ایران جان ماست!
ہمارے ہمسایہ برادر ملک ایران کی تاریخ دنیا کی قدیم ترین اور عظیم تہذیبوں میں سے ایک ہے۔ قدیم زمانے میں ایران کو فارس کہا جاتا تھا اور یہاں کئی طاقتور سلطنتیں قائم رہیں۔ ان میں بخامنشی سلطنت Achaemenid Empire خاص طور پر مشہور ہے جس کی بنیاد سائرس اعظم نے رکھی اور یہ سلطنت مشرق وسطیٰ، مصر اور ایشیا کے وسیع علاقوں تک پھیلی ہوئی تھی بعد میں اشکائی اورساسانی سلطنتیں بھی ایران کی تاریخ میں اہم مقام رکھتی رہی ہیں۔ ساتویں صدی میں جب اسلام پھیلا تو ایران کی ثقافت زبان اور معاشرت میں بڑی تبدیلیاں آئیں، لیکن فارسی تہذیب اور ادب نے اپنی مضبوط شناخت برقرار رکھی۔ قرونِ وسطیٰ میں ایران علم، ادب اور فنون کا اہم مرکز بن گیا اور یہاں سے کئی عظیم شعراء اور مفکر پیدا ہوئے۔ جدید دور میں ایران نے سیاسی اور سماجی تبدیلیوں کے کئی مراحل دیکھے جن میں 1979ء کا اسلامی انقلاب ایک اہم موڑ تھا جس کے بعد ایران ایک اسلامی جمہوریہ بن کر ابھراآج ایران اپنی قدیم تہذیب، تاریخی ورثہ اور ثقافتی روایات کی وجہ سے دنیا میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ایران کا آرکٹیکچر، آرٹ اور ثقافت دنیا بھر میں اپنی خوبصورتی اور انفرادیت کی وجہ سے مشہور ہے۔ ایران کی قدیم عمارتیں شاندار گنبدوں، بلند میناروں، خوبصورت محرابوں اور رنگین ٹائلوں سے مزین ہوتی ہیں۔ ایرانی آرٹ میں خطاطی، مصوری، قالین بانی اور منی ایچر پینٹنگ کو بھی خاص اہمیت ہے فارسی خطاطی بھی ایک اعلیٰ فن سمجھا جاتا ہے جس میں آیاتِ قرآنی اور شعری کلام کو خوبصورت انداز میں لکھا جاتا ہے ایران کی ثقافت بھی نہایت قدیم اور رنگارنگ ہے یہاں کی زبان فارسی ہے اور ادب، شاعری اور موسیقی کو خاص مقام حاصل ہے۔ فارسی ادب میں حافظ شیرازی اور رومی جیسے عظیم شعراء نے دنیا بھر میں شہرت حاصل کی۔ ایرانی تہوار، روایتی لباس، مہمان نوازی اور خاندانی اقدار اس ثقافت کی نمایاں خصوصیات ہیں ان تمام عناصر نے مل کر ایران کی تہذیب کو ایک منفرد اور دلکش شناخت دے رکھی ہے۔ ایرانی قوم میں صبر، استقامت اور قومی یکجہتی کا جذبہ نمایاں ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایران نے ماضی میں کئی مشکل حالات کا سامنا بڑی بہادری سے کیا اور آج وہ صہیونی طاقتوں سے تن تنہا نبرد آزما ہے آقائے آیت اللہ خمینی نے ایران کو ایک طاقتور ملک بنانے کیلئے بے حد جدوجہد کی اور آج ان کے اس جہانِ فانی سے جانے کے بعد بھی اسلام کا ایک ناقابلِ تسخیر اسلامی قلعہ بن کر ابھرا ہے۔ ایران اپنی خود مختاری قومی سلامتی کے تحفظ کے لئے مشکلات کا سامنا اور مقابلہ کررہا ہے۔
آیت اللہ علی خامنہ ای ایران کے سپریم لیڈر تھے اور 1989ء میں اس عہدے پر فائز ہوئے وہ ایران کی سیاسی اور مذہبی قیادت کی اہم ترین شخصیت سمجھے جاتے تھے۔ حالیہ جنگ میں حملوں کے دوران ان کی شہادت کی خبر نے ایران اور دنیا بھر میں گہرا اثر چھوڑا پاکستان میں اس پر ردعمل اور تعزیتی بیانات سامنے آئے کوئی آنکھ ایسی نہ تھی جو اشک بار نہ ہو۔اُنہیں یکم مارچ 2026ء کو حملوں کے دوران شہید کیا گیا۔ ایران اس وقت ایک شدید جنگی اور سیاسی بحران سے گزر رہا ہے جس نے پورے مشرق وسطیٰ کو بھی متاثر کر دیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے مختلف فوجی، جوہری اور حکومتی مقامات پر فضائی حملے کئے اور اس کے نتیجے میں صورت حال تیزی سے جنگ میں تبدیل ہو گئی ہے۔ ایران نے بھی میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے جوابی کارروائی شروع کر دی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے یہ بھی نہ سوچا کہ وہ کن جگہوں کو نشانہ بنا رہے ہیں ہر جنگ میں یہ خیال رکھا جاتا ہے کہ معصوم عوام کو اس کا نشانہ نہ بنایا جائے مگر انہوں نے 28فروری 2026ء کو لڑکیوں کے پرائمری سکول شجرِ طیبہ ایلیمنٹری گرلز سکول میں فضائی حملہ کرکے 165کمسن بچیوں کو شہید کر دیا۔ تمام معصوم بچیوں کی عمر 6سے 12سال کے درمیان تھی یہ معصوم پریاں تھیں، نازک کلیاں تھیں جنہوں نے دنیا کو کس خوبصورتی میں دیکھا ہوگا ان خوبصورت معصوم بچیوں کو ان کے ماں باپ نے کس طرح اور کس دل کے ساتھ کفن پہنایا ہوگا۔ چھوٹی معصوم بچیوں کے سکول پر میزائل حملہ انسانیت اور اخلاقیات پر ایک گہرا طمانچہ ہے ہمیشہ سے جنگ کا بھاری بوجھ معصوم شہری بچے اور مستقبل کی نسلیں اُٹھاتی ہیں۔ یہ المناک واقعہ ہمیں اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ دنیا میں امن، رواداری اور انسانی زندگی کی قدر کو ہمیشہ مقدم رکھنا چاہیے۔ یہ بات بھی طے ہے کہ امریکہ جب بھی کسی بھی مسلم ملک پر حملہ آور ہوا ہے اسے کبھی فتح نصیب نہیں ہوئی بلکہ وہ وہاں سے اپنا منہ لے کر ہی نکلا ہے اپنے نقصانات کی وجہ سے جنگ سے پناہ مانگتا ہوا نکلا ہے مگر پھر بھی اسے چین نہیں آتا کسی نہ کسی مسلمانوں کے ازلی دشمن کے ساتھ مل کر ناحق مسلم ممالک پر قبضہ کرنے کی کوشش میں رہتا ہے۔ وہاں کے تیل کے ذخائر پر قبضہ بھی اس کا ہدف ہوتا ہے۔ ایران ایک جاندار قوم ہے وہ بھی اللہ کے فضل و کرم سے پیچھے ہٹنے والی نہیں وہ ایک بہادر قوم ہے اپنی جان کے نذرانے پیش کر دیں گے مگر اپنے ملک کی حفاظت میں کوئی کسر نہ چھوڑیں گے۔ بقول امریکہ ایران سے اسے ایٹم بم بنانے کا خدشہ ہے اور وہ اسلئے ایران کی رجیم کو بدلنا چاہ رہا ہے، اگر اس میں صداقت ہے تو پھر بھی ہر ملک کو اپنی حفاظت کرنے کا حق حاصل ہے ایٹم بم تو اور ممالک کے پاس بھی ہے جن میں روس، چائنہ، بھارت، پاکستان ان سے خوفزدہ کیوں نہیں آخر ایران ہی کیوں؟ امریکہ کا مقصد حقیقتاً ایٹم بم نہیں بلکہ اسرائیل کو کسی بھی طریقے سے ہر لحاظ سے تحفظ فراہم کرنے کی ناکام کوشش ہے۔ اسرائیل کی جنگ امریکہ لڑ رہا ہے جو ان کے اپنے عوام اور فوج لڑنا نہیں چاہتے۔ اسرائیل کے عوام بھی بزدلوں کی طرح اِدھر اُدھر بھٹک رہے ہیں اور موت سے بے حد خوفزدہ نظر آتے ہیں۔ ان حالات سے نکلنے کیلئے امریکہ کے اپنے شہری بھی جنگ کو بند کرنے کیلئے احتجاج کرتے نظر آ رہے ہیں۔ اسرائیل اور امریکہ کو جنگ بندی کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ انہوں نے ایران پر جنگ مسلط کی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے کچھ ممالک کو اس تنازع کو کم کرنے کیلئے ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ عمان، قطر،ترکی اور پاکستان کو سفارتی مذاکرات کے ذریعے فریقین کو بات چیت پر آمادہ کرنا چاہیے جبکہ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں بھی جنگ روکنے کیلئے دباؤ ڈالیں تو کامیابی ہو سکتی ہے۔ ایران جان ماست! یہ نعرہ صرف الفاظ نہیں بلکہ ایک قوم کی اپنے وطن سے بے پناہ محبت، قربانی، استقامت کی علامت ہےّ یہ نعرہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ وطن کی حفاظت صرف فوجی طاقت سے نہیں بلکہ قومی یکجہتی، حوصلے اور قربانی کے جذبے سے ممکن ہے۔ ایران کی عظمت، وقار اور روشنی اسی جذبے میں زندہ ہے یہی وجہ ہے کہ ہر ایرانی فخر سے یہ کہتا ہے۔ ایران ہماری جان ہے۔ اللہ سب کا حامی و ناصر ہو۔
