”کرنٹ اور افیئرز“
”تم میں کوئی کرنٹ نہیں،نہ کوئی کرنٹ، نہ کوئی افیئر، کرنٹ بھی نہیں ہے،سپارک بھی نہیں ہے،انرجی بھی نہیں ہے۔ تمہیں کیا پتہ، دنیا میں کیا ہو رہا ہے، تم زندگی میں کچھ نہیں کر سکتے۔ جن میں کرنٹ ہو، زندگی ہو، جو جاندار ہو، انہی کے افیئرز ہوتے ہیں۔ تم میں کوئی صلاحیت نہیں ہے۔ جیسی زندگی گزار رہے ہو، ویسی ہی گزارتے رہو گے، تمہارے جیسے لوگ زندگی میں ترقی نہیں کر سکتے۔ شکر کرو، زندہ ہو، ویسے تو تم زندہ کم ہو، شرمندہ زیادہ ہو، اپنے لئے ہی نہیں، سب کے لئے شرمندگی ہو، ساکت ہو،جامد ہو، آج کل نہ کسی کے خاوند ہو، پھر بھی نہ کوئی چکر، چکُر بس لیٹے رہتے ہو، کرتے رہو شکر، کبھی ارد گرد بھی دھیان دو، لوگ کیا سے کیا ہو گئے ہیں۔ مجھے ہی دیکھ لو، تم سے زیادہ قابل تو نہیں تھا، لائق تو نہیں تھا لیکن مجھ میں جذبہ تھا، جذبہ ہے، مجھ میں کرنٹ بھی ہے،سپارک بھی، انرجی بھی۔ کرنٹ افیئر زپر بھی نظر ہے اور اپنے افئیرز چھپانے میں بھی مجھے ملکہ حاصل ہے،دیکھ لو میں کیا تھا اور کیا ہو گیا ہوں،زمین سے آسمان پر پہنچ گیا ہوں اور ابھی بھی آگے بڑھنے کی لگن ہے، پیسہ کمانے کی جستجو ہے، تم بھلے اسے ہوس کہہ لو۔ جب بھی تمہیں ملوں، وہیں کے وہیں، تم ویسے کے ویسے، اپنے حالات سے مطمئن،کنوئیں کے مینڈک، نہ آگے بڑھنے کی لگن،نہ پیسے سے لگاؤ۔تمہیں کبھی لگا نہیں، تم ایسے کیوں ہو؟میں تو اکثر سوچتا ہوں، آخر میرا ہی دوست ایسا کیوں ہے؟ گئے زمانے میں پی ٹی وی پہ ایک کمرشل آیا کرتی تھی، آخر میرا بچہ ایسا کیوں ہے؟ تو ذرا بتاؤ میرا بچہ ایسا کیوں ہے؟اب تو تم بچے بھی نہیں رہے بلکہ اپنے علاقے میں تو تمہاری میری عمر والوں کے بارے میں کہا جاتا ہے، اس عمر میں تو جن بھی سمجھدار ہو جاتے ہیں۔ ابھی وقت ہے، کچھ کر لو، اپنے اندر کرنٹ پیدا کرو، کوئی ایک افیئر ہی چلا لو،دنیا میں آئے ہو، کچھ تو کرو ''۔ جو کہاجا رہا تھا، شدید غصے سے کہا جا رہا تھا۔ بولنے والے کے لہجے میں خلوص بھرا غصہ تھا۔ وہ بچپن کے دوست تھے۔ اس بات کی زندہ مثال تھے،متضاد چیزیں ایک دوسرے کو اپنی طرف کھینچتی ہیں۔ وہ رشتہ نبھاتے آئے تھے۔ ایک حال مست کھال مست تھا، آب پیتا تھا، دال کھاتا تھا، کچے پکے راگ گاتا تھا۔ ان کا آبائی علاقہ ایک ہی تھا۔ساتھ پڑھے تھے،ساتھ پلے بڑھے تھے۔ ایک نے دنیا فتح کرنے کو مشن بنا رکھا تھا۔ وہ پیسے کے لئے کچھ بھی کر گزرتا تھا۔ مضبوط اعصا ب کا مالک تھا، بے رحمی کی حد تک چلا جاتا تھا۔ دارالحکومت میں گھر بنا لیا تھا، ہر بڑے آدمی کے دل میں در بنا لیا تھا۔ ترقی کے لیے کچھ بھی کر گزرتا تھا۔دوسرا اپنے چھوٹے سے شہر میں خوش تھا، اپنی ملازمت سے مطمئن تھا۔وہ محنت کرتا تھا لیکن اسے دنیا فتح کرنے کا کوئی شوق نہ تھا۔ وہ حساس تھا۔کسی کو ڈانٹ تک نہ سکتا تھا، کسی کی بے عزتی نہ کر سکتا تھا، ادھار دے کر واپس نہ مانگ سکتا تھا، کسی کو مصیبت میں دیکھ کر آنسو بہانے لگتا تھا۔ کئی لوگ سمجھتے تھے، اس میں قیادت کی صلاحیت نہیں۔وہ شرمیلا تھا۔ اپنا حق مانگتے ہوئے بھی اسے شرم آتی تھی۔کبھی کبھی اسے اپنے مزاج پہ حیرت ہوتی تھی۔ وہ خود کو بدلنے کی کوشش بھی کرتا تھا لیکن پھر مطمئن ہو جاتا تھا۔ زندگی گزر رہی تھی۔ وہ سمجھتا تھا،اس شہر خرابی میں غم عشق کے مارے،زندہ ہیں، یہی بات بڑی بات ہے پیارے۔ وہ جو بھی کماتا، خود اچھا کھاتا پیتا، لیکن کسی بھی حاجت مند کی مدد کیے بغیر نہ رہ سکتا۔ حاجت مند اپنا ہوتا یا غیر، اسے اس بات سے کوئی فرق نہ پڑتا۔ کبھی کہیں سیر و تفریح کے لئے بھی نہ گیا۔ دوست احباب تھائی لینڈ جاتے، یورپ جاتے،اسے بھی دعوت دیتے مگر اس نے تو دبئی تک نہ دیکھا تھا۔ وجہ عجیب تھی۔ وہ بچپن سے ہی ضرورت سے زائد پیسے خیرات کرنے پر یقین رکھتا۔ اپنی ضرورت سے زائد پیسے مستحقین کو دے کر اسے دلی سکون ملتا۔ ذاتی خرچہ ایک ہی تھا، ہر ماہ ایک کتاب خرید لیتا، مہینہ کتاب پڑھتے گزر جاتا۔ نئی تنخواہ پر نئی کتاب آ جاتی۔شادی کی تھی، بیوی اللہ کو پیاری ہو گئی تھی،اولاد تھی نہیں۔ وہ مرحومہ کی یاد میں سادھو نہیں ہوا تھا، جوگی نہیں بنا تھا، کوئی خفیہ افیئر چلانے کی اس میں صلاحیت نہیں تھی۔ افیئر کا تصور ہی عجیب لگتا۔ اپنی امریکن کلاس فیلو کی بات ہمیشہ یاد رہتی۔ نوجوان امریکن نے ہنس کر کہا تھا:-'' ہماری اخلاقیات پر باتیں بناتے تم لوگ اپنا چال چلن بھول جاتے ہو۔ ہمارے ہاں بناوٹ نہیں، جو کوئی کچھ کرتا ہے،کھلے عام کرتا ہے۔تمہارے ہاں اپنے کرتوتوں پر پردے ڈالے جاتے ہیں، دوسروں کے پردے چاک کیے جاتے ہیں۔ تم لوگ بڑے شاطر ہو، کوئی کنوارا یا شادی شدہ، ہر مرد نے کوئی نہ کوئی سائیڈ پروگرام چل ر کھا ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں سائیڈ پروگرامز کا رواج نہیں ''۔وہ زندگی بھر محتاط رہا۔کبھی کوئی سائیڈ پروگرام چلانے پر دل نہ مانا۔ روح کی بات بدن کی زبان سے کہہ دینا کبھی مناسب نہ لگا۔اذن تھا، عمر گزار دیجئے، عمر گزار دی گئی۔ وہ ہزاروں، لاکھوں، کروڑوں عام آدمیوں میں سے ایک تھا، جو عام ہوتے ہوئے بھی عام نہیں ہوتے۔ کسی نے بالکل بجا کہا تھا،اللہ تعالیٰ نے عام آدمی اسی لیے زیادہ بنائے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کو پسند زیادہ ہوتے ہیں۔ وہ سمجھتا تھا، غیر معمولی وہی ہوتا ہے، جو کسی بھی انسان کو معمولی نہیں سمجھتا، کسی کے لئے غیر نہیں ہوتا۔آپ بھی غیر معمولی انسان بن سکتے ہیں، نسخہ آسان ہے۔
