ایران اور امریکہ اسرائیل جنگ کا حتمی انجام
صہیونی نیا بیانیہ تشکیل دے رہے ہیں جو بات پہلے ڈھکی چھپی تھی اب اظہر من الشمس ہو رہی ہے جسے ہم کبھی یہودی سازش کہہ کر مسترد کرنے کی کوشش کرتے تھے اب وہ ننگی حقیقت بن کر ہمارے سامنے کھڑی ہے۔ صہیونی اسرائیلی بھی اسے تسلیم کر رہے ہیں صہیونی امریکی بھی اسے برملا تسلیم کر رہے ہیں جاری جنگ کو مذہبی جنگ قرار دیا جا رہا ہے۔اسرائیلی گریٹر اسرائیل کے نظریے کی تصدیق بائبل مقدس سے کر رہے ہیں۔عظیم اسرائیل کا قیام ایک بدیہی سچائی قرار دے رہے ہیں۔70عیسوی میں قدرت نے یہودیوں پر عذاب عظیم مسلط کیا ان کی عظیم سلطنت بابلی بادشاہ بختِ نظر کے ہاتھوں تاراج کر دی گئی ہیکل سلیمانی کو پیوند خاک کر دیا۔ یہودی غلام بنا دیئے گئے۔ منتشر کر دیئے گئے ان پر ازلی ذلت طاری کر دی گئی۔ وہ عیسیٰ ابن مریم کو صلیب دینے سے پہلے یحییٰؑ کو بھی قتل کر چکے تھے۔عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب دینا(قرآن کہتا ہے کہ وہ عیسیٰ کو صلیب نہیں دے سکے بلکہ اللہ نے انہیں زندہ آسمانوں پر اٹھا لیا تھا) ان کا آخری اجتماعی گناہ تھا اس کے بعد ان پر عذاب مسلط کر دیا گیا۔یہ عذاب دو ہزار سال تک ان پر مسلط رہا نہ ان کی کوئی ریاست تھی اور نہ ہی مذہبی مرکزیت، یہ ملکوں ملکوں پھرتے پھراتے ذلت و محکومی کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیئے گئے تھے۔انہوں نے سازشی منصوبہ سازی کے ذریعے اپنے دشمن مسیحیوں کو ایک طرف مسیحیت سے بیگانہ کرنے کا کام کیا اور دوسری طرف انہیں مکرو فریب کے ذریعے اپنی حمایت پر آمادہ کیا۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ قاتلانِ مسیح ابن مریم، عیسائی دنیا کے کاندھوں پر سوار ہو کر عظیم اسرائیل کے قیام کی کاوشیں کر رہے ہیں۔ عیسی ابن مریم ایک عظیم پیامبر تھے ان کی پیدائش ایک معجزہ تھی ان کی زندگی عزیمت سے عبارت تھی ان کا زندہ آسمانوں پر اٹھایا جانا بھی ایک معجزہ ہے اور ان کی آمد ثانی بھی معجزاتی ہے۔انہوں نے اسرائیلیوں کو داؤد اور موسیٰ کی تعلیمات کی طرف بلایا انہیں یعنی اسرائیلیوں کو ان کے رب کے ساتھ باندھے گئے عہد کی یاد دلائی۔توریت و زبور میں درج احکامات کی پابندی کا درس دیا لیکن اسرائیلیوں نے ان کی تکذیب کی اور بالآخر عذاب خداوندی کے مستحق قرار پائے۔دو ہزار سال کے بعد 1948ء میں ریاست اسرائیل کے قیام کے ساتھ ہی تاریخ یہود میں ایک نیا دور شروع ہوا ہے۔ ریاست اسرائیل بنیادی طور پر صہیونی تحریک کی کاوشوں کا نتیجہ ہے یہ تحریک آسٹریا/ہنگری کے ایک یہودی صحافی تھیوڈورھ زل نے1897ء میں شروع کی تھی جس کے مطابق یہودی ایک قوم ہیں اور انہیں یہ حق حاصل ہے کہ اپنے ماضی کے مطابق ایک ریاست ان علاقوں میں قائم کریں جہاں داؤد/سلیمان کے دورِ حکمرانی میں قائم تھی یعنی اسرائیل کے دورِ عظمت میں قائم شدہ ریاست اسرائیل کے علاقوں پر مشتمل ایک ریاست کا قیام یہودیوں کا حق ہے، یعنی گریٹر اسرائیل۔
آج اگر عیسائی وہ تمام کام کرتے ہیں جو عیسیٰ ابن مریم نے انہیں کرنے سے منع کیا تھا تو یہ یہود کی منظم کاوشوں کا نتیجہ ہے نظری و فکری اعتبار سے دین مسیح توحیدی نہیں رہا۔تثلیث کا عقیدہ کہاں سے آیا؟ عیسیٰ کی خالص توحیدی تعلیمات کو اقاتیم تلثہ میں کس نے بدلا۔ خنزیر اور شراب کی ممانعت بھی عیسائی دنیا میں ان حرام اشیاء کو کس نے رائج کیا۔ختنہ کس نے ختم کیا، زنا کاری اور اخلاقی بدیوں کا فروغ کیا قوم یہود کی عیسائی ملت کے خلاف منظم سازشوں کا نتیجہ نہیں ہے۔ یہودی ان تمام حرام کاریوں سے بچے ہوئے ہیں وہ نہ شراب پیتے ہیں نہ خنزیر کھاتے ہیں،زنا کاری سے بچتے ہیں اور ختنہ کراتے ہیں۔عیسیٰ علیہ السلام کوئی نیا دین نہیں لائے تھے وہ شریعت موسوی کے پرچارک تھے۔یہودیوں نے عیسائیوں سے بھرپور انتقام لیا آج عیسائی اقوام پنجہ یہود میں ہیں۔ صہیونی عالمی چودھری امریکہ کے اعصاب پر سوار ہے نیتن یاہو نے ٹرمپ کو ایران کے خلاف اپنے ساتھ جنگ میں جھونک دیا ہے مشرق وسطیٰ آتش و آہن میں جھلس رہا ہے۔ عرب مسلمان، بنی اسماعیل، بنی اسرائیل کے نشانے پر ہیں وہ عیسائی جو صدیوں تک یہود کو قاتلانِ مسیح کہہ کر ذلیل و خوار کرتے رہے آج بنی اسرائیل کے ممدو معاون بنے ہوئے ہیں۔ صہیونی عیسائی تیسرے ہیکل کی تعمیر کے لئے یہود کے دست و بازو بنے ہوئے ہیں گریٹر اسرائیل کی تعمیر و تکمیل کے لئے فلسطینیوں اور عربوں کی نسل کشی و ہلاکت خیزی کی جا رہی ہے۔اسرائیل قطعاً ایک ناجائز ریاست ہے جو صہیونی تحریک کے نتیجے میں برطانوی استعمار نے عربوں کے سینے میں خجر کی طرح ٹھونک دی ہے۔ مشرق وسطیٰ تباہ و برباد ہونے جا رہا ہے۔ نائن الیون کے بعد مسلمانوں کے خلاف شروع کی جانے والی جنگ بھی مذہبی بنیادوں پر تھی، عیسائی، مسیح کی آمد ثانی کی تیاریوں کے سلسلے میں دنیا کو پاک کر کے ان کے استقبال کی تیاریاں کر رہے تھے مسلمانوں کی ہلاکت اسی سلسلے کی کڑی تھی اس جنگ میں لاکھوں نہیں کروڑوں انسان ہلاک و مجروح کئے گئے اور وہ سب مسلمان تھے۔ایران کی تباہی کے لئے بھی بائبل کے حوالے دیئے جا رہے ہیں ڈونلڈ ٹرمپ اپنے آپ کو مامور من عیسیٰ کہتے ہیں۔ مسیح کی آمد ثانی کے استقبال کے لئے تیاریوں کے حوالے سے ایران کو برباد کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔یہودی بھی اپنے مسیحا کی آمد کی تیاریاں کر رہے ہیں جو ان کے عالمی غلبے کی قیادت کرے گا۔ تیسرے ہیکل کی تعمیر بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے جس کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں۔
عالم عرب میں جہاں اسرائیل قائم ہے اور جہاں عظیم اسرائیل نے قائم ہونا ہے،جہاں تیسرے ہیکل کی تعمیر ہونی ہے،کوئی ایسی قوت باقی نہیں رہ گئی ہے جو صہیونیوں کے عزائم کی مزاحمت کر سکے۔ایران زبانی کلامی تو بہت کچھ کہتا رہا ہے لیکن ایٹمی طاقت نہیں بن سکا۔ ایسے حالات میں اب امریکہ اور اسرائیل مل جل کر ایران پر حتمی وار کر رہے ہیں۔ایران مزاحمت تو خوب دکھا رہا ہے مقابلہ بھی کر رہا ہے لیکن حقیقت احوال یہ ہے کہ ایران تباہ ہونے جا رہا ہے۔ صہیونی اب کسی طور بھی ایرانی مزاحمت کو کچلے بغیر پیچھے نہیں ہٹیں گے چاہے ایٹم بم بھی کیوں نہ چلانا پڑے۔
