یہ آگ کیسے بجھے گی؟
دنیا بھر میں اِس وقت سب سے اہم سوال یہی ہے کہ امریکہ و اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد جس میں آیت اللہ خامنہ ای شہید ہوئے،جو آگ بڑی تیزی سے جنگ کی صورت میں پھل رہی ہے وہ کیسے بجھے گی؟ بظاہر یوں لگ رہا ہے اِس بار امریکہ ایک گہرے جال میں پھنس گیا ہے۔خود امریکہ کے اندر سینیٹرز اور دیگر بڑے عہدیدار ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران پر حملے کے فیصلے کو غلط قرار دے رہے ہیں اُدھر بھی وہ ایک ایسی جھنجھلاہٹ کا شکار ہوتے دکھائی دے رہے ہیں،جو مزید غلطیوں کا باعث بنتی ہے مثلاً یہ خبر بھی آ چکی ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف زمینی فوج بھی اتارنے کا فیصلہ کرنے والا ہے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے جو اپنی ہی ایک خاص بادشاہت کھڑی کر کے دیگر ممالک کے سربراہان کو اُٹھانے یا مارنے کی پالیسی متعارف کرائی ہے کوئی مہذب ملک اُس کی حمایت نہیں کر سکتا،خود برطانیہ جیسے امریکہ کے پرانے حلیف برطانیہ کے وزیراعظم نے ایوان میں بیان دیا ہے کہ برطانیہ اِس جنگ میں شامل نہیں ہو گا۔دیکھا جائے تو امریکہ اِس حوالے سے ایک تنہائی کا شکار ہو چکا ہے۔ حتیٰ کہ خلیجی ممالک بھی اس بات پر امریکہ سے جواب طلب ہیں کہ اِس مشکل گھڑی میں وہ انہیں تنہا کیوں چھوڑ گیا ہے۔ایرانی میزائلوں کی بارش کو مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں کوئی روکنے والا نہیں ہے۔امریکہ نے صرف اسرائیل کو تحفظ دینے کی جو حکمت عملی اختیار کی ہے اُس کی وجہ سے سعودی عرب، بحرین، کویت، اردن، قطر اور دیگر امریکی حلیف ممالک گہری تشویش میں مبتلا ہو چکے ہیں لمحہ موجود میں مشرقِ وسطیٰ گویا دنیا سے کٹ چکا ہے۔ فلائٹ آپریشن بند ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز بھی بند کر دی ہے۔تجارت کا راستہ بھی نہیں رہا، جب آپ کسی دشمن کا بہت بڑا نقصان کر دیتے ہیں تو پھر آپ کے پاس اسے ڈرانے کے لئے کچھ بچتا ہی نہیں۔ایران کے عوام اور قیادت میں اس وقت ایک اشتعال موجود ہے اور اس کی سمجھ بھی آتی ہے کیونکہ ایران کے اقتدارِ اعلیٰ کو جس طرح امریکہ و اسرائیل نے ایک حملے کے ذریعے تاراج کیا ہے،اُس کے بعد اگر وہ سرنڈر کر جاتے،امریکہ اور اسرائیل کی عملداری مان لیتے تو آج ایران شاید اپنی سلامتی کے بحران سے دوچار ہو جاتا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا غیر سنجیدہ اور لاابالی پن امریکہ کو دلدل میں دھکیل رہا ہے اُن کی باڈی لینگویج اُس وقت دیکھنے والی تھی جب وہ ایران پر حملے اور آیت اللہ خامنہ ای سمیت بڑی ایرانی قیادت کو مارنے کی خبر کے بعد پینٹاگان سے واپس وائٹ ہاؤس پہنچے۔یوں لگ رہا تھا وہ ایک بڑی فتح کے نشے سے سرشار ہیں آگے کا منصوبہ تو یہی تھا کہ قیادت ختم ہوتے ہی ایرانی عوام لڑکوں پر نکل آئیں گے اور چالیس سال سے قائم رجیم کا تختہ اُلٹ دیں گے۔ امریکہ کے کٹھ پتلی رضا شاہ پہلوی بھی امریکہ میں بیٹھے اسی بات کا انتظار کر رہے تھے، مگر ایرانی عوام نے بازی پلٹ دی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا خیال تھا جس طرح وینزویلا کے صدر کو اغواء کرنے کے بعد وینزویلا کے عوام نے امریکی غلامی قبول کر لی اسی طرح ایرانی عوام بھی کر لیں گے، حالانکہ ایران اور وینزویلا میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ایران کے عوام ایک تاریخی ورثے کے مالک ہیں جو ظلم اور جبر کے خلاف مزاحمت سے جڑا ہے۔ان کے ایمان اور نفسیات میں امام حسینؓ اور یزید کی کشمکش زندہ ہے اور وہ یزید کو شکست دینے کے نظریے پہ یقین رکھتے ہیں۔اپنے لیڈر کی شہادت کے بعد ایرانی عوام سے یہ توقع کوئی احمق ہی کر سکتا ہے کہ وہ اس کے بدلے میں جارح کی غلامی قبول کریں گے۔اندازے کی یہی غلطی معاملات کو بگاڑ گئی ہے اور اب کسی کو بھی یہ معلوم نہیں جو لڑائی شروع ہوئی ہے وہ کب اور کیسے ختم ہو گی۔تشویشناک بات یہ بھی ہے کہ اس وقت کوئی بھی ایسا فورم یا ثالث کا ملک نہیں جو درمیان میں آئے اور ایران کو راضی کرے کہ وہ اس جنگ کو بند کر دے، کیونکہ ایرانی یہ سوال کر رہے ہیں کہ جب اقوام متحدہ یا سلامتی کونسل نے امریکہ کو جارحیت سے نہیں روکا تو ایران کو ردعمل دینے سے کیسے روک سکتا ہے۔امریکہ تو دور بیٹھا ہے لیکن زندگی مشرق وسطیٰ میں مفلوج ہو چکی ہے۔اسرائیل بھی اس صرف دفاعی پوزیشن میں ہے اور ایران پر حملے کی سکت اُس میں بھی نہیں رہی۔ ڈونلڈ ٹرمپ اس حوالے سے بھی اعتبار کھو چکے ہیں کہ انہوں نے ایک طرف ایران کو مذاکرات میں الجھائے رکھا اور دوسری طرف اچانک حملہ کر کے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو شہید کر دیا۔اب اس کے بعد وہ کس طرح ایران کو مذاکرات پر مجبور کر سکتے ہیں ہاں وہ بس دھمکیاں دے سکتے ہیں جو وہ دے رہے ہیں،حالانکہ سیانے کہتے ہیں دھمکیاں اُس وقت کارگر ہوتی ہیں جب ہم اپنا سب سے بڑا وار چھپا کے رکھتے ہیں یہاں تو امریکہ اپنا آخری وار کر گیا ہے۔اس وقت ایران میں تو خوف کی نہیں غصے کی فضا ہے۔ اب یہ کہا جا رہا ہے کہ امریکہ ایک بڑی ہزیمت سے دوچار ہونے جا رہا ہے۔شاید یہ ہزیمت افغانستان سے ناکام و نامراد نکلنے کی ہزیمت سے بھی بڑی ہو۔
اِس وقت سب سے تشویشناک امر یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی لگائی ہوئی آگ سے صرف اسلامی ممالک متاثر ہو رہے ہیں اس طرح یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ و اسرائیل بلواسطہ طور پر اپنا ایجنڈا پورا کر رہے ہیں جوہمیشہ سے اُن کا مقصد رہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اسلامی ممالک کو آپس میں لڑا کے کمزور کیا جائے۔سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے ایران کو وارننگ تو دی ہے کہ وہ میزائل حملے بند کرے، لیکن اس موقع پر اُن کی یہ بات صدا بصحرا ثابت ہو رہی ہے کیونکہ ایرانی قیادت کا موقف ہے وہ شہری آبادی کو نشانہ نہیں بنا رہے بلکہ ان ممالک میں قائم امریکی اڈوں اور جہاں جہاں امریکی فوجی ٹھہرے ہوئے ہیں انہیں ہدف بنایا جا رہا ہے۔اُدھر چین،روس،فرانس، برطانیہ اور دیگر نیٹو اور جی ایٹ کے ممالک اس جنگ میں کودنے کو تیار نہیں نہ ہی وہ ثالثی کے لئے آمادہ ہیں۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ امریکہ نے تمام عالمی قوانین کو روندتے ہوئے ایران پر حملہ کر کے آیت اللہ خامنہ ای اور دیگر سینئر قیادت کو نشانہ بنایا ہے۔اس کے بعد ایران کو اس بات پرراضی کرنا کہ وہ سب کچھ بھول کے امریکی شرائط مان لے ایک ایسی خواہش ہے جسے کم از کم الفاظ میں احمقانہ ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔اس وقت پوری دنیا کی نظریں ایران پر لگی ہوئی ہیں فیصلے کی چابی اب ایران کے پاس ہے کیا پاکستان اِس ضمن میں کوئی کردار ادا سکتا ہے؟دنیا کی نظریں اس سوال پر بھی مرکوز ہیں کیونکہ ایران اب بھی پاکستان کے کردار کو غیرجانبدارانہ سمجھتا ہے کہ اُس نے اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا مگر سوال یہاں بھی یہی ہے کہ کیا پاکستان کے پاس ایران کے زخموں پر رکھنے کے لئے کوئی مرہم ہے؟
