آسان ہو گئی ہے ایران کی لڑائی؟
جونہی اسرائیل کے ساتھ مل کر امریکہ نے ایران کو نشانے پر رکھا، ایران نے ہر اس ملک پر میزائل داغ دیئے ہیں جہاں جہاں امریکی فوجی اڈے ہیں۔ بات یہیں تک رہتی تو جواز دیا جا سکتا تھا لیکن تیل کی ریفائنریوں پر حملے کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز کی بندش نے اس جنگی تنازع کو ایک نئی شکل دے دی ہے کہ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ محاذ کو ناکام بنانے کے لئے پوری دنیا کی معیشت کو تلپٹ کرنے کا منصوبہ بنالیا ہے۔ ایک اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ ایک بہترین جنگی حکمت عملی ہے لیکن ایک ایسے وقت میں جب دنیا کی معیشتیں بھی تیل کی سپلائی کی محتاج ہیں، اس حکمت عملی نے دنیا بھر کی حکومتوں کی نیندیں حرام کردی ہیں۔ ممکن ہے کہ ایران کی اس جنگی حکمت عملی سے جنگ کا دائرہ محدود رہے اور اس کے جلد خاتمے کے امکانات روشن ہو جائیں لیکن اگر ایسا نہ ہوا اور صورت حال اس کے برعکس رخ اختیار کر گئی تو کیا ہوگا؟
چونکہ اسرائیل امریکہ اور ایران میں زمینی جنگ نہیں ہو رہی اور سارا زور ایک دوسرے پر میزائل داغنے پر لگایا جا رہا ہے، اس لئے جنگ کے نتائج غیر یقینی کا شکار ہیں، اس کے برعکس اگر زمینی فوج کے درمیان جنگ ہو رہی ہوتی تو یقینی طور پر کسی ایک فریق کے دوسرے پر حاوی ہونے کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔ زمینی جنگ نہ ہونے کے سبب ایران اپنے سپریم لیڈر کی شہادت کے باوجود اپنے سرحدی ستونوں پر قائم دائم ہے کیونکہ کوئی بھی اسرائیلی یا امریکی بوٹ ابھی تک اس سرزمین پر نہیں پڑا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے بقول ایران میں بڑی حد تک تباہی مچا دی گئی ہے لیکن ایران اور اسرائیل نے جس طرح میڈیا کا بلیک آؤٹ کیا ہوا ہے، اس سے اندازہ لگانا مشکل ہے کہ ان دو حریفوں میں سے کس کا زیادہ نقصان ہوا ہے۔ یہاں تک کہ ایران میں شہید ہونے والی سکول کی بچیوں کے حوالے سے ایران اور امریکہ نے ایکدوسرے کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔اس سے بھی بڑھ کر چونکہ دونوں حریفوں کے پاس انٹی میزائل سسٹم موجود ہیں اس لئے یہ اندازہ لگانا بھی مشکل ہے کہ دونوں طرف سے داغے جانے والے کتنے میزائل اپنے ہدف کو نشانہ بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں،البتہ ٹرمپ کی جانب سے جس طرح بار بار گول پوسٹ کو تبدیل کیا گیا ہے، اسے دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ ٹرمپ کے لئے اس جنگ میں کودنے کا جواز ہر گزرتے دن کے ساتھ کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ اسرائیل نے اسے ایران کی جنگی طاقت کے حوالے سے صحیح معلومات نہیں دی ہیں یا پھر خود امریکہ کے پاس اس کا اندازہ لگانے کا کوئی مناسب انتظام نہیں ہوگا وگرنہ ایران کے سپریم کمانڈر کی شہادت کے بعد امریکہ اپنی جیت کا اعلان کر سکتا تھا لیکن پھر اس نے کہا کہ وہ ایران کے ایٹمی پروگرام کو ختم کرنے کے لئے جنگ میں کودا ہے،حالانکہ اس سے قبل 2023ء میں اس نے دعویٰ کیا تھا ایران کا ایٹمی پروگرام ختم کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح ٹرمپ کا اصرار تھا کہ ایران کا اگلا سپریم لیڈر اس کی مرضی سے تعینات ہوگا لیکن پھر چشم فلک نے دیکھا کہ ایرانیوں نے آزادی چوک میں نئے سپریم لیڈر کی تعیناتی کا جشن منا کر ٹرمپ کا منہ چڑایا ہے۔
ایران کی جانب سے خلیجی ممالک میں تیل کے ڈپوؤں کو نشانہ بنانے کے جس عمل کا آغاز کیا گیا ہے اس سے دنیا بھر کی معیشت اگلے چند دنوں میں گھٹنے پر آجائے گی۔ ترقی پذیر ممالک خاص طور پر جامد معیشتوں کی تصویر بن جائیں گے۔ تیل کا بحرا ن ایک بڑے غذائی بحران میں بدل جائے گا، ایسے میں کیا اقوام متحدہ اپنا کوئی کردار ادا کر سکے گی یا پھر نیویارک سے باہر کسی اور جگہ ایک نئے اقوام متحدہ کے قیام کی ضرورت پیدا ہو جائے گی۔ خاص طور پر جب امریکہ نے لگ بھگ 66عالمی معاہدوں سے اپنے آپ کو علیحدہ کرلیا ہے جن میں 30سے زائد ایسے ہیں جو اقوام متحدہ کے زیرانتظام چل رہے ہیں، اس لئے دنیا میں ایک نئی بحث کا آغاز ہوگیا ہے کہ دنیا کو امریکی اثر سے نکل کر آگے کا سفر طے کرنا چاہئے،اگر یہ تجزیہ درست ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ایشیا کی صدی کا آغاز ہواچاہتا ہے اور ایران امریکہ کے لئے ایک اور واٹر لو بننے جا رہا ہے ؎
رو میں رخشِ عمر کہاں دیکھئے تھمے
نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں
