menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

سوشل میڈیا کا پل صراط

13 0
15.03.2026

 اس کمبخت مارے سوشل میڈیا نے ہر شخص کو ہرفن مولا بنا دیا ہے، وہ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتا ہے، رائے دے سکتا ہے،بات کا بتنگڑ بنا سکتا، بے پر کی اڑا سکتا ہے، یہاں کروڑوں تجزیہ کار، دفاعی امور کے ماہر، سیاسی مبصر، سائنسدان، عالمی امور کے شناور،خارجہ پالیسی کے کھلاڑی، غرض ہر شعبہء زندگی کے منجھے ہوئے افراد موجود ہیں۔ آگے سننے والے بھی لائی لگ اور فارورڈ کرنے والے ہیں جو سوچتے ہیں نہ سمجھتے ہیں بس دے مار ساڑھے چار کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے، زیادہ سے زیادہ لائیکس اور ویوز لینے کے لئے آگے بھیجتے رہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ جتنا انتشار آج کل ہمارے ہاں ہے، خاص طور پر فکری انتشار وہ پہلے کبھی نہیں تھا جو مشہور شخصیات ہیں،صاحب الرائے ہیں، جن کی بات لوگ سنتے ہیں، ان کی خوامخواہ درگت بن رہی ہے۔ ان کے نام سے ایسی ایسی پوسٹیں بناکے شیئر کی جاتی ہیں جن کا کوئی وجود ہی نہیں ہوتا، نہ ہی ان کے خیالات و نظریات سے لگا کھاتی ہیں، انور مقصود، مجیب الرحمن شامی، مولانا طارق جمیل، مفتی تقی عثمانی جیسی شخصیات خاص طور پر ان جعلسازوں کے نشانے پر رہتی ہیں پھر ان کی تردید آتی ہے، لیکن جو غافل و لائی لگ ہیں، وہ انہیں ہزاروں کی تعداد میں شیئر کر چکے ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی تو یہ سوشل میڈیا جھوٹ کا عالمی جمعہ بازار لگتا ہے، جس کا مقصد ڈس انفارمیشن پھیلانا ہے۔ جب سے ایران پر امریکہ و اسرائیل نے حملہ کیا ہے  اس صورتِ حال کو کئی ہزار رنگ دیئے جا چکے ہیں اتنا زیادہ کنفیوژن ہے کہ جیسے بے انتہا شور میں کان  پڑی آواز سنائی نہ دے رہی ہو، کئی بار کچھ سادہ مزاج جاننے والے فون کرکے کوئی ایسی خبر سناتے ہیں،جس کا کوئی وجود ہی نہیں ہوتا، مگر وہ اصرار کرتے ہیں سوشل میڈیاپر بہت وائرل ہے۔ میں اس خبر کو دیکھے بغیرہی انہیں بتا دیتا ہوں  یہ درست نہیں صرف سوشل میڈیا کی سنسنی خیزی ہے، کیونکہ صاف لگ رہا ہوتا ہے کہ جو کہا جا رہا ہے وہ ممکن ہی نہیں۔ حالت تو یہ ہے کہ چند روز پہلے سابق گورنر سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ کے انتقال کی خبر سوشل میڈیا پر آ گئی، اس  پر سب نے افسوس اور غم کے کمنٹس کرنا شروع کر دیئے۔ کئی باخبر بھلے مانسوں نے وہاں لکھا بھی کہ خبر فیک ہے، وہ حیات ہیں اور لاہور میں زیر علاج ہیں، مگراس کے باوجود نہ وہ پوسٹ ہٹائی گئی اور نہ کمنٹ کرنے والے باز آئے، بالآخر ان کے بیٹے دوست محمد خان کھوسہ نے ان کے ساتھ ہسپتال کی تصویر لگا کر پوسٹ لگائی کہ ابا جی زندہ ہیں، انہیں مارنے والے خوف خدا کریں۔

اس وقت دنیا ایک جنگ کے خوف میں مبتلا ہے۔ حالات کہاں جا رہے ہیں، کوئی بھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتا مگر سوشل میڈیا کے وہ تجزیہ کار جن کی باتوں پر ان کے گھر والے بھی اعتبار نہیں کرتے ایسے ایسے تجزیے کرتے اور درفنطنیاں چھوڑتے ہیں کہ بندہ سوچنے لگتا ہے اب دنیا میں قیامت آنے والی ہے۔ پاکستان کے بارے میں کوئی اچھی پیش گوئی کرنے کی بجائے اکثر کی سوئی اس نکتے پر اڑی رہتی ہے کہ بہت بُرا وقت آنے والا ہے۔ پاکستانی معیشت کے ڈوبنے کی خبریں وہ دے رہے ہوتے ہیں جنہیں اپنے گھر تک کا بجٹ بنانا نہیں آتا، اس سے نقصان کیا ہوتا ہے، عام آدمی عجیب قسم کے مخمصوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ اب جب حکومت اس بے لگام انتشاری عمل پر قانون بنانے کی بات کرتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ  اظہار رائے کی آزادیوں پر قدغن لگائی جا رہی ہے، اصل میں سوشل میڈیاپر سب نے یلغار کردی ہے۔ حکومتیں بھی اسے اپنے اظہار کا ذریعہ سمجھتی ہیں اور سرکاری افسر بھی اس کے ذریعے اپنی کارکردگی دکھانے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں، اب ظاہر ہے جب سب کچھ اس سوشل میڈیا پر دستیاب ہوگا تو دیکھنے والے بھی اس کی طرف آئیں گے۔ میڈیا چینلز ہوں یا اخبارات وہاں ایسا نہیں ہوتا کہ اِدھر آپ نے ایک ویڈیو یا پوسٹ بنائی اور اُدھر سوشل میڈیا پر چڑھا دی، نہ کسی سے پوچھا، نہ کسی نے روکا، اخبارات اور چینلز میں رپورٹر کے بعد ایڈیٹر خبر کے متن کو چیک کرتا ہے، ذرا بھی جھول نظر آئے تو روک لیتا ہے۔ اسی لئے لوگ اب بھی یہی کہتے ہیں کہ جو خبرسوشل میڈیا پر بہت وائرل ہے، وہ پبلک میڈیا پر تو آئی نہیں، اس پر کیسے یقین کریں، اس سارے عرصے میں ایک اور مخلوق بھی منظر عام پر آئی ہے یہ ہے ولاگر اور پوڈ کاسٹ بنانے والی مخلوق۔ کیمرہ سامنے رکھ کر ہر اس واقعہ پر تبصرہ کرنا شروع کر دیں گے  جو ملک یا دنیا میں کہیں بھی رونما ہوا ہے  پھر ایسی ایسی بقراطی جھاڑیں گے کہ عقل کا دہی نکل جائے گا، ابھی چند روز پہلے ایک ایسے ہی تیس مار خان کا ایک پوڈ کاسٹ دیکھا جو کہہ رہا تھا کہ آج کل ڈونلڈ ٹرمپ کو ڈراؤنے خواب آ رہے ہیں اور راتوں کو اٹھ کر چیخیں مارتے ہیں ایسی خبروں کے ساتھ ہمارے ان بے پر کی اڑانے والوں نے ایک اصطلاح ”ذرائع کے مطابق“ ایجاد کررکھی ہے جو شخص یہ نہیں جانتا کہ آج محلے میں کیا ہوا ہے، وہ کیمرے کے سامنے بیٹھ کر وائٹ ہاؤس ہی نہیں بلکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے بیڈروم کی خبریں دے رہا ہوتا ہے۔ ایک اور اصطلاح بھی بہت استعمال ہو رہی ہے، ہر خود ساختہ خبر کے ساتھ ”مبینہ طور پر“لگا دیا جاتا ہے، اس کا مقصد یہ ہوتا ہے اگر پکڑ دھکڑ کی نوبت آئی تو کہہ دیں گے ہم نے تو پہلے ہی کہا تھا الزام لگایا جا رہا ہے۔

آپ عام آدمی کے پاس جائیں، کسی ریڑھی، رکشے والے یا مزدور سے ملیں تو وہ کئی ایسی خبر یں  سنا کر آپ کو چونکا دے گا، وہ جو وہم و گمان میں بھی نہیں ہو ں گی، یہ ابھی پرسوں کی بات ہے، میں پھل لینے قاسم بیلہ بازار گیا۔ میں نے سیب، امرود اور کیلوں کا ریٹ پوچھا، اس نے میری بات پر توجہ دیئے بغیر یہ سوال داغ دیا کہ سنا ہے امریکہ پاکستان پر حملہ کرنے والا ہے کیونکہ پاکستان ایران کے خلاف اس کا ساتھ نہیں دے رہا۔میں نے اسے کہا عقل کو ہاتھ مار، یہ بات تم نے کہاں سے سنی ہے۔ اس نے جھٹ اپنی جیب سے ایرائیڈ فون نکالا، اپنا واٹس اپ دکھایا، جس پر کسی کا پوڈکاسٹ آیا ہوا تھا کہ پاکستان کو امریکہ سے شدید خطرہ، بات نہ مانی تو پاکستان پر حملہ کر دے گا۔ میں نے دیکھا تو سر پیٹ لیا کہ یہ آخر ہو کیا رہا ہے؟ اول تو میرے نزدیک کسی ان پڑھ یا کم خواندہ کے پاس یہ ایرائیڈ فون ہونا ہی نہیں چاہیے۔ یہ تو منفی پروپیگنڈے کا بہت بڑا ذریعہ بن گیا ہے وہ حالات کے تناظر میں یہ تجزیہ ہی نہیں کر سکتے کہ ایسا ممکن بھی ہے یا نہیں وہ کسی کا یوٹیوب چینل دیکھتے ہیں اور ایرائیڈلے آتے ہیں۔ میرے نزدیک یہ بہت بڑا خطرہ ہے، جس سے عوام کو بچانا ایک بہت بڑا چیلنج ہے،مگر فی الوقت ایسی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی۔


© Daily Pakistan (Urdu)