menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

ڈاکٹرسبیل اکرام اور نماز تراویح

14 0
11.03.2026

رمضان المبارک کی بابرکت راتیں ہوں، سجدوں میں جھکی پیشانیاں ہوں، آنکھوں میں ندامت کے آنسو ہوں اور فضا میں تلاوتِ قرآن کی خوشبو گھلی ہوئی ہو یہ منظر ہر صاحبِ ایمان کے دل کو سرشار کر دیتا ہے۔ لاہور کی جامع مسجد بحریہ ٹاؤن میں جب ڈاکٹر سبیل اکرام تراویح کی امامت کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو ان کی آواز میں ایک ایسا درد، ایک ایسی تاثیر اور ایک ایسی روحانیت محسوس ہوتی ہے جو سامعین کے دلوں کو موم کر دیتی ہے۔ ان کی خوش الحانی صرف آواز کا حسن نہیں بلکہ دل کی کیفیت کا اظہار ہے اور یہی وجہ ہے کہ لوگ دور دور سے آ کر ان کی تلاوت سنتے ہیں،لیکن بدقسمتی سے ہر اچھے کام کے ساتھ تنقید کا سلسلہ بھی جڑ جاتا ہے۔ بعض افراد یہ اعتراض کرتے ہیں کہ مسجد میں کیمرے نصب ہیں، نماز کی ریکارڈنگ ہو رہی ہے اور اسے سوشل میڈیا پر نشر کیا جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ عمل اخلاص کے منافی یا عبادت کی روح کے خلاف ہے۔ قرآن مجید کو خوبصورت آواز میں پڑھنے کی ترغیب خود احادیث میں ملتی ہے۔ نبی کریمؐ  نے فرمایا کہ قرآن کو اپنی آوازوں سے مزین کرو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خوش الحانی کوئی نئی چیز نہیں بلکہ سنتِ نبویؐ سے ثابت ہے۔ جب ایک قاری اپنی آواز میں درد اور تاثیر کے ساتھ کلامِ الٰہی سناتا ہے تو سامع کے دل پر اس کا اثر کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ ڈاکٹرسبیل اکرام کی آواز میں جو سوز اور گداز ہے، وہ محض فنی مہارت نہیں بلکہ ایک روحانی کیفیت کی علامت ہے۔ ان کی تلاوت سن کر نوجوانوں کے دل قرآن مجید کی طرف مائل ہوتے ہیں، بچے صحیح مخارج سیکھتے ہیں اور بڑوں کے دلوں میں خشیت پیدا ہوتی ہے۔ اگر اس خوبصورت تلاوت کو کیمرے کے ذریعے محفوظ کر کے مزید لوگوں تک پہنچایا جائے تو اس میں کیا قباحت ہے؟

یہ بات درست ہے کہ کیمرہ ایک آلہ ہے، اور ہر آلہ کی طرح اس کا استعمال اچھا بھی ہو سکتا ہے اور برا بھی۔ آج کے دور میں سوشل میڈیا پر بے حیائی، لغویات اور فضولیات کی بھرمار ہے۔ ٹک ٹاک اور دیگر پلیٹ فارمز پر نوجوان لڑکے لڑکیاں غیر اخلاقی مواد پیش کر کے شہرت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مائیں بہنیں بے پردگی کی نمائش کا ذریعہ بن رہی ہیں اور معاشرے میں فحاشی عام ہو رہی ہے۔ایسے ماحول میں اگر کوئی مسجد قرآن کی تلاوت کو ریکارڈ کر کے نشر کرتی ہے، اگر کوئی امام اپنی خوش الحانی کے ذریعے لوگوں کو قرآن سے جوڑتا ہے، اگر کوئی پلیٹ فارم اللہ کے کلام کو عام کرنے کا ذریعہ بنتا ہے تو کیا اسے بھی اسی نظر سے دیکھا جائے گا جس نظر سے فحاشی کو دیکھا جاتا ہے؟ ہرگز نہیں۔کیمرہ بذاتِ خود نہ نیک ہے نہ بد۔ اس کا مقصد اور استعمال اس کی حیثیت متعین کرتا ہے۔ اگر یہی کیمرہ کسی بے ہودہ ویڈیو کے لیے استعمال ہو تو وہ گناہ کا ذریعہ ہے، اور اگر یہی کیمرہ قرآن کی تلاوت کو دنیا بھر تک پہنچانے کا وسیلہ بن جائے تو وہ ثواب کا ذریعہ بن سکتا ہے۔آج کا نوجوان موبائل فون سے جڑا ہوا ہے۔ اس کی توجہ اسکرین پر ہے۔ اگر ہم اس اسکرین کو چھوڑ دیں اور صرف روایتی طریقوں پر اصرار کریں تو شاید ہم نئی نسل تک مؤثر انداز میں نہ پہنچ سکیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جدید ذرائع کو مثبت انداز میں استعمال کریں۔

اگر جامع مسجد بحریہ ٹاؤن میں ہونے والی تراویح کی ریکارڈنگ یوٹیوب، فیس بک یا دیگر پلیٹ فارمز پر اپ لوڈ ہوتی ہے یا لائیو نشر کی جاتی ہے اور ہزاروں لوگ اسے سنتے ہیں، اگر کوئی شخص بیرونِ ملک بیٹھا ہوا اس تلاوت سے روحانی سکون حاصل کرتا ہے، اگر کوئی نوجوان صحیح تجوید سیکھنے کی تحریک پاتا ہے تو یہ ایک عظیم خدمت نہیں تو اور کیا ہے؟۔یہی وہ پہلو ہے جسے نظر انداز کر کے صرف کیمرے کی موجودگی پر اعتراض کرنا دراصل مسئلے کی روح کو نہ سمجھنا ہے۔بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ ریکارڈنگ سے ریاکاری کا اندیشہ ہوتا ہے۔ یہ بات اصولی طور پر درست ہے کہ ہر عبادت میں اخلاص ضروری ہے لیکن اخلاص کا تعلق دل سے ہے، نہ کہ کیمرے سے۔ اگر کوئی شخص بغیر کیمرے کے بھی ریاکاری کرے تو کیا اسے روکا جا سکتا ہے؟ اور اگر کوئی شخص کیمرے کے ہوتے ہوئے بھی خالص نیت سے قرآن کی خدمت کرے تو کیا ہم اس کی نیت کا فیصلہ کر سکتے ہیں؟اسلام ہمیں ظاہری اعمال کے بجائے نیت پر زور دیتا ہے۔ اگر مقصد قرآن مجید کی ترویج ہے، لوگوں کو دین کی طرف بلانا ہے اور اللہ کی رضا حاصل کرنا ہے تو محض ریکارڈنگ کی موجودگی اس عمل کو مشکوک نہیں بنا دیتی۔آج ہمارے معاشرے کو مثبت مثالوں کی شدید ضرورت ہے۔ نوجوانوں کے سامنے اگر صرف فلمی گانے، ڈرامے اور غیر اخلاقی مواد ہوگا تو وہ اسی طرف مائل ہوں گے، لیکن اگر ان کے سامنے نوجوان، کامیاب کاروباری خوش الحان قاری کی تلاوت ہو، اگر وہ دیکھیں کہ ہزاروں لوگ ادب کے ساتھ قرآن سن رہے ہیں، اگر انہیں معلوم ہو کہ دین بھی خوبصورت انداز میں پیش کیا جا سکتا ہے تو ان کی سوچ بدل سکتی ہے۔

ڈاکٹر سبیل اکرام جیسے قراء کی تلاوت جب سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی ہے تو یہ دراصل ایک پیغام ہوتا ہے کہ اسلام خوبصورتی، ترتیب اور روحانیت کا دین ہے۔ یہ شدت یا سختی کا نام نہیں بلکہ دلوں کو جوڑنے کا ذریعہ ہے۔تنقید اگر اصلاح کے لیے ہو تو قابلِ قبول ہے۔ اگر کوئی کہے کہ ریکارڈنگ کے دوران نمازیوں کی پرائیویسی کا خیال رکھا جائے، کیمرے کا زاویہ مناسب ہو، عبادت میں خلل نہ پڑے تو یہ جائز بات ہے۔ لیکن اگر محض اس بنیاد پر مخالفت کی جائے کہ مسجد میں کیمرہ کیوں ہے تو یہ ایک سطحی اعتراض معلوم ہوتا ہے۔ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ کیا اس عمل سے کسی کی نماز متاثر ہو رہی ہے؟ کیا اس سے کوئی شرعی قباحت پیدا ہو رہی ہے؟ اگر نہیں، اور مقصد خالصتاً قرآن کی ترویج ہے تو پھر اس کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔آج کے دور میں علما اور قراء کا کردار پہلے سے زیادہ اہم ہو چکا ہے۔ انہیں صرف مسجد کے منبر تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ڈیجیٹل دنیا میں بھی اپنی موجودگی کو مثبت انداز میں منوانا چاہیے اگر دین کے نمائندے جدید ٹیکنالوجی سے کنارہ کشی اختیار کر لیں گے تو یہ میدان دوسروں کے لیے خالی ہو جائے گا۔کیمرے، مائیکروفون، لائیو اسٹریمنگ یہ سب محض ذرائع ہیں۔ اصل پیغام قرآن ہے، اور اگر یہ پیغام زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ رہا ہے تو یہ ایک سعادت کی بات ہے۔ڈاکٹر سبیل اکرام کی خوش الحانی، ان کی آواز کا درد اور ان کی تلاوت کی تاثیر ایک نعمت ہے۔ اگر اس نعمت کو کیمرے کے ذریعے محفوظ کر کے دنیا بھر کے مسلمانوں تک پہنچایا جا رہا ہے تو اسے منفی زاویے سے دیکھنے کے بجائے مثبت انداز میں سمجھنا چاہیے۔ جہاں معاشرے میں بے حیائی عام ہو رہی ہے۔


© Daily Pakistan (Urdu)