ننھی پریوں کا قبرستان اور عالمی ضمیر
ایران میں ایک سکول پر ہونے والے حملے میں 160 معصوم بچیوں کی ہلاکت کی خبر محض ایک خبر نہیں،یہ ہماری پوری انسانی تہذیب کے چہرے پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ یہ وہ بچیاں تھیں جن کے ہاتھوں میں کتابیں تھیں، جن کے خواب ابھی حروف کی شکل میں ترتیب پا رہے تھے، جن کی دنیا بستے، کاپیوں اور ننھی سی اُمیدوں سے آباد تھی،مگر جنگ کے بے رحم ہاتھوں نے ان خوابوں کو ملبے کے نیچے دفن کر دیا۔طاقت کے نشے میں بدمست انسانوں کے مکروہ عزائم سے بے خبرسفید سکارف میں ملبوس یہ ننھی پریاں جب صبح سکول پہنچی ہوں گی تو کسی نے نئی پنسل خریدی ہو گی، کسی نے اپنی کاپی کے پہلے صفحے پر خوبصورت لکھائی کی مشق کی ہو گی، کسی نے لنچ میں آج کسی دوست کو شریک کرنے کا سوچا ہو گا، مگر یہ ساری معصوم ہنستی مسکراتی ننھی پریاں خون آشام میزائلوں کا ایندھن بن گئیں۔کھیلتی کودتی، ہنستی مسکراتی شور کرتی یہ معصوم ننھی پریاں آنکھ جھپکتے خاموش قبروں میں بدل گئیں۔بچیوں کے دِل بہت نرم ہوتے ہیں، وہ تو ذرا سی اونچی آواز کا بوجھ بھی نہیں جھیل سکتیں، لیکن انسانوں کے تسلط کی خواہش کے لئے بنائے گئے خون آشام ہتھیاروں کی خوف ناک آوازیں کیسے ان ننھی سماعتوں پر قہر بن کر ٹکرائی ہو ں گی۔وہ تتلیوں جیسی بچیاں جوچہرے کا رنگ بدلا دیکھ کر ماؤں سے لپٹ جاتی ہیں، باپ کی ذرا سی ڈانٹ سے ان کا دل سہم جاتا ہے اور دروازے پر زیادہ زور سے ہونے والی دستک بھی جنھیں خوف میں مبتلا کر دیتی ہے ان پر بارود سے بھرے ہوئے چار میزائلوں نے کیا قیامت ڈھائی ہو گی اس کا تصور بھی حساس دِل رکھنے والوں کو دہلا دینے کے لئے کافی ہے۔یہ صرف ایران کا سانحہ نہیں ہے،بلکہ یہ پوری انسانیت کا سانحہ ہے اور اس پر خاموش رہنے والے سب کے سب اسی طرح جنگی مجرم ہیں جس طرح یہ سفاک عمل کرنے والے،ان معصوم بچیوں نے عالمی طاقتوں کے چہروں سے انسانی حقوق کی جھوٹی اخلاقیات کا مصنوع نقاب نوچ لیا ہے۔ جنگ کے قوانین، انسانی حقوق کے چارٹر اور عالمی اداروں کے ضابطے سب ہمیں یہ یقین دلاتے ہیں کہ عام شہریوں، خاص طور پر بچوں اور تعلیمی اداروں کو جنگ میں تحفظ حاصل ہے اور یہ اصول پندرہ سو سال پہلے ہمارے رسوؐل نے انسانیت کو عطاء فرماتے ہوئے ان پر عمل بھی کر کے دکھایا تھا۔آج کے نام نہاد قوانین میں بھی سکول، ہسپتال،شہری آبادیاں اور خصوصاً بچے سرخ لکیر ہوتے ہیں، لیکن اب ان میں کچھ بھی محفوظ نہیں رہا۔ عالمی سیاست میں اکثر طاقت کا توازن اخلاقیات سے زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے اور اس کے اظہار میں ہر طرح کی لاقانونیت جائز سمجھی جاتی ہے، ان معصوم ننھی پریوں نے جام شہادت تو نوش کر لیا، لیکن انہوں نے سب سے پہلے یونائیٹڈ نیشنز کے مکروہ چہرے سے نقاب کھینچ لیا ہے، جس نے ہمیشہ طاقتوروں کے انسانیت کش اور بے رحمانہ خونیں اقدامات پرآنکھیں بند رکھیں اور کسی کمزور ملک پرمحض الزام کی بنیاد پرچڑھ دوڑنے کے لئے فوراً اجلاس بُلا کر پابندیاں عائد کر دیں،ان بچیوں نے مغربی ممالک میں انسانی حقوق کے پراپیگنڈے کا راز بھی فاش کردیا جن کے نزدیک انسانی حقوق صرف ان کے اپنے ملکوں میں رہنے والوں کے ہیں۔چھپن اسلامی ملکوں کے سربراہوں کی زبانوں پر لگے تالے اور ذہنوں میں بیٹھے ہوئے خوف کو بھی ان ننھی پریوں نے کھول کر رکھ دیا ہے۔انفرادی نوعیت کے واقعات پرموم بتیاں ہاتھوں میں لے کر نکلنے والی انسانی حقوق تنظیمیں بھی خاموشی پر بے لباس ہو گئی ہیں۔ معتبر دینی طبقات، علمائے کرام اورمذہبی حلقوں کے چہروں کو بھی اس سفاکیت پر خاموشی نے داغدار کر کے رکھ دیا ہے،اس جنگ کا ایک اور اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ایران نے ا س مسلط کردہ جنگ کا ہر زاوئیے سے بھرپور جواب دیا ہے کہ جب ان کے فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا تو انھوں نے دشمن کے فوجی اڈوں پر حملہ کیا،ان کے توانائی کے ذخیروں کو نقصان پہنچایا گیا تو انھوں نے بھی جواب میں ان کے انہی سیکٹرز کو نشانہ بنایا،ان کا جنگ میں شریک نہ ہونے والا جہاز بھارت کے دھوکے کی مدد سے تباہ کیا تو انہوں نے بھی سمندروں میں دشمن کے اہداف پر نظر جما لی،یہاں سپریم لیڈرکے گھر پر حملہ کیا گیا تو انہوں نے بھی جواب میں اسرائیل کے حکمرانوں کے گھروں کو نشانہ بنایا جن کی پچھلے دِنوں نے سے کوئی خیر خبر بھی نہیں آ رہی۔ بینکوں پر حملہ ہوا تو انہوں نے امریکی معاشی کمپنیوں کو نشانے پر دھر لیا لیکن حیرت انگیز طور پر سکول پر کیے گئے حملے کا جواب اسرائیلی سکولوں پر حملہ کر کے نہیں دیا گیا اور یہی وہ اخلاقی برتری ہے جو ایمان اور کفر کے درمیان لکیر کھینچتی ہے۔ہمارے نبیؐ نے صدیوں پہلے یہ حکم دے دیا تھا کہ جنگ کے دوران عورتوں، بچوں، پھلدار درختوں اور راستوں تک کو نقصان نہیں پہنچانا اور آج کی انسانی حقوق کی علمبردار انسانیت نے اپنی حیوانیت کا پول اپنے ہاتھوں ایک بار پھرکھول دیا ہے۔امریکی میڈیا کے اس بارے میں کئے گئے سوال پر کہا گیا کہ یہ ایران کے اپنے ہی میزائل لگے ہیں جس کو کم سے کم الفاظ میں ہٹ دھرمی کہا جا سکتا ہے۔ یہ وہ شخص کہہ رہا ہے جس کی آنکھوں کے سامنے فلسطین میں ہزاروں بچے ان مہلک ہتھیاروں سے لقمہ اجل بن چکے ہیں۔خبروں میں بتایا گیا ہے کہ ایران نے ان ننھی پریوں کا قبرستان الگ سے بنایا ہے جو اب ہمیشہ اخلاقی ا قدا ر اور انسانی شرف سے محروم ان عالمی طاقتوں کا چہرہ آنے والی نسلوں کو دکھاتا رہے گا،زمین کے نیچے سوئی ہوئی ان چھوٹی چھوٹی پریوں نے زمین کے اوپر چلنے پھرنے والے بڑے بڑوں کو زندہ لاش بنا دیا ہے۔یقیناوہ اب جنت میں رحمت خداوندی کے سائبان تلے کسی گوشہ عافیت میں اپنے محبوب سپریم لیڈرکے اردگرد ویسے ہی دائرہ بنا کے بیٹھی ہوں گی جیسے ان کی زندگی میں بیٹھا کرتی تھیں۔
