشی کی حد تک وسطی پنجاب کے قصبہ و دیہات میں مرد و خواتین کی برابری کا اصول جڑ پکڑ چکا تھا۔ میرے ضلع سیالکوٹ میں زمینی ملکیت کی اکائی چھوٹی ہے، اس لیے ’تمیز بندہ و آقا‘ زیادہ نہیں۔ چنانچہ جب مردانہ مجلس میں حقہ رہٹ کی طرح گول دائرے میں گھومتا تو ایک بھائی چارہ محسوس ہوتا۔ سماجی رتبے کی طرح عمر کی قید بھی نہیں تھی۔ خالد نظیر صوفی کی کتاب ’اقبال درون خانہ‘ میں واضح اشارہ ہے کہ عدالتی چھٹیوں میں شاعرِ مشرق جب سیالکوٹ والے آبائی گھر میں اپنے والد شیخ نور محمد کے پاس ٹھہرے ہوتے تو دونوں باپ بیٹا ساتھ ساتھ بچھی چار پائیوں پہ لیٹ کر حقہ نوشی سے لطف اٹھایا کرتے۔ پھر بھی یہ مراد نہیں کہ ایک خدا اور ایک کتاب کی طرح ساری قوم کا حقہ بھی ایک تھا۔ جی نہیں۔

ایک فرق تو ’پینڈو‘ اور شہری حقے کا ہے۔ اول الذکر ایک نڑی، مٹی کے پیندے اور ’ٹوپی‘ پر مشتمل ایک بنیادی ڈھانچہ تھا جو دور سے طیارہ شکن توپ دکھائی دیتا۔ ہاں، شہری حقہ کا ’تھلا‘ دھات کا بنا ہوا ہوتا اور اس کے نیچے کسی یورپی کمپنی کے نام کے الفاظ بھی ڈھلے ہوتے۔ بچوں کی دلچسپی اس ’قبضہ‘ ٹائپ چیز میں زیادہ تھی جسے ڈھیلا کر کے حقے کی نَے مسجد کے مائیکرو فون اسٹینڈ کی طرح اوپر نیچے ایڈجسٹ کر لی جاتی۔ سمن آباد میں سید جعفر علی زیدی کا فرشی حقہ تو بعد کا مشاہدہ ہے، لیکن بچپن میں ہم عمودی چلم والے پوٹھواری حقے بھی دیکھ چکے تھے۔ اِن میں چمپئن حقہ نوش پھوپھا جمال الدین نے یہ ٹیکنیکل نقص نکالا کہ چلم کا سُوٹا لگا کر چونکہ تھوکنا واجب ہو جاتا ہے، سو اسے قالین یا دری پر بیٹھ کر نہیں پی سکتے۔

خود بندے نے علامہ اقبالؒ کی شاعری کے تین ادوار کی طرح ابتدائی کیرئر میں چھ برس سگریٹ،اگلے آٹھ سال پائپ اور سگریٹ، پھر چوتھائی صدی سے کچھ اوپر صرف پائپ پہ گزر بسر کی۔البتہ لندن پہنچتے ہی قائداعظمؒ کے پسندیدہ ’کریون اے‘ کے بیس سگریٹ اور خوشی غمی کے موقعوں پر سگار نوشی اِس کے علاوہ ہیں۔ جیسے بہن کی شادی کے انتظامات کرتے ہوئے ’کنگ ایڈورڈ‘ کی پانچ ڈبیوں کے پشتے لگا دیے تھے۔ اُس رات تعداد کچھ ہی کم تھی جب کراچی یونیورسٹی کے شعبہء فلسفہ میں اُس وقت کے استاد ڈاکٹر حسن ظفر عارف اِس سوال سے دست و گریبان رہے کہ آیا بیورو کریسی نظریاتی اعتبار سے ایک انڈیپنڈنٹ فورس ہے یا جاگیردار طبقہ کی ترجمان۔ نئی صدی میں ٹورونٹو سے سردار شوکت نواز کے ارسال کردہ ایک سو کیوبن سگار الگ ہیں جنہیں پھونکنے میں فرزندِ ارجمند اسد ملک نے بھی اعانت ِ جرم کی۔

سگریٹ پر پائپ کی فضیلت ثابت کرنا چاہوں تو کتابِ زندگی کے عنوانات میں برٹرینڈ رسل سے لے کر ڈاکٹر خرم قادر، پروفیسر خالد آفتاب، مقسط ندیم اور بی بی سی کے وقار احمد کے نام دمکتے دکھائی دیں گے۔ اِس سے آگے ’منڈیوں کے بھاؤ‘ سنا سنا کر، پائپ فضا میں لہراتی علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ڈائریکٹر تعلقاتِ عامہ حامد ہاشمی کی شیریں آواز کہ ”آپ بارہ آنے کا سگریٹ پئیں، میں دونی کا تمباکو پیوں گا‘‘۔ بہر حال کتابِ زندگی کے سرورق پر تصویر چھوٹے بھائی زاہد ہی کی ہونی چاہیے جو ’ساہنوں نہر والے پل تے بلا کے‘ آج بھی پانچ گولڈ لیف یومیہ کا زادِ سفر لیے ’چلی جا رھیا واں کنارے کنارے!‘

یہاں ایک امکانی سوال ہو گا کہ چالیس سالہ کوالیفائنگ سروس کے بعد تم نے تمباکو نوشی سے ریٹائرمنٹ آخر لی کیسے؟ اس پر کرکٹ کی اصطلاح میں حلفیہ بیان دینے کو تیار ہوں کہ مَیں نے آپ ہی گوگلی پھینک کر خود اپنی وکٹ اڑائی ہے۔ دراصل تھوڑی سی جسمانی توڑ پھوڑ کے بعد میرے شفیق معالج نے کہہ دیا تھا کہ ادویات لیتے رہیں مگر احتیاط ایک ہی ہے۔ ہاں، یہ محسوس نہ ہو کہ پائپ چھوڑ دینے سے کوالٹی آف لائف خراب ہو گئی ہے۔ یہ ڈاکٹر واقعی میرے دل کا حال جانتا ہے کہ اگر رعب ڈالا گیا تو اِسے صدمہ ہوگا اور یہ بدک جائے گا۔ میں نے بھی اپنے آپ کو نرمی سے یہ کہہ کر چکر دیا کہ ”سر، مکمل توبہ  کی ضرورت نہیں۔ آپ چوبیس گھنٹے میں ڈان کے مرحوم ایڈیٹر طاہر مرزا والے روزانہ چھ پائپوں کو ترک کرکے ایک پائپ پہ تو پہلے ہی آ چکے ہیں۔ اِسے ذرا اور کم کر دیں۔“

پندرہ سال سے اِسی حکمِ امتناعی پر جُزوی عملدرآمد جاری ہے، کیونکہ بشریت کا تقاضا پورا کرنے کے لئے دن میں چند منٹ کے لئے رولز ریلیکس کر دینا تو افسرانہ کلچر کا حصہ ہی ہوا نا۔ رحلت سے دس منٹ پہلے ز ندگی کا آخری سگریٹ پینے والے میرے دادا ایک بڑی کام کی حقیقت بیان کر گئے کہ ”اس میں مزہ تو کوئی نہیں، بس آدمی ’دھیانے‘ لگا رہتا ہے“۔ مَیں گیان دھیان کی منزل سے آگے گزر چکا ہوں، اِس لیے مراز غالب کی طرح محض ’۔۔۔ روزِ ابر و شبِ ماہتاب میں۔‘


© Daily Pakistan (Urdu)