امریکہ اسرائیل جارحیت نہیں، عالمی قوانین کا احترام کریں
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کا احترام کرنے سے کھلے عام انکار اور ببانگ دہل خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ آج کل وہ دنیا کی ایک سپر پاور کے سربراہ ہیں۔ چند روز قبل ایران کے حکومتی وفد سے مذاکرات کے دوران انہوں نے اپنے حکم سے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے 24 شہروں پر فضائی حملے کر کے متعدد افراد کو شہید اور زخمی کرنے کے علاوہ کئی املاک کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک بڑے حملہ میں ایران کے روحانی رہنما، علی خامنہ ای سمیت، دفاعی اور دیگر اہم شعبوں کے صف اول کے کئی قائدین کو شہید کر دیا گیا ہے۔ دیگر حملوں میں ایک سکول پر بمباری سے 175 طالبات بھی شہید کر دی گئی ہیں جو وہاں تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔قریب ہی بعض دیگر افراد بھی شدید زخمی ہوئے ہیں۔ یہ جارحیت سراسر ظالمانہ کاروائی اور ریاستی دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی اسرائیل کو آئے روز غیر مشروط حمایت کے لئے کثیر مالی اور جدید اسلحہ کی امداد قیام امن کی بجائے خطر ناک اور جنگی حالات جاری رکھنے کا باعث بن رہی ہے۔
وزیر اعظم پاکستان نے ایران پر ان حملوں کی سخت مذمت کرکے ثالثی کی خدمات پیش کر دی ہیں۔ صدر ٹرمپ گزشتہ چند روز سے واضح الفاظ میں اپنے اس عزم کا اظہار کر رہے ہیں کہ وہ کسی عالمی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے قواعد و ضوابط پر عمل درآمدکے حامی اور پابند نہیں ہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بلا تفریق مذہب و خطہ ارض پانچ بڑی طاقتوں کو ویٹو پاور کا استحقاق بھی بلا مزید تاخیر ترک کرنا ضروری ہے۔ اہل فلسطین پر گزشتہ 78 سال سے اسرائیل دن رات تشدد اور بربریت کے پہاڑ توڑتا چلا آ رہا ہے۔
امریکہ اس نسل کشی روکنے کی بجائے اپنا ویٹو پاور کا استحقاق استعمال کرکے اس جارحیت کو جاری رکھنے کا کردار ادا کرتا ہے۔ اسرائیل کو امریکہ کی سپر پاور تسلسل سے کثیر مالی امداد اور جدید تباہ کن اسلحہ فراہم کر کے اس کی حوصلہ افزائی کرتی رہتی ہے۔ اہل فلسطین کے لئے کئی سال سے طے شدہ دو ریاستی حل کے قیام کا مطالبہ آج تک پورا ہونے کی بجائے بلا وجہ تاخیر کا شکار کر دیا گیا ہے۔اب اسرائیل نے امریکہ اور ایران کے سیاسی رہنماؤں کے مابین مذاکرات کے اختتام سے قبل ہی ایران پر فضائی اور مزائل حملوں سے نقصانات سے دو چار کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ ایران پر اپنی من مانی کی شرائط عائد کر کے دفاعی کارکرگی سے دستبردار ہونے کی دھمکیاں دینے اور اپنی جارحیت جاری رکھنے کے اعلانات کر رہے ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کی گئی جنگ سراسر ظالمانہ کاروائی ہے۔ حالانکہ باہمی گفت و شنید میں واضح طو رپر ایران نے ایٹمی صلاحیت حاصل نہ کرنے کی پیش کش کی تھی بلکہ اسے پر امن مقاصد کے لئے محدود رکھنے کا عزم بتایا تھا۔ اسرائیل دراصل ایران کے جدید میزائل پروگرام کو تباہ کرنے کے لئے گزشتہ کئی ماہ سے تیاری کر رہا تھا کیونکہ اس کے بیلسٹک میزائل کے خطرناک اور تباہ کن اثرات سے اسرائیل کو قابل ذکر حد تک جانی اور مالی نقصانات کے امکانات تھے جبکہ اسرائیل اس جارحیت کے لئے امریکہ کو کئی ماہ سے قائل و مائل اور اکسا رہا تھا۔ اب صدر ٹرمپ اور اسرائیل فوری جنگ بندی کر کے بورڈ آف پیس کے تعمیری مقاصد کو آگے بڑھانے کے لئے غزہ کی تعمیر نو کا آغاز کرنے پرجلد توجہ دیں۔ غزہ میں امن فوج کی تعیناتی کے لئے مسلمان ممالک سے معاہدے کے تحت فوجی دستوں کو جلد اپنے مقامات پر ذمہ داری لینے پر تعین کریں تا کہ فلسطینی عوام کے رہائشی، تعلیمی،، صحت، مساجد،کمرشل مراکز اور تجارتی سرگرمیاں شروع کرنے کی منصوبہ سازی کر کے اس ر جلد عمل درآمد شروع کیا جا ئے۔ اس بارے میں اسرائیل میں متعین امریکی سفیر کا چند روز قبل کا بیان بابت وسیع و عریض فلسطین کا علاقہ اسرائیل کو دینے کے لئے سراسر بے بنیاد، غلط اور حقائق کے برعکس ہونے کی بنا پر فوری طو رپر مسترد کر دیا جائے۔
خلیجی عرب ممالک میں امریکی فوجی اڈوں پر ایران کے حملوں سے کسی حد تک جانی اور مالی نقصانات ہوئے ہیں۔ یہ بھی امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیل کے ایران پر جارحانہ حملوں کے باعث رونما ہوئے ہیں۔ جبکہ قبل ازیں ایران کے تو ان مسلم ممالک کے ساتھ گزشتہ کئی سال سے خوشگوار اور دوستانہ تعلقات قائم ہیں۔ امید ہے ایران اور وہ مسلم ممالک جلد دوبارہ اپنے باہمی تعلقات بحال کر نے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ یاد رہے کہ بڑے دفاعی اور معاشی ممالک کسی باہمی اختلاف پر کمزور اور غریب ممالک کو انسانی حقوق کے تحفظ کے تحت ان کی مختلف شعبہ زندگی میں بہتری کے لئے امداد اور حوصلہ افزائی کریں۔
دنیا کے مختلف خطہ ارض پر قیام امن کے لئے بڑے دفاعی اور معاشی ممالک کو غریب اور پسماندہ لوگوں کی محرومیت ختم یا کم کرنے کے لئے عالمی اداروں کے توسط مالی امداد،خوراک اور ادویات سے مدد کرنے کے لئے ممکنہ کوشش جاری رکھنے پر باقاعدگی سے توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ تا کہ غربت اور پسماندگی کے اثرات کو جلد ختم کیا جا سکے۔ اس طرح وہاں امن و امان کے مسائل کم کرنے میں خاصی مدد ملے گی۔
