سعودی سفیر نواف سعید المالکی تاریخ رقم کر کے وطن واپس
حرمین شریفین سے اہل پاکستان کا بالعموم اور اُمت مسلمہ کا بالخصوص ایسا انمول رشتہ ہے جو تاقیامت قائم رہے گا سعودی عرب ہمارے لئے دنیا کی پہلی ترجیح اس لئے بھی ہے ہم عمرہ اور فریضہ حج کی روانگی کے لئے حاضری زندگی کا سب سے اہم تحفہ سمجھتے ہیں۔ قیام پاکستان سے اب تک خادم حرمین شریفین جو بھی رہے انہوں نے ہمیشہ پاکستان کو مضبوط بنانے اور مشکل وقت میں ساتھ دینے میں کبھی کمی نہیں چھوڑی، مگر آج جس شخصیت کا ذکر کرنا ہے یہ دبنگ شخصیت یقینا انتخاب تو خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کا ہے مگر انہوں نے پاکستان کو بھی اپنا دوسرا گھر عملاً ثابت کیا ہے۔ پہلے سعودی سفیر ہیں جنہوں نے طویل عرصہ خدمات دیں اور ہر شعبے میں ریکارڈ بنایا۔ سعودی سفیر الشیخ نواف بن سعید المالکی اس لحاظ سے بھی منفرد ہیں انہیں ایک مدت کے لئے نہیں بلکہ کئی دفعہ توسیع کے ساتھ خدمات کا موقع ملا ہے اور انہوں نے دونوں ممالک کو قریب نہیں کیا،بلکہ دونوں ممالک کے عوام کو یک جان دو قالب بنا دیا اب الوداع ہو رہے ہیں۔ان کی رخصتی محض ایک سفارتی تبدیلی نہیں،بلکہ پاک سعودی تعلقات کے ایک مؤثر اور فعال عہد کا اختتام ہے۔شیخ نواف بن سعید المالکی نے ایسے وقت میں پاکستان میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں جب خطے کی سیاست تیزی سے بدل رہی تھی۔ مشرقِ وسطیٰ میں بدلتے حالات، عالمی طاقتوں کی نئی صف بندیاں، معاشی چیلنجز اور خطے میں سلامتی کے مسائل یہ سب ایسے عوامل تھے، جنہوں نے سفارت کاری کو مزید حساس اور پیچیدہ بنا دیا تھا۔ اس پس منظر میں ان کی سفارتی حکمت عملی نے نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات کو مستحکم رکھا،بلکہ انہیں مزید وسعت بھی دی،ان کے دور میں پاک سعودی اقتصادی تعاون میں نمایاں پیش رفت دیکھنے میں آئی۔ سعودی عرب نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے مختلف منصوبوں میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔ گوادر میں آئل ریفائنری کے منصوبے، معدنی وسائل کے شعبے میں تعاون اور توانائی کے مختلف منصوبوں میں سعودی دلچسپی اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاض اسلام آباد کو محض ایک دوست ملک نہیں بلکہ ایک سٹرٹیجک شراکت دار سمجھتا ہے۔ الشیخ نواف بن سعید المالکی نے پاکستانی قیادت کے ساتھ قریبی روابط استوار کیے اور سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے کے لئے مستقل کوششیں کیں۔ پاکستان کو درپیش معاشی مشکلات کے دوران سعودی عرب نے ہمیشہ برادرانہ کردار ادا کیا۔ مالی معاونت، تیل کی مؤخر ادائیگی کی سہولت اور اسٹیٹ بینک میں ڈپازٹس یہ سب اقدامات اس اعتماد کی علامت ہیں،جو سعودی قیادت پاکستان پر رکھتی ہے۔ اس اعتماد کو برقرار رکھنے اور مزید مستحکم کرنے میں شیخ نواف بن سعید المالکی کا کردار کلیدی رہا، انہوں نے نہ صرف دونوں حکومتوں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دیا بلکہ نجی شعبے کے روابط کو بھی تقویت دی۔
دفاعی اور سلامتی کے شعبے میں بھی دونوں ممالک کے تعلقات مثالی رہے ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان عسکری تعاون کی ایک طویل تاریخ ہے۔ مشترکہ مشقیں، تربیتی پروگرام اور دفاعی مشاورت اس شراکت داری کی بنیاد ہیں۔ سعید المالکی کے دور میں اس تعاون کو مزید منظم اور مؤثر بنایا گیا۔ خطے میں امن و استحکام کے لئے دونوں ممالک کا مشترکہ ویژن ہمیشہ نمایاں رہا ہے اور اس ویژن کو عملی جامہ پہنانے میں سفارتی سطح پر مسلسل رابطہ ناگزیر تھا اور پاکستان سعودی عرب کے دفاعی معاہدے کے پس پردہ بھی ان ہی کی کوششیں کارفرما تھیں۔
پاک سعودی تعلقات کا ایک اہم پہلو مذہبی اور عوامی روابط بھی ہیں۔ ہر سال لاکھوں پاکستانی عمرہ اور حج کی سعادت حاصل کرنے سعودی عرب جاتے ہیں۔ حجاج اور معتمرین کی سہولت کے لئے انتظامات میں بہتری، ویزا پالیسیوں میں آسانیاں اور قونصلر خدمات کی بہتری ایسے اقدامات تھے، جنہوں نے عوامی سطح پر مثبت تاثر کو فروغ دیا۔ شیخ نواف سعید المالکی نے پاکستانی عوام کے ساتھ قریبی تعلق قائم رکھا اور مختلف تقریبات، مذہبی و ثقافتی پروگراموں میں بھرپور شرکت کی۔ تعلیم، ثقافت اور میڈیا کے شعبوں میں بھی ان کے دور میں روابط میں اضافہ ہوا۔ طلبہ کے لئے وظائف، ثقافتی وفود کا تبادلہ، اور مشترکہ تقریبات نے دونوں ممالک کے عوام کو مزید قریب کیا۔ انہوں نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ ریاستی تعلقات اس وقت مضبوط ہوتے ہیں جب عوامی سطح پر بھی اعتماد اور محبت کا رشتہ قائم ہو۔ان کی سفارتی خدمات کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ انہوں نے پاکستان کے مختلف صوبوں اور شہروں کا دورہ کیا۔یہ روایت اس بات کی علامت ہے کہ وہ پاکستان کو صرف دارالحکومت تک محدود نہیں دیکھتے تھے بلکہ پورے ملک کو اپنی سفارتی ذمہ داری کا حصہ سمجھتے تھے۔انہوں نے کاروباری برادری، مذہبی شخصیات،سیاسی قائدین اور سماجی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں اور ایک جامع سفارتی مکالمہ قائم کیا۔
عالمی سطح پر بھی پاکستان اور سعودی عرب نے متعدد معاملات پر یکساں مؤقف اختیار کیا۔ اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے پلیٹ فارم پر مسئلہ کشمیر ہو یا فلسطین کا معاملہ، دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی حمایت کی۔ اس ہم آہنگی کو برقرار رکھنے میں سفارتی رابطوں کا تسلسل بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور اس تسلسل میں شیخ نواف سعید المالکی کا کردار نمایاں رہا۔
یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہئے کہ سفارت کاری محض بیانات تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اعتماد سازی، خاموش رابطوں اور مشکل لمحات میں درست فیصلوں کا نام ہے۔ سعید المالکی نے کئی مواقع پر ایسے حساس معاملات میں توازن اور تدبر کا مظاہرہ کیا جس نے دونوں ممالک کے تعلقات کو کسی بھی ممکنہ غلط فہمی سے محفوظ رکھا۔ان کی رخصتی ایک سفارتی روایت کا حصہ ہے، مگر ان کی خدمات ایک یادگار کے طور پر باقی رہیں گی۔ پاک سعودی تعلقات ایک مضبوط درخت کی مانند ہیں جس کی جڑیں عقیدے اور اخوت میں پیوست ہیں اور جس کی شاخیں معاشی، دفاعی اور ثقافتی تعاون کی صورت میں پھیلتی جا رہی ہیں۔ سعید المالکی نے اس درخت کی آبیاری میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔
آج جب وہ پاکستان سے رخصت ہو رہے ہیں تو یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد، تعاون اور دوستی کی فضاء کو مزید مستحکم کیا۔ ان کی سفارتی بصیرت، متوازن طرزِ عمل اور فعال کردار کو پاکستان میں ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔اس میں کوئی دو آراء نہیں کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات افراد کے مرہونِ منت نہیں،بلکہ ریاستی پالیسیوں اور عوامی جذبات پر قائم ہیں، مگر بعض شخصیات ان تعلقات کو نئی جہت دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ شیخ نواف سعید المالکی انہی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ وقت کا پہیہ گھومتا رہتا ہے، سفارت کار آتے اور جاتے رہتے ہیں، مگر جو نقوش وہ اپنے کردار سے چھوڑ جاتے ہیں وہ تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں۔
