menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

بچوں کو محنت مزدوری سے نجات کا فیصلہ!

16 0
10.03.2026

باخبر حکومتی ذرائع کے مطابق صوبے میں بچوں سے محنت مزدوری کرانے کا سلسلہ ختم کرنے کا فیصلہ کر لیاگیا اس حوالے سے ایک مربوط پروگرام پر عملدرآمد کیا جائے گا جس کے تحت بچوں کو اوائل عمر ہی سے محنت و مشقت کے کٹھن ترین مراحل سے نجات دِلا کر اُن کے حقیقی فرض حصولِ تعلیم کے راستے پر گامزن کرنا ہے۔حقیقت یہ  ہے کہ بدقسمتی سے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بوجوہ ملک کی 40فیصد سے زائد آبادی افلاس و غربت کی ایسی ہولناک اتھاہ گہرائیوں میں سسک سسک کر زندگی گزار رہی ہے کہ ملک کی اشرافیہ کے چند ہزار خاندان اس کا تصور تک نہیں کر سکتے اور باعث ِ ستم بات یہ ہے کہ وہ مفلس و متلاش اور کسمپرسی کی زندگی گزارنے والے کروڑوں خاندانوں کے خون پسینے کی کمائی سے حاصل ہونے والے ٹیکس سے ہر طرح کی آسائشوں سے بھرپور زندگی گزارتے ہیں۔ان حقیقتوں کے ہوتے ہوئے اس سے زیادہ دُکھ دہ بات اور کوئی نہیں ہو سکتی کہ کروڑوں خاندانوں کے کمسن نونہالوں کو ابھی پوری طرح چلنا پھرنا بھی نہیں آتا کہ ملک میں سماجی ناانصاف کا شکار عسرت کی زندگی بسر کرنے والے گھرانوں کے بچوں کو محنت ومزدوری کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ملتا۔قوم کے کروڑوں نونہال چائے خانوں، کھانے کے ڈھابوں،سائیکلوں،موٹر سائیکلوں کی مرمت کی دکانوں، کاروں کی ورکشاپوں، لاتعداد دکانوں کی جھاڑ پونچھ سمیت گلی کوچوں میں کھانے پینے کی مختلف اشیاء کی فروخت حتیٰ کہ خوانچہ فروشی کرتے ہوئے بھی ملتے ہیں جبکہ یہ عمر اُن قسمت کے ماروں کی تعلیمی اداروں میں جانے کی ہوتی ہے،کوئی بھی محنت و مزدوری سے اپنا اور گھر والوں کا پیٹ پالنے والا بچہ ہر گز ہر گز اس بات کا متمنی نہیں ہوتا کہ محلے کے دیگر بچوں کی طرح اس کا  تعلیمی اداروں سے رشتہ نہ ہو۔ ایسا ہر بچہ بھی اپنی حصول علم کی خواہشات کو دبائے ہوئے بہ امر مجبوری مزدوری کرتا ہے بچوں کی محنت و مشقت سے ہٹا کر ان کا تعلیم سے رشتہ جوڑنے کا صوبہ پنجاب نے جو بھی پروگرام مرتب کیا ہے بلاشبہ ہر لحاظ سے حوصلہ افزاء اور خوش کن ہے۔اس حوالے سے جو مربوط منصوبہ مرتب کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے وہ بھی قابل تحسین ہے اس کے تحت ابتدائی مرحلے میں پنجاب کے نو اضلاع میں ہنگامی بنیادوں پر2566 بچوں کو عالی معاونت فراہم کی جائے گی ہر بچے کو ماہانہ نو ہزار روپے کی امداد دی جائے گی اس حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ امداد بچوں کے ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں منتقل کی جائے گی اور پہلی قسط منصوبے کے باضابطہ اجراء کے ایک ماہ  بعد جاری ہوگی۔اس پائلٹ فیز کے لئے مجموعی طور پر 30کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔یہ منصوبہ یکم اپریل 2026ء سے 31مارچ2027ء تک ایک سال کے لئے نافذ العمل ہو گا۔ صوبائی حکومت کی طرف سے بچوں کو محنت و مشقت کی المناک زندگی سے نجات دِلا کر حال و مستقبل کے اپنے اور قوم و ملک کے حالات کو سنوارنے کے عمل سے وابستہ کرنے کا پروگرام ملکی معاشرے کے لئے باعث ِ اطمینان ہے مگر اس حوالے سے پنجاب میں حکومتی تحویل میں چلنے والے تعلیمی اداروں کو نجی شعبوں کے حوالے کرنے کا جو پروگرام ہے اس کی کوئی بھی ذی ہوش انسان تائید کرنے سے قاصر  رہے گا اگر یہ سرکاری تعلیمی اداروں کو نجی شعبوں کے حوالے کرنے کا سلسلہ  کافی عرصہ سے شدو مد کے ساتھ جاری ہے اور عوامی حلقوں میں اس پر کسی بھی طرف سے خوشی کا اظہار نہیں کیا جا رہا اب اگرچہ بچوں کو محنت و مشقت سے نجات دِلا کر سکولوں میں تعلیم کی خاطر داخلے کا جو پروگرام بنایا گیا ہے اس کے لئے مزید تعلیمی اداروں کا وجود ہونا ناگزیر ہو گا مگر معلوم ہوا ہے کہ سکولوں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کا تیسرا مرحلہ شروع ہو گا تو اس کے تحت دو ہزار 735سکول نجی شعبے کو دیئے جائیں گے جبکہ مزید ہزاروں سکول، پبلک سکول دی آرگنائزریشن پروگرام میں شامل ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اربابِ اختیار سرکاری تعلیمی اداروں کو نجی شعبوں کے سپرد کرنے کی پالیسی پر نظرثانی کریں، خدا کرے کہ بچوں سے محنت مزدوری کرنے کا سلسلہ بند کرنے کا پروگرام کامیابی سے ہمکنار ہوتو پھر لاکھوں نہیں یقینا کروڑوں بچوں کے لئے ابتدائی تعلیمی اداروں کی ضرورت درپیش ہو گی اور اس حوالے سے دور اندیشانہ سوچ و فکر کی بدولت تعلیمی میدان میں ممکنہ بحران سے نہ صرف نجات ملے گی بلکہ بچوں کے لئے تعلیمی اداروں کی ضرورت میں پیش آمدہ مسائل کا بھی سامنا  کرنے کا مسئلہ پیدا نہیں ہو گا۔ 


© Daily Pakistan (Urdu)